میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کا ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا اور متاثرہ عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کمشنر کراچی کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی تھی جبکہ واقعہ کی ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی ہے، جلد ہی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آ جائے گی، سانحہ گل پلازہ کے متاثرین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس المناک واقعہ میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، سانحہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے،گل پلازہ میں آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے 19 لاکھ 15 ہزار گیلن پانی استعمال کیا گیا، آج صبح صحافیوں کے ہمراہ حب ریزروائر کا دورہ کیا جہاں چالیس سال بعد ریزروائر پر واقع 15 ایم جی ڈی ٹینکوں کی صفائی کا کام جاری ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کارساز شارع فیصل پر واقع کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، منتخب نمائندے اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد حب ڈیم مکمل طور پر بھر چکا ہے، حب ڈیم پر نئی کینال تعمیر کی گئی ہے جبکہ پرانی کینال کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں،حب ڈیم میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ شہر کو 100 ایم جی ڈی کے حساب سے اگلے تین سال تک پانی فراہم کیا جا سکتا ہے جبکہ پرانی کینال کی مکمل مرمت کے بعد 200 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، نئی کینال کا کام آٹھ ماہ میں مکمل کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے 100 ایم جی ڈی پانی کی مقدار بڑھانے سے متعلق بات چیت کا آغاز کیا گیا تاہم پانی کی فراہمی شروع ہونے پر ریزروائر میں کیپسٹی کا چیلنج درپیش تھا، اس وقت ساڑھے سات، ساڑھے سات ایم جی ڈی کے دو ریزروائر موجود ہیں جس کے ذریعے 15 ایم جی ڈی پانی ضلع غربی اور کیماڑی تک پہنچایا جا سکے گا،میئر کراچی نے کہا کہ ایل ایس آر پمپنگ اسٹیشن کی مرمت اور بحالی سے متعلق بھی اقدامات کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں چار سے ساڑھے چار ایم جی ڈی اضافی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، انہوں نے کہا کہ ذمہ داری ہمیشہ قیادت کی ہوتی ہے، لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن قیادت جوابدہ رہتی ہے،انہوں نے کہا کہ انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں، جو لوگ تکلیف اور پریشانی میں ہیں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہمیں اپنے کردار سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی قیادت عوامی مسائل پر سیاست نہیں کرتی، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں راوی دریا کے قریب سوسائٹی تباہ ہو گئی مگر اسے سانحہ قرار نہیں دیا گیا،میئر کراچی نے کہا کہ وہ تنقید سے گھبرانے والے نہیں، کورنگی کازوے کے پل کی تعمیر سے قبل بھی ان پر تنقید ہوتی رہی مگر انہوں نے کورنگی اور ابراہیم حیدری کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا،کراچی کے شہریوں کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کے لیے چھ ارب روپے کی لاگت سے پل تعمیر کیا گیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر کسی کو بولنے کا حق ہے مگر وہ قانون کے مطابق بات کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے قانون پڑھا ہے، ان کا ماننا ہے کہ جہاں پیسہ خرچ ہوا ہے وہاں عوام مستفید بھی ہوئے ہیں، کام وہی ہونا چاہیے جس کا فائدہ طویل عرصے تک ملے،بلدیاتی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ماضی میں قانون شکنی اور بدانتظامی کے باعث اداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، پاکستان کے بلدیاتی اداروں میں پہلے سیپ سسٹم موجود نہیں تھا جسے پیپلز پارٹی کی قیادت نے باقاعدہ متعارف کرایا تاکہ بے ضابطگیوں کا خاتمہ ہو سکے،انہوں نے کہا کہ دوہری ملازمت کرنے والے عناصر کی وجہ سے اداروں کو بھاری نقصان پہنچتا رہا، گزشتہ سال کے ایم سی کی تنخواہوں کا نظام سیپ سسٹم پر منتقل کیا گیا اور اب کے ایم سی کی تمام تنخواہیں اسی نظام کے تحت ادا کی جا رہی ہیں، جلد ہی واٹر کارپوریشن میں بھی سیپ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے،میئر کراچی نے انکشاف کیا کہ 73 واٹر کارپوریشن کے ملازمین دگنی تنخواہ لیتے ہوئے پکڑے گئے، جبکہ ادارے میں کل 8360 ملازمین ہیں، جن میں سے ساڑھے پانچ ہزار کو سیپ سسٹم پر منتقل کیا جا چکا ہے، ان میں سے سات ملازمین ایسے بھی تھے جو کے ایم سی سے بھی تنخواہ لے رہے تھے،انہوں نے بتایا کہ واٹر کارپوریشن کے 8954 پینشنرز ہیں اور ہدف یہ ہے کہ مارچ کی تنخواہ سیپ سسٹم کے تحت ادا کی جائے، سیپ سسٹم کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور نظام بہتری کی جانب گامزن ہے،میئر کراچی نے کہاکہ 30 جون تک تمام ٹھیکے، ٹینڈرز، چیکس اور پینشن کی ادائیگیاں سیپ سسٹم کے ذریعے کی جائیں گی تاکہ چیک کا نظام ختم ہو،آئندہ تین سے پانچ سالوں میں مالی معاملات مزید بہتر ہوں گے،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی 46 ارب روپے کی لاگت سے شہر بھر میں سڑکوں کی مرمت کا کام کرے گی اور اپنے لوگوں کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ نیب وفاقی وزیر داخلہ نہیں بلکہ چیئرمین نیب چلاتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ نہ ان کی چیئرمین نیب سے ملاقات ہوئی ہے اور نہ ہی کسی اور سے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کے ایم سی نے کئی سال کام نہیں کیا مگر نیب کی جانب سے کوئی انکوائری نہیں ہوئی،انہوں نے گل پلازہ کی لیز سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیز ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے دور میں دی گئی اور 2003 میں عمارت کو ریگولرائز کیا گیا، 8 جولائی 1983 میں لیز ختم ہو چکی تھی اور اس کے تمام کاغذی ثبوت موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے عمارت سے متعلق تمام تفصیلات سامنے رکھ دی ہیں، اگر کوئی الزام لگاتا ہے تو وہ بھی ثبوت کے ساتھ بات کرے۔






