رواں سال کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال ہوگا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی(بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال کے آغاز میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 2026 کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال ہوگا اور اب اس وعدے کو عملی شکل دیتے ہوئے منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی اس سال 1058 ترقیاتی اسکیموں پر کام کر رہی ہے جن میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور پرانی عمارتوں کی مرمت شامل ہے جبکہ ٹاؤنز کی اندرونی گلیوں میں بھی ترقیاتی کام کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے، انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے لیکن شہر کے کئی تجارتی مراکز کا حال بہت خراب تھا، اسی لیے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی کے لیے 75 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جہاں لی مارکیٹ، کھجور مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ کے اطراف میں ترقیاتی کام جاری ہیں جبکہ سٹی کورٹ کے عقب میں بھی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، شہر کی دیگر کمرشل مارکیٹوں کی بہتری کے لیے بھی ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے اور نرسری کی فرنیچر مارکیٹ میں بھی ترقیاتی کام شروع کر دیے گئے ہیں جہاں روزانہ ہزاروں افراد آتے ہیں، عید کے بعد اس کام کو مکمل کرلیا جائے گا، انکل سریا اسپتال سے این جے وی اسکول تک کی سڑک پر تعمیراتی کام کا آغازکردیا گیا ہے، قائد آباد فلائی اوور کے نیچے مارکیٹ بہتری بھی منصوبے کا حصہ ہے، بنارس کے علاقے میں خراب صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کام شروع کیا جا چکا ہے جبکہ بلدیہ کے علاقے میں ایک ارب روپے سے زائد لاگت کی 24 مارکیٹوں میں بھی ترقیاتی کام جاری ہیں۔ کراچی کے پرانے ورثے کو بھی بہتر کرنے کا عزم اٹھایا ہے جبکہ ایمپریس مارکیٹ کی بحالی کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے، رمضان المبارک کے باعث تاجروں کے کاروبار کو متاثر کیے بغیر کام کیا جا رہا ہے اور ایمپریس مارکیٹ کے ڈیڑھ سو سال پرانے گھنٹے کو بھی بحال کر دیا گیا ہے جبکہ تین سو گاڑیوں کی پارکنگ بھی تعمیر کی گئی ہے،کے ایم سی بلڈنگ کی سو سال پرانی تاریخی عمارت ہے جس کی بحالی اور بہتری کا کام کیا جا رہا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عمارت کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈینسو ہال کی پرانی مارکیٹ کو درست کیا گیا ہے اور حسن علی ہوتھی مارکیٹ کی تزئین و آرائش مکمل کی جا چکی ہے جبکہ لی مارکیٹ پر کام جاری ہے اور لیاری میں بھی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے، سولجر بازار مارکیٹ جو سو سال قبل تعمیر کی گئی تھی اس کی بحالی کا کام بھی کیا جا رہا ہے جبکہ مچھی میانی مارکیٹ اور کینٹ اسٹیشن سول لائنز مارکیٹ کی مرمت اور بحالی کے منصوبے بھی جاری ہیں،30 جون سے پہلے اس کام کو مکمل کرلیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حب ریور روڈ اور طوری بنگش روڈ کی خراب صورتحال کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا اس لیے طوری بنگش روڈ پر ترقیاتی کام شروع کر دیے گئے ہیں جس پر ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کا وژن ہے کہ کراچی کے ساتوں اضلاع میں یکساں ترقیاتی کام کیے جائیں، میئر کراچی نے کہا کہ کڈنی ہل پر برڈ آوری کے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس پر 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے جبکہ وہاں پانچ لاکھ درخت لگانے میں فاریسٹ ڈپارٹمنٹ اور سول سوسائٹی نے تعاون کیا ہے، اسی طرح گٹر باغیچہ میں عوام کے لیے پارک تعمیر کیا جارہا ہے جبکہ گلشن حدید اسٹیل ٹاؤن کی مرکزی سڑک کی تعمیر پر 50 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیراعلیٰ سندھ نے خالد بن ولید فلائی اوور کا افتتاح کیا جبکہ عظیم پورہ انٹر سیکشن پر بھی فلائی اوور کی تعمیر جاری ہے تاکہ وہاں ٹریفک سگنل ختم کیا جاسکے، انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ انجینئرز سے رابطے میں رہتے ہیں اور رمضان کے دوران بھی ترقیاتی کام جاری ہیں، انہوں نے کہا کہ شارع فیصل اور یونیورسٹی روڈ کو ایک اہم کوریڈور کے طور پر بہتر بنایا جا رہا ہے کیونکہ بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ شارع فیصل، شاہراہ پاکستان، راشد منہاس روڈ، کارساز اور ڈالمیا روڈ پر منتقل ہو جاتا ہے، اس لیے چار ارب روپے کی لاگت سے چار اہم کوریڈورز کو بہتر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ پہلوان گوٹھ کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں کئی دہائیوں سے نئے قبرستان قائم نہیں