وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آبادی میں بےقابو اضافے کو سنگین سماجی اور معاشی چیلنج قرار دے دیا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بے قابو آبادی میں اضافے کو پاکستان کے سنگین ترین سماجی اور معاشی چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے شواہد پر مبنی اور مسلسل خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔وہ میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن (ایم کے آر ایف) اور پاپولیشن کونسل پاکستان کے زیرِ اہتمام خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق سماجی و رویہ جاتی تبدیلی کی مہم کے آغاز کے موقع پر منعقدہ پروگرام “وقفہ – توازن کے لیے” سے خطاب کر رہے تھے، جو ہندو جم خانہ، ناپا آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ پروگرام سے رکنِ سندھ اسمبلی ندا کھوڑو، کنٹری ڈائریکٹر پاپولیشن کونسل پاکستان ڈاکٹر زیبا ستھر، برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم اور ایم کے آر ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ رخ حسن نے بھی خطاب کیا۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 1971 میں ایک تاریخی موڑ دیکھا، جب ملک دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ اس وقت پاکستان کی آبادی تقریباً چھ کروڑ بیس لاکھ تھی، بنگلہ دیش کی آبادی تقریباً سات کروڑ تھی، جبکہ بھارت کی آبادی ساڑھے چون کروڑ سے کچھ کم تھی۔گزشتہ چون برسوں میں آبادی کے رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج بھارت کی آبادی ایک ارب اڑتالیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے، بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ستتر لاکھ ہے، جبکہ پاکستان کی آبادی بڑھ کر پچیس کروڑ نوے لاکھ ہو گئی ہے۔مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ آبادی میں اضافے کے یہ اعداد و شمار واضح تضاد ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی آبادی دو اعشاریہ سات گنا بڑھی، بنگلہ دیش کی تقریباً ڈھائی گنا، جبکہ پاکستان کی آبادی چار اعشاریہ دو گنا تک بڑھ گئی۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اگرچہ بھارت اور بنگلہ دیش میں آبادی بڑھنے کی شرح تقریباً ایک اعشاریہ آٹھ فیصد رہی، تاہم بھارت نے طویل المدتی آبادی کنٹرول پالیسیوں کے باعث پاکستان کے مقابلے میں اپنی شرح نمو ایک اعشاریہ سات فیصد کم رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے 1971 کے بعد بنگلہ دیش جیسا آبادی میں اضافے کا راستہ اختیار کیا ہوتا تو آج ملک کی آبادی تقریباً پندرہ کروڑ پچاس لاکھ ہوتی، جو موجودہ آبادی سے تقریباً دس کروڑ کم ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم کہاں غلطی کر گئے اور بروقت اپنی کوتاہیوں کو کیوں تسلیم نہ کر سکے۔آبادی میں اضافے کو ایک گہرا سماجی مسئلہ قرار دیتے ہوئے جس کے دور رس معاشی اثرات ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1970 کی دہائی میں “چھوٹا خاندان، خوشحال خاندان” جیسے عوامی آگاہی پیغامات باقاعدگی سے ٹیلی وژن پر نشر ہوتے تھے۔ اس وقت صرف پاکستان ٹیلی وژن تھا اور ہم سب یہ پیغامات سن کر بڑے ہوئے۔تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مارشل لا کے دور میں آبادی کنٹرول کو ترجیح نہ دی گئی اور خاندانی منصوبہ بندی کی مہمات آہستہ آہستہ عوامی مکالمے سے غائب ہو گئیں۔ ان کے بقول دیگر ممالک نے بروقت اقدامات کیے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ آبادی میں اضافہ بالآخر معاشی بوجھ بن جائے گا مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں خاندانی منصوبہ بندی کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا، اگرچہ جمہوری حکومتوں کی بحالی کے بعد اس پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی اور غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اپنا کردار ادا کیا لیکن اس کے باوجود نتائج مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکے۔انہوں نے کامیاب اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام نے گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں مؤثر آگاہی پیدا کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس پروگرام سے عوام کو بے حد فائدہ ہوا لیکن اس کے باوجود ہم آج بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کوئی مذہبی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے بلا وجہ مذہبی بحث بنا دیا گیا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔انہوں نے بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں سعودی عرب میں آبادی میں اضافے کی شرح ایک اعشاریہ بائیس فیصد، ایران میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد، عراق میں صفر اعشاریہ چون فیصد اور ترکی میں صرف صفر اعشاریہ بارہ فیصد رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا، جس کی آبادی تقریباً اکتیس کروڑ سے اکتیس کروڑ پندرہ لاکھ کے درمیان ہے نے بھی بڑے معاشی تقاضوں کے باوجود اپنی آبادی کو منظم رکھا ہے۔