چیئرمین واٹر کارپوریشن و میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے KW&SC Unified App کا افتتاح کردیا

چیئرمین واٹر کارپوریشن و میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کارساز شارع فیصل پر واقع کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے صدر دفتر میں KW&SC Unified App کا باضابطہ افتتاح کر دیا،اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی،چیف آپریٹنگ آفیسر اسد اللہ خان، چیف فنانشل آفیسر عمار علی خان،چیف آئی ٹی آفیسر سعادات انور، ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے چیف آفیسر نیئر سمیت دیگر بھی موجود تھے، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ادارے کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس ایپ کی تیاری میں جن افسران نے محنت کی ہے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں، میں چاہتا ہوں کہ اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھا جائے،انہوں نے کہا کہ سیپ سسٹم کے نفاذ کے دوران جعلی بھرتیوں کی نشاندہی میں بھی مدد ملی جبکہ واٹر کارپوریشن کے ساڑھے آٹھ ہزار ملازمین میری ٹیم کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہری سوال کرتے ہیں کہ واٹر کارپوریشن میں نیا کیا ہو رہا ہے اور میں عوام کو یہ کیسے بتاؤں کہ ہمارے دور میں سروس میں بہتری آئی ہے تاہم یہ ایک مسلسل عمل ہے اور ہمیں اس سروس کو مزید بہتر بنانا ہے، ماضی میں واٹر کارپوریشن کی آمدن 95 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہوتی تھی جس کا نوے فیصد حصہ تنخواہوں میں خرچ ہو جاتا تھا اس وجہ سے کوئی بڑا ترقیاتی کام ممکن نہیں تھا،

انہوں نے کہا کہ جنوری 2026 میں 2 ارب 20 کروڑ روپے واٹر کارپوریشن کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں جس کے بعد اب ادارے کے پاس ترقیاتی کاموں اور سروس بہتری کے لیے گنجائش پیدا ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آمدن میں اضافے کا فائدہ براہِ راست شہریوں کو پہنچنا چاہیے، انہوں نے بتایا کہ ایل ایس آر پمپنگ اسٹیشن کی کیپسٹی میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ذمے واٹر کارپوریشن کے12 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ اسٹیل مل کی جانب سے اسٹیل ٹاؤن کا پانی بند کیے جانے سے وہاں مقیم غریب اور محنت کش آبادی شدید متاثر ہے،انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی ٹیم کو ہدایت دی گئی کہ اسٹیل ٹاؤن کی آٹھ سے دس لاکھ آبادی کے لیے پانی کا فوری حل نکالا جائے کیونکہ پانی ان کا بنیادی حق ہے۔ ٹیم کی محنت سے 50 کروڑ روپے کی لاگت سے اسٹیل ٹاؤن میں پانی کی نئی لائنوں کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا اور امید ہے کہ رمضان تک تمام کام مکمل کر لیا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ پہلے شکایات کے لیے 1334 پر کال کی جاتی تھی، اب اسی نظام کو جدید شکل دے کر یونیفائیڈ ایپ متعارف کرائی گئی ہے جو اردو، انگریزی اور سندھی تین زبانوں میں دستیاب ہے، انہوں نے کہا کہ شہری ٹینکر کے مہنگے داموں کی شکایات کرتے تھے، اس ایپ میں آن لائن ادائیگی کی سہولت موجود ہے جس سے کرپشن اور غیر شفاف پیکیج سسٹم کا خاتمہ ممکن ہوگا،انہوں نے کہا کہ ایپ کے ذریعے شہریوں کو معلوم ہو سکے گا کہ کتنے ٹینکر روانہ ہوئے اور اس مد میں کتنی رقم ادارے کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی، میئر کراچی نے کہا کہ جدت لانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی بھی ادارہ وسائل کے بغیر نہیں چل سکتا، بدقسمتی سے شہر کو روزانہ550 ملین گیلن پانی درکار ہے، صنعتی ضروریات اس کے علاوہ ہیں، اس حساب سے ماہانہ 5ارب روپے آمدن ہونی چاہیے، مگر یہ رقم وصول نہیں ہو پا رہی،انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گھروں میں بل نہیں آتا، اب ایپ پر کنزیومر نمبر ڈالنے سے بل فوری حاصل کیا جا سکے گا جبکہ تمام اخراجات کو سیپ سسٹم میں شامل کیا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ حالات اگرچہ ابھی مثالی نہیں ہوئے مگر بہتری واضح طور پر نظر آ رہی ہے اور شہر کے وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے کراچی کو بہتر بنایا جا سکے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو آگے بڑھانے کے لیے ہم سب کو اپنے رویے درست کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارا واضح ٹارگٹ یہ ہے کہ وسائل کو شہر کے مفاد میں خرچ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی سیاست نہیں، کام مانگتا ہے اور میں اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوں،ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے نعیم الرحمان کی قسمت میں میئر بننا نہیں لکھا تھا، اسی لیے وہ میئر نہیں بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو وہ بطور یوسی چیئرمین اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے رکن سندھ اسمبلی کا حلف لیا ہے، اس کے باوجود وہ ہمیں الٹی میٹم دے رہے ہیں، میئر کراچی نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو بغیر اجازت دھرنا دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی 9ٹاؤنز میں حکومت ہے اور ان کے پاس اربوں روپے موجود ہیں، پہلے وہ اپنی یوسیز اور ٹاؤنز کی حالت دیکھیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ میں پورے شہر کا میئر ہوں، کیا کسی ایک جگہ میری تصویر یا پوسٹر نظر آتا ہے؟ یہ خود پسندی اور نمائش کی سیاست کون لوگ کر رہے ہیں، سب کے سامنے ہے، انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں انہیں تحفے میں آئینہ دے دوں تاکہ وہ خود کو دیکھ سکیں،انہوں نے کہا کہ شہر میں جگہ جگہ جماعت اسلامی کے جھنڈے نظر آتے ہیں مگر میرا ذاتی ماننا یہ ہے کہ شہر کو جھنڈے نہیں بلکہ کام چاہئیں،جہاں بھی مجھ پر یا کسی اور پر الزام لگے گا، وہاں تحقیقات کروائی جائیں گی اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ اس سال 46 ارب روپے خرچ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور جتنی شفافیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی ہم وہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ جب ہائیڈرنٹس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو لوگوں کے فون آئے کہ پچاس سال سے ان کے علاقوں میں پانی نہیں آیا مگر اس کے باوجود میں آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہوں کیونکہ غیر قانونی نظام کو ختم کرنا ضروری تھا،میئر کراچی نے کہا کہ ریسکیو 1122 اور محکمہ فائر بریگیڈ دونوں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کام کررہی ہیں تاہم میرا ماننا ہے کہ یہ نظام ون ونڈو آپریشن ہونا چاہیے، اس حوالے سے بات چیت اور مشاورت کا عمل جاری ہے،انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں گٹر کے ڈھکن چوری ہو چکے ہیں وہاں نئے ڈھکن لگوائے جا رہے ہیں تاہم شہریوں کو بھی گٹر کے ڈھکنوں کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مین ہولز کے کور بغیر لوہے کے بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ چوری کے واقعات کو روکا جا سکے،میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم میرے بھی وزیر اعظم ہیں، میں ان کی فکر کیوں نہ کروں، انہیں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے برسوں سے ایک دوسرے پر اتنی الزام تراشی کی ہے کہ جس سے اداروں کی رٹ کمزور ہو گئی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ الزام تراشی کے بجائے اداروں کو مضبوط کیا جائے اور شہر کے مفاد میں مل کر کام کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button