کیے گئے تھے اس لیے 43 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے قبرستان تعمیر کیے جائیں گے کیونکہ طارق روڈ، عیسیٰ نگری اور دیگر قبرستان مکمل بھر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ میمن گوٹھ روڈ دو ماہ میں مکمل کی جائے گی جبکہ شادمان ٹاؤن میں آئی ٹی پارک کا افتتاح کیا جائے گا اور ماڑی پور روڈ پر اسپورٹس گراؤنڈ کا کام تیزی سے جاری ہے جسے 31 مئی تک مکمل کر لیا جائے گا،انہوں نے بتایا کہ شاداب فٹبال گراؤنڈ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے بلدیہ ٹاؤن میں عوام کے لیے 25 ایکڑ زمین پر اسپورٹس اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے جس پر ایک ارب روپے سے زائد خرچ ہوں گے، اس کے علاوہ شہر کی 26 سڑکوں پر ساڑھے پانچ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر اور بحالی کا کام بھی شروع کیا جا رہا ہے جن میں صہبااختر روڈ، مرزا آدم خان روڈ، خواجہ اجمیر نگری پولیس اسٹیشن سے بابا موڑ سرجانی تک سڑک، شاہراہ عثمان سے اورنگی، میٹروول روڈ، ملیر پندرہ سے سعودآباد اور ہاشم رضا روڈ شامل ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے اسٹریٹ لائٹس کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ نالوں کی بہتری کے لیے بھی ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ سات ہزار روڈ پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور ناتھا خان برج کے متبادل روڈ کی تعمیر بھی کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ صوبائی اے ڈی پی کے تحت 15 ارب روپے جبکہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے تحت 11.6 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جبکہ شہر کی گلی محلوں کی 139 سڑکوں کی بحالی کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ضلع وسطی میں گلبرگ ٹاؤن کی 8 سڑکوں پر 42 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، لیاقت آبادٹاؤن میں 5 سڑکوں 199 ملین روپے، ناظم آباد ٹاؤن میں 7 سڑکوں پر38 کروڑ روپے، نیوکراچی میں 6 سڑکوں پر 74 کروڑ روپے اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں 12 سڑکوں پر تقریباً ایک ارب 71 لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے جبکہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں چنیسر ٹاؤن میں 37 کروڑ روپے کی لاگت سے پانچ سڑکیں بنائی جائے گی، گلشن ٹاؤن میں 40کروڑ روپے کی لاگت سے پانچ سڑکیں،جناح ٹاؤن میں 73 کروڑ روپے کی لاگت سے پانچ سڑکیں، صفورہ ٹاؤن میں 54 کروڑ روپے کی لاگت سے چار سڑکیں، سہراب گوٹھ میں 86 کروڑ روپے کی لاگت سے دو بڑی سڑکیں جبکہ ضلع کیماڑی میں بلدیہ ٹاؤن میں 47 کروڑ رو پے کی لاگت سے 7 سڑکیں بنائی جائیں گی، ماڑی پور ٹاؤن میں 340 ملین روپے کی لاگت سے چھ سڑکیں، موروربہر میں 486 ملین کی لاگت سے پانچ سڑکیں بنائی جائے گی، کورنگی ٹاؤن میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 سڑکیں، لانڈھی ٹاؤن میں 15 کروڑر وپے کی لاگت سے 3 سڑکیں، ماڈل کالونی شاہ فیصل میں 3 سڑکوں کو بنایا جائے گا، ملیر میں گڈاپ ٹاؤن میں 95 کروڑ روپے کی لاگت سے 10 سڑکوں کو بنایا جائے گا، ابراہیم حیدری ٹاؤن میں 333 ملین روپے کی لاگت سے پانچ سڑکوں کو بنایا جائے گا، ملیر ٹاؤن میں 82 کروڑ روپے سے 10 سڑکوں کو بنایا جائے گا، ڈسٹرکٹ ساؤتھ صدر ٹاؤن میں 1.1 ارب روپے کی لاگت سے 9 نئی سڑکوں کو بنایا جائے گا، ڈسٹرکٹ ویسٹ میں منگھوپیر میں 388 ملین روپے،مومن آباد میں 135 ملین اور اورنگی ٹاؤن میں 370 ملین روپے خرچ کرنے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 67 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جبکہ دیگر ادارے جیسے کے ڈی اے، سیف سٹی اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ بھی اپنے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ امانت ہے اور اسے شہر کی بہتری پر خرچ کیا جائے گا، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹاؤنز کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور مشترکہ کوششوں سے ہی شہر کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہر میں سیف سٹی منصوبے پر سندھ حکومت 10 ارب روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ یلو لائن منصوبے پر تقریباً 100 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور کے فور منصوبے پر 77 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے مالی حالات اب پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں اور پنشن کے مسائل کو بھی بڑی حد تک حل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ فیصلے کرنے پر تنقید بھی ہوتی ہے لیکن شہر کی بہتری کے لیے توازن برقرار رکھتے ہوئے کام جاری رکھا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button