پاکستان کے جغرافیے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک کا رقبہ تقریباً آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے لیکن اس کے باوجود ہم ایک پائیدار آبادی مینجمنٹ پروگرام بنانے میں ناکام رہے ہیں۔تقریب کے دوران پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور جامع سماجی و رویہ جاتی تبدیلی کی ابلاغی مہم (سوشل اینڈ بیہیوئر چینج کمیونیکیشن) کا بھی آغاز کیا گیا جو میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن اور پاپولیشن کونسل پاکستان کے اشتراک سے شروع کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ایسی کاوشیں ملک کو باخبر فیصلوں اور طویل المدتی سماجی و معاشی استحکام کی طرف لے جائیں گی۔مراد علی شاہ نے پاکستان میں آبادی میں اضافے اور پولیو کے خاتمے کو دو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں مسائل سے نمٹنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔تاریخی تناظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے وقت ایک خاتون اوسطاً سات بچوں کو جنم دیتی تھی، جو اس وقت بنگلہ دیش جیسی ہی صورتحال تھی۔ آج پاکستان میں زرخیزی کی شرح تقریباً تین اعشاریہ پانچ سے تین اعشاریہ چھ ہے جبکہ بنگلہ دیش اسے کم کرکے تقریباً دو تک لے آیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں مانع حمل ذرائع کے استعمال کی شرح تقریباً 34 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح 62 فیصد ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش نے آبادی کنٹرول کو قومی بقا کا مسئلہ قرار دیا، جبکہ پاکستان میں اسے زیادہ تر ایک سماجی مسئلہ سمجھا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نے قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آبادی کی پالیسیاں بنائیں جبکہ پاکستان میں پالیسیاں بار بار تبدیل ہوتی رہیں۔ طویل مارشل لا ادوار نے ان پالیسیوں کو شدید نقصان پہنچایا، حتیٰ کہ آبادی کنٹرول پر بات کرنا بھی ایک ممنوع موضوع بن گیا۔ماضی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا آغاز کیا، جس کے تحت نچلی سطح پر خواتین کو بھرتی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ کا پیغام بالکل واضح تھا اور انہوں نے اس پروگرام میں علمائے کرام کو بھی شامل کیا۔انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی بہتر تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادی پر پابندی جیسے معاملات کو بھی بلا وجہ تنازعات کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں لیکن وقت ابھی مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلا۔ تاہم اب اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہمیں پہلے سے پندرہ سے بیس گنا زیادہ محنت کرنا ہوگی۔وزیراعلیٰ نے میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ جیو نیٹ ورک کے نوجوان کارکنان، محکمہ آبادی منصوبہ بندی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور پاپولیشن کونسل کو مل کر کام کرنا ہوگا جبکہ ابلاغی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ایک اور سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیو اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں یہ مرض اب تک موجود ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ دو فروری سے آٹھ فروری تک جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ مہم کے دوران انہوں نے میڈیا مالکان کو خطوط لکھ کر درخواست کی تھی کہ ہر خبرنامے سے قبل پندرہ سیکنڈ کے پولیو آگاہی پیغامات نشر کیے جائیں اور کہا کہ وہ ایک بار پھر خطوط لکھیں گے۔انہوں نے میڈیا مالکان سے اپیل کی کہ کم از کم ہر خبرنامے کے ابتدائی دس سیکنڈ بچوں کے مستقبل کے نام کیے جائیں اور والدین سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ انہیں اس مہلک مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے رائے عامہ کی تشکیل میں میڈیا کے طاقتور کردار پر زور دیتے ہوئے میڈیا اداروں سے کہا کہ وہ عوام کو مثبت اور فلاحی مقاصد کی جانب رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں میڈیا کا کردار نہ صرف جیو بلکہ پورے ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button