میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے باغِ جناح فریئر ہال میں تین روزہ چھٹے سالانہ میری گولڈ فلاور شو کا باقاعدہ افتتاح کردیا، اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو پھولوں اور سبزہ زاروں کا شہر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، شہر کی خوبصورتی میں اضافہ اور ماحول کی بہتری ان کی ترجیحات میں شامل ہے،تین روزہ فلاور شو میں ایک لاکھ سے زائد مختلف اقسام کے پھول اور پودے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جن میں میری گولڈ سمیت ایک لاکھ 12ہزار پھول شامل ہیں جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نرسری میں تیار کیے گئے، انہوں نے کہا کہ

پارکس کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے جبکہ شہریوں میں پودوں اور درختوں کی اہمیت سے متعلق شعور بیدار کرنا فلاور شو کا بنیادی مقصد ہے، شہری اپنی فیملیز کے ہمراہ فلاور شو دیکھنے آئیں، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں اربن فاریسٹ اور شجرکاری کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، انہوں نے آئندہ دنوں میں شہر کے ساتوں اضلاع میں پھولوں کی نمائش کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا، انہوں نے نیم، برگد، گلِ مور، چیکو، بادام، امرود اور دیگر موسمی پھولوں اور پودوں کی شجرکاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج صبح انہوں نے اسکول کے بچوں کو فلاور شو میں دیکھا، اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ بچوں کو شجرکاری کی افادیت سے آگاہ کریں اور پودوں کی دیکھ بھال میں کے ایم سی محکمہ پارکس کا ساتھ دیں، دس سے بارہ سال میں یہی پودے درخت بن کر ماحول کو بہتر بناتے ہیں، اس حوالے سے سول سوسائٹی اور اسکول انتظامیہ کو جو سپورٹ درکار ہوگی، بلدیہ عظمیٰ کراچی فراہم کرے گی،انہوں نے کہا کہ فریئر ہال کی تاریخی عمارت 1865 میں تعمیر ہوئی جبکہ یہاں موجود کئی درخت پچاس سال سے زائد قدیم ہیں، کلائمیٹ چینج اور گلوبل وارمنگ ماحول کے لیے بڑے چیلنج ہیں، انہوں نے نے محکمہ پارکس کی پوری ٹیم کو فلاور شو کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مل کر کام کریں گے تو کراچی کو مزید خوبصورت بنایا جا سکتا ہے،میئر کراچی نے میڈیا کے سوال کے جواب میں حالیہ گل پلازہ سانحے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک واقعات پر سیاسی بیان بازی سے شہر کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی ہو یا لاہور، فیصل آباد ہو یا راولپنڈی، جہاں بھی سانحہ ہوگا اسے سانحہ ہی کہا جائے گا۔ سیاسی رسہ کشی سے شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، جہاں غلطی ہوگی وہاں وہ اپنے عملے کی سرزنش کریں گے،میئر کراچی نے کہا کہ فائر سیفٹی سے متعلق اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے، تعصب اور محض پریس کانفرنسز سے کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر اور صنعتکار اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں مگر سانحہ پر وفاق کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ وہ کراچی آتے اور متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سانحے کی آڑ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ حقائق پر مبنی گفتگو اور عملی اقدامات ضروری ہیں، اس موقع پر میئر کراچی نے محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں میں تعریفی ایوارڈ بھی تقسیم کئے۔






