میئر پشاور حاجی زبیر علی اور سابق گورنر نے خیبر آئی فانڈیشن کی دوسری برانچ کا افتتاح کیا۔پشاور سابق گورنر حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ کسی کی آنکھوں کو بینائی لوٹانے کی کوششیں بلا معاوضہ کرنا کسی طور بھی اجر عظیم سے کم کی خدمت نہیں ، اور یہ خدمت سالوں سے خیبر آئی فانڈیشن مخیر حضرت کے تعاون سیسر انجام دیے جا رہا ہے، ہر مہینے تین سو سے زائد غریبوں کی آنکھوں کے آپریشنز مفت کیے جاتے ہیں، اسکی دوسری برانچ کے افتتاح نے ثابت کر دیا کہ یہ پودا اب ایک تناور سایہ دار پھل دار درخت بن چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ورسک روڈ آبشار کالونی میں خیبر آئی فانڈیشن کی دوسری برانچ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انکے ہمراہ میئر پشاور حاجی زبیر علی ، فانڈیشن کے چیئرمین تیمور شاہ، سابق چیئرمینز لقمان شاہ، عدنان عدنان جلیل، خالد سلطان خواجہ خواجہ یاور نصیر ، ڈاکٹر شاد محمد، سیگد ایوب شاہ ڈاکٹر شاد محمد اور دیگر معززین بھی موجود رہے۔سابق گورنر نے میئر کے ہمراہ افتتاح کیا اور اس موقع چیرمین تیمور شاہ خالد سلطان خواجہ یاور نصیر اور عدنا جلیل نے فونڈیشن کے بارے تفصیلی رپورٹ پیش کی میئر پشاور نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کا درجہ اللہ تعالی نے عبادت سے بھی بلند رکھا ہے۔ انہوں نے خیبر آئی فانڈیشن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہر ماہ تقریبا ساڑھے تین سو آنکھوں کے آپریشن بلا معاوضہ انجام دیتا ہے اور کسی بھی مریض سے ایک روپیہ بھی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ یہ تمام خدمات مخیر حضرات کے زکو اور تعاون سے ممکن ہو رہی ہیں، جو غریب اور نادار طبقے کے لیے ایک عظیم سہولت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب پر، بالخصوص مخیر حضرات پر فرض بنتا ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ مجھے فخر ہے کہ آج سے پچیس سال قبل خیبر آئی فانڈیشن گلبرگ میں جس ہسپتال کا افتتاح کیا گیا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے اور اب اس دوسرے جدید ہسپتال کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔تقریب کے اختتام پر سابق گورنر نے یقین دلایا کہ خیبر آئی فانڈیشن کی جانب سے دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا اور عوام کو علاج و معالجے کی ہر ممکن سہولت نہ فرف فراہم کی جائے گی بلکہ مکمل تعاون بھی کیا جائے گا






