وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے سوک سینٹر میں ادارہ ترقیات کراچی کی 1199 ویں گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر شمشاد بھی موجود تھے، اجلاس میں ادارے کے مختلف انتظامی، مالی اور ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے وزیر بلدیات سندھ کو آگاہ کیا کہ ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی اولین ترجیحات میں شامل ہے،انہوں نے وزیر بلدیات سے درخواست کی کہ ان کے تعاون سے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی بروقت ادائیگی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے کیونکہ یہ ملازمین کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے حکومت سندھ سے قرض کی مد میں رقم حاصل کی جائے، جسے بعد ازاں ادارہ واپس کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے واجبات میں تاخیر ان کے حقوق کی حق تلفی کے مترادف ہے اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن و واجبات کی ادائیگی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے وزیر بلدیات کو بتایا کہ ادارے کے واجبات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) پر بھی واجب الادا ہیں۔ اس پر وزیر بلدیات سندھ نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو ان واجبات کا ازسرِ نو جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔اجلاس میں ڈی جی کے ڈی اے نے بتایا کہ ادارہ مستقبل میں اپنی زمینوں پر قابضین کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ نے ہدایت دی کہ پہلے تمام پلاٹس سے تجاوزات کا خاتمہ کرایا جائے اور بعد ازاں انہیں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پلاٹس کی قیمت کا تعین تھرڈ پارٹی کے ذریعے کرایا جائے تاکہ بہتر قیمت حاصل کی جا سکے۔وزیر بلدیات سندھ نے سرجانی ٹاؤن میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت بھی دی اور کہا کہ ترقیاتی علاقوں میں تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے اور کے ڈی اے اپنی تمام زمینوں کو واگزار کرانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔گورننگ باڈی اجلاس میں ڈائریکٹر لیگل کی پوسٹ کو اپ گریڈ کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس موقع پر سی بی اے کی جانب سے عبدالمعروف صدر کے ڈی اے ایمپلائز یونین نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جسے وزیر بلدیات نے ملازمین کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کر لیا۔اجلاس میں گریڈ 1 سے 15 تک کے ملازمین کی ترقی کے حوالے سے بھی اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی جس پر وزیر بلدیات سندھ نے مثبت غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیر بلدیات سندھ نے ہدایت کی کہ کے ڈی اے میں فائلوں اور ریکارڈ کے حوالے سے عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے اجلاس کو بتایا کہ ادارے کے لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔اجلاس میں پائی فیکٹری میں موجود اسکریپ کو نیلام کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات اور پنشن کی ادائیگی کے لیے مکمل تخمینہ تیار کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔اس موقع پر ممبر ایڈمنسٹریشن / سینئر ڈائریکٹر لینڈ شکیل صدیقی،ممبر فنانس نثار احمد خان، سیکریٹری کے ڈی اے ارشد خان، ڈائریکٹر ڈی پی یو ڈی رفیق احمد کھوڑو، ڈائریکٹر لینڈ عاطف نقوی، ڈائریکٹر فنانس ناصر خان،ڈائریکٹر آئی ٹی عباس علی، ڈپٹی ڈائریکٹر بجٹ سہیل باسط، بجٹ آفیسر محمد ناصر خان،سپرنٹنڈنٹ بجٹ محمد عدیل و دیگر افسران موجود تھے۔






