وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک اژدہام کے مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بڑے فیصلے کئے گئے ہیں۔جن کے مطابق ون وے خلاف ورزی، غیر محفوظ یوٹرنز، غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے جامع پلان کی منظوری بھی شامل ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات پر صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک اژدحام کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر بھر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم اور سخت فیصلے کیے گئے۔
ون وے اور پارکنگ قوانین پر سخت عمل درآمداجلاس میں ون وے کی خلاف ورزی روکنے کے لیے 20 مقامات پر ناکارہ ٹائر برسز کی فوری مرمت، 19 مقامات پر کھلے مین ہولز بند کرنے اور 35 مقامات پر نو پارکنگ اور ون وے کے سائن بورڈز فوری طور پر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔غیر ضروری یوٹرنز بند، سہولت کے لیے آزمائشی اقدامات،ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے 14 غیر ضروری اور غیر محفوظ یوٹرنز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے لیے 3 مقامات—کبوتر چوک رنگ روڈ، پشتخرہ چوک رنگ روڈ اور حیات آباد—میں یوٹرنز آزمائشی بنیادوں پر کھولنے کی منظوری دی گئی۔
جدید ٹریفک نظام اور سڑکوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری
اجلاس میں 11 اہم چوراہوں پر جدید ٹریفک سگنلز نصب کرنے اور 14 اہم شاہراہوں پر سنٹر میڈین کی فوری تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 6 مقامات پر کنکریٹ بلاکس کی جگہ مستقل آئرن گرلز لگانے کی منظوری دی گئی۔تجاوزات، ریڑھی بازار اور پارکنگ مسائل کے خاتمے کے فیصلے،ٹریفک کی روانی میں سب سے بڑی رکاوٹ بننے والے 25 مقامات پر قائم ہتھ ریڑھی بازاروں کو متبادل مقامات پر منتقل کرنے، 4 مقامات پر پارکنگ پلازوں کی تعمیر کی تجویز اور 5 مقامات پر سڑکوں پر حائل بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبے فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
فٹ بریجز اور پیدل سہولیات کی بحالی شہر کے 16 مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کی فوری مرمت و بحالی کا فیصلہ بھی اجلاس میں کیا گیا۔
انڈر پاسز کی تعمیر
صوبائی حکومت کی جانب سے منتخب کردہ 4 مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
متعلقہ اداروں کی بھرپور شرکت
اجلاس میں چیف کیپٹل ٹریفک پولیس، ڈی جی کیپٹل میٹروپولیٹن، ٹریفک مجسٹریٹ، پی ڈی اے، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے انتظامی افسران اور جنرل منیجر اے وی ٹی خیبر جمشید علی خان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
48 گھنٹوں میں پیش رفت رپورٹ طلب ،کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے تمام فیصلوں پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے 48 گھنٹوں بعد پیش رفت کے جائزے کے لیے دوبارہ اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا۔
فوکل پرسن نامزد، مشترکہ فیلڈ وزٹس کی ہدایت
کمشنر پشاور ڈویژن نے ٹریفک اژدحام کے مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے فوکل پرسنز کے نام طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹوں کے مقامات کا مشترکہ دورہ کیا جائے اور فوری عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
غفلت پر زیرو ٹالرنس پالیسی
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ ٹریفک اژدحام پر قابو پانے کے لیے سخت اور فوری فیصلے ناگزیر ہیں، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت یا لاپرواہی برتنے والے افسران کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔






