وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے راجن پور میں پہلی جدید ترین گرین الیکٹرو بس کا افتتاح کر دیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے راجن پور ڈی ایچ کیو کتاب چوک سے پی سی بی چوک چین ماڑی تک الیکٹرو بس پر سفر کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کاراجن پور پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ راستے میں راجن پور کی علاقائی ڈھول نفیری بجا کر روایتی خیرمقدم کیا گیااور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو علاقائی بلوچی چادر پیش کی گئی۔ کتاب چوک میں ننھی بشریٰ واجد اور طوبی جاوید نے پھول نچھاور کئے اور استقبال میں ”شکریہ تیرا۔ تیرے آنے سے رونق تو بڑھی،ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی”،”تعریف کے محتاج تو نہیں کچھ لوگ، پھولوں کو کبھی عطر لگا یا نہیں جاتا” کے شعر پیش کیے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ننھی بچیوں سے اظہارِ شفقت کیا۔ صوبائی وزیر معدنیات شیر علی گورچانی نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا راجن پور کے عوام کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ صوبائی وزیر شیر علی گورچانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو لاہور کی طرح راجن پور کے لوگوں کا بھی پوری طرح احساس ہے۔ ستھرا پنجاب، امن وامان، باڈر ملٹری پولیس میں بھرتیوں پر وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے راجن پور کے مختلف روٹس پرچلنے والی الیکٹرو بس پراجیکٹ سے آگاہ کیا۔ راجن پور میں 15 بسیں تین روٹس پر چلائی جائیں گی۔ راجن پور سے فاضل پور اور کوٹ مٹھن۔ سٹی سرکلر روڈ کے روٹ پر الیکٹرو بس چلیں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا الیکٹروبس کی افتتاحی تقریب کے پنڈال میں آمد پر حاضرین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے راجن پور میں الیکٹروبس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا اور بہت بڑا اعلان کیے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ”اپنا کھیت، اپنا روزگار“ شروع کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے غریب عوام کو ڈھائی لاکھ ایکڑ زرعی اراضی دینے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے”اپنا کھیت، اپنا روزگار“ پراجیکٹ کے کاشتکاروں کو فصل اگانے کیلئے کسان کارڈ بھی دینے کا اعلان کیا۔ہر تحصیل میں سینٹر آف ایکسی لینس بنانے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار“ کے تحت بے روزگار اور غریب افراد کو 3 سے 5 ایکڑ اراضی دی جائے گی۔کاشتکار کسان کارڈ کے ذریعے کھاد، پیسٹی سائیڈ اور بیج حاصل کر سکیں گے۔وزیراعلیٰ نے پنجاب کی تمام تحصیلوں میں ایک سال میں گرین بس چلانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ محمد نواز شریف صاحب نے راجن پور کے لوگوں کیلئے پیار بھر ا خصوصی سلام بھیجا ہے۔راجن پور کے لوگ محمد نواز شریف کے دل کے بہت قریب ہیں۔ کہتے ہیں راجن پور پنجاب کا آخری ضلع ہے، میں کہتی ہوں پنجاب راجن پور سے شروع ہوتا ہے۔ بلوچ پگڑی، بلوچ چادر اور بلوچ ٹوپی کوسلام پیش کرتی ہوں۔ہیلی کاپٹر کی بجائے فتح پور روڈ پر سفر کرنا پسند کیا، راستے میں خواتین اوربچوں نے جو عزت افزائی کی بھول نہیں سکتی۔ راجن پور اب جنوبی پنجاب کا پسماندہ ضلاع نہیں رہا، پسماندگی اب ختم ہونے جارہی ہے۔راجن پور میں لاہور کی طرح دنیا کی بہترین اور جدید ترین الیکڑو بس چلارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ راجن پور میں 12 ارب روپے کی لاگت سے 72سڑکیں بن رہی ہیں۔ راجن پور کی طرح صوبہ بھر میں 2600جدید ترین اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بس سٹینڈ بنارہے ہیں۔مزدور بچوں اور طلبہ کو دھوپ اور بارش میں قیام کیلئے اچھی انتظار گاہ ملے گی۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان، سیکرٹری ٹرانسپورٹ عمران سکندر بلوچ اور پوری ٹیم کو شاباش دیتی ہوں۔ پنجاب میں 500گرین بسیں چل رہی ہیں، 1100 آئیں گی اور اسی سال 1500مزید بسیں لارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کی کی بہترین بس اب صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ راجن پور میں بھی چلتی ہے۔ساؤتھ پنجاب کو کچھ نہ ملنے کے جھوٹے نعرے لگانے والوں کے دعوے گرین بس نے اپنے پہیے تلے روند دئیے۔ راجن پور کے ہر روٹ پر بس چلے گی اورگھر کے باہر سے پک کرکے منزل تک چھوڑ کر آئے گی۔22کلو میٹر طویل فاضل پور اورراجن پور روٹ اور 18 کلومیٹر طویل کوٹ مٹھن اور راجن پور روٹ پر گرین بس چلائی جارہی ہے۔ گرین بس میں فری وائی فائی، چارجنگ پوٹ اور خواتین کیلئے الگ کمپارٹمنٹ مختص ہے۔انہوں نے کہا کہ ہراسانی کے سدباب کیلئے گرین بس میں سی سی ٹی وی کیمرہ موجود ہے، لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جاری ہے۔ مسافروں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ڈرائیور کی بھی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جاتی ہے تاکہ ڈرائیور کو نیند نہ آجائے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے ہر گرین بس کو لائیو مانیٹر کی جاتا ہے۔ راجن پور کے طلبہ، خواتین، بزرگ اور سپیشل افراد کیلئے گرین بس بالکل فری ہے۔ ہر بس میں و یل چیئراور بٹن سے کھلنے والا آٹو میٹک ریمپ موجود ہے۔گرین الیکٹروبس گرمی ایئر کنڈیشن سے ٹھنڈی اور سردی میں گرم ہوگی، کرایہ صرف20 روپے ہے۔راجن پور میں بہت جلد کوئی سڑک کچی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 20 شہروں میں کیتھ لیب بنا رہے ہیں،

راجن پور میں جلد مکمل ہوجائے گا۔ دل کا مسئلہ ہوتو راجن پور میں ہی علاج ہوگا، بڑوں شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت رواں سال ایک لاکھ70ہزار گھر مکمل ہوجائیں گے۔ کس نے سوچا تھا فتح پور میں ستھرا پنجاب کا ورکر جگہ جگہ صفائی کرتا نظر آئے گا۔ صرف ورکر ہی نہیں بلکہ ستھرا پنجاب کی مشینری بھی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ سی اینڈ ڈبلیو کے ورکر ہر ہر انچ انچ پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمت کارڈ، کسان کارڈ، مینارٹی کارڈ اور راشن کارڈ سے عوام کی خدمت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 15 لاکھ مزدورں اور کارکنوں کو تین ہزارروپے ماہانہ دے رہے ہیں۔ راشن کارڈ کو 30ملین تک بڑھانے چاہتے ہیں تاکہ غریب کا چولہابجھنے نہ پائے۔ خیبرپختونخوا کے سی ایم کسی یونیوسٹی میں گئے سوچا ہوگا کہ بچے واہ واہ اور نعرے لگائیں گیلیکن ایسا نہ ہوا۔ کے پی،کے سی ایم سے طالبہ نے پوچھا جنہیں آپ جعلی حکومتیں کہتے ہیں وہاں ترقی ہورہی۔ کے پی کے 13 سال سے کیوں زوال کا شکار ہے۔ سی ایم نے بچی سے کہا کہ لگتا ہے آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے، کیا یہ جواب ہوتا ہے؟۔کام کرنا ہوتو کچھ مشکل نہیں، دو سال میں پنجاب کی قسمت بدل چکی ہے۔ بچوں سے کہتی ہوں یاد رکھیں، جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو لوگوں کا حق، ترقی،سکون اور امن وامان اور خوشی کھا جاتی ہے۔کے پی کے میں لوگ سوال پوچھتے ہیں،سستی روٹی مانگتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے شعور دیا، شعور سے پیٹ بھر سکتا ہے؟۔ کے پی کے میں گرین بس پوچھتے ہیں، کہتے ہیں ہم نے شعور دیا، شعور پر بیٹھ کر کالج ہسپتال اور روزگار کیلئے جاسکتے ہیں؟ کے پی کے میں پنجاب کے جیسے ہسپتال مانگتے ہیں تو کہتے ہیں کہ شعور دیا۔اب دوائیوں کی جگہ شعور کھائیں، خدارا! شعور کو اپنی سیاسی کمائی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ورکر کے بچوں کیلئے شعور الگ اور حکمرانوں کے بچوں کیلئے شعور الگ ہوتا ہے؟۔ ورکر کا بچہ جعلی شعور کی وجہ سے جیل میں ہے اور اپنے بچہ برطانیہ بیٹھے ہیں، کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے۔ کہتے ہیں ایک وزیر اعلیٰ اڈیالہ جیل کے روڈ پر بیٹھا ہے اور دوسری وزیر اعلیٰ جہاز میں اڑتی ہے، تم جہاز لیکر کہا جاؤں گے؟۔ برازیل میں دنیا کے سامنے ستھرا پنجاب کا ماڈل پیش کیا، کہتے ہیں جہاز لیکربرازیل چلی گئی۔ فوربز، بی بی سی سمیت دیگر انٹرنیشنل اداروں نے ستھرا پنجاب کی تعریف کی۔تم دوسرے ملک میں کیا کرنے جاؤ گے، تمہارے پاس دنیا کو بتانے کیلئے کوئی کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں بسنت ہے، تو پورا پنجاب خوشی منارہا ہے، عوام کے دل خوش ہے تو خوشی منارہے ہیں۔ عوام کیوں نہ خوش ہوں ان کا خیال رکھا جاتا ہیاور ان کیلئے سی ایم پریشان ہوتی ہے۔داتا صاحب میں ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کا سانحہ پیش آیا تو میں نے کہہ دیا کہ جسے نہیں کام نہیں کرنا،گھر چلا جائے۔ بے حسی اور لاپرواہی برادشت نہیں، بے حس لوگ اللہ کیا منہ دکھائیں گے۔ لوگ حکمرانوں سے سوال نہیں کریں گے تو حکومتیں سوتی رہیں گی اور نکمے پن کا مظاہرہ کرتی رہیں گی۔ اچھی صحت، تعلیم، روزگار اور سواری آپ کا حق ہے، مانگنے پرنہیں خود جا کر دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہو ں، پنجاب کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی خدمت کروں، وسائل کی چوکھٹ پر ڈھیر کر دوں۔

جواب دیں

Back to top button