وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن، صوبائی ای اسٹیمپنگ نظام کی مقامی سطح پر منتقلی، انفراسٹرکچر سیس تنازع کے حل کے لیے فریم ورک، صارف عدالتوں کو ٹریفک عدالتوں کا درجہ دینے، کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے زمین کے استعمال میں تبدیلی، انڈس ڈیلٹا میں محفوظ جنگلات کے رقبے میں توسیع، پولیس حدود کی تنظیم نو، لاڑکانہ میں بڑی سبزی و فروٹ منڈی کے قیام اور خصوصی عدالتی تعیناتیوں کی توثیق کی منظوری دی گئی۔
*اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن*
پاکستانی تارکین وطن کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ہدایت پر سندھ رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2025 پیش کیا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت سندھ میں پاکستانی سفارتی مشنز اور سفارت خانوں میں آن لائن سیل ڈیڈ کی تکمیل کو وسعت دی جائے گی۔ سندھ رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 38 میں ترمیم کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو رجسٹریشن دفاتر میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنیٰ دیا جائے گا۔تصدیق نادرا سے منسلک ای رجسٹریشن نظام کے ذریعے کی جائے گی، جس کے تحت کسی بھی سب رجسٹرار دفتر یا پیپلز سروس سینٹر میں دائرہ اختیار سے قطع نظر انگوٹھوں کے نشانات اور چہرے کی شناخت ممکن ہوگی۔
*ای اسٹیمپنگ نظام کی مقامی منتقلی*
کابینہ نے صوبائی ای اسٹیمپنگ نظام کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔ سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ پانچ سالہ ماسٹر سروس معاہدہ تجویز کیا گیا جس کے تحت ماہانہ سروس چارج 70 لاکھ روپے ہوگا اور سالانہ 10 فیصد اضافہ شامل ہوگا۔ مستقبل میں سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی موبائل ایپلیکیشن، پیپر لیس اسٹیمپ ڈیوٹی، شناختی کارڈ سے اجرا کا نظام اور دو سطحی تصدیق شامل کرے گی۔
یہ نظام ڈی ایچ اے، سی ڈی سی اور انشورنس کمپنیوں سمیت بڑے اداروں سے منسلک کیا جائے گا تاکہ صوبائی محصولات کی وصولی کو بہتر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلے صوبائی انتظامیہ کو جدید بنانے اور قانونی و تکنیکی اصلاحات کے ذریعے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
*صارف عدالتوں کو ٹریفک عدالتوں کا درجہ*
ٹریفک خلاف ورزیوں کے ای چالان کے فوری تصفیے کے لیے کابینہ نے صوبے بھر میں صارف عدالتوں کو ٹریفک عدالتوں کا درجہ دینے کی منظوری دی۔ قانونی فریم ورک کے تحت یہ اقدام صوبائی موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں نئی شامل کی گئی دفعہ کے مطابق کیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد ہر ضلع میں موجود صارف عدالتوں کو ٹریفک عدالتوں کے اختیارات دیے جائیں گے تاکہ نئی عدالتی عمارتوں کی فوری تعمیر کے بغیر ٹریفک مقدمات کا تیز رفتار ٹرائل ممکن ہو سکے۔
*انفراسٹرکچر سیس تنازع میں پیش رفت*
طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع کے حل کے لیے کابینہ نے سندھ ڈویلپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفراسٹرکچر سیس کے جامع تصفیہ کی تجویز پر غور کیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس تجویز میں تقریباً 342 ارب روپے شامل ہیں جو 635 عدالتی مقدمات میں بینک گارنٹی کی صورت میں زیر التوا ہیں۔ تجویز کے تحت درخواست گزار اپنی تسلیم شدہ واجب الادا رقم کا 15 فیصد تین مراحل میں جولائی 2026، اکتوبر 2026 اور جولائی 2027 میں ادا کریں گے جبکہ باقی رقم 12 مساوی سالانہ اقساط میں ادا کی جائے گی۔کابینہ نے ان افراد کے لیے ٹیکس شرح کم کر کے 0.8 فیصد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جو درخواست گزار نہیں ہیں یا 30 مارچ 2026 سے قبل مکمل واجبات ادا کرنے کے خواہش مند ہیں، جو تین سال بعد بڑھا کر 0.85 فیصد کر دی جائے گی۔ دوبارہ برآمدات کے لیے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت مکمل استثنیٰ دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ کابینہ نے تجویز کی منظوری دے کر اسے صوبائی اسمبلی کو بھجوا دیا۔
*بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ*
منصوبے کی لاگت کم کرنے اور تعمیراتی عمل تیز کرنے کے لیے کابینہ نے کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن کے لیے اہم زمین کے استعمال میں تبدیلی پر غور کیا۔کابینہ سے سابق علاءالدین پارک (باغِ کراچی) کے 18 ایکڑ رقبے کو زمینی سطح پر بس ڈپو کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری طلب کی گئی۔ زیرِ زمین ڈپو کے بجائے زمینی سطح پر ڈپو قائم کرنے سے تقریباً 4 ارب روپے کی بچت ہوگی اور تعمیراتی مدت بھی کم ہو جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے سینئر وزیر ٹرانسپورٹ، وزیر بلدیات اور میئر کراچی کو ہدایت دی کہ وہ شہر کے مفاد میں باہمی مشاورت سے اس معاملے کا فیصلہ کریں۔اجلاس میں منصوبے کی کوریڈور سڑکوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک فروری 2026 کے اختتام تک تمام یوٹیلیٹی منتقلی مکمل کر لے گی جبکہ موسمِیات فلائی اوور اور نمائش انڈر پاس جیسے بڑے حصوں کو مارچ 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
*انڈس ڈیلٹا کے سبز حفاظتی حصار میں توسیع*
موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے اور عالمی ماحولیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے محفوظ علاقوں میں بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری طلب کی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کابینہ نے ضلع سجاول میں 163,902 ہیکٹر (405,002 ایکڑ) سمندری جزر و مد کی زمین کو “محفوظ جنگلات” قرار دے دیا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ علاقے سمندری طوفانوں اور مدوجزر کی لہروں کے خلاف قدرتی حفاظتی حصار کا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ یہ “بلیو کاربن” کو استوائی بارانی جنگلات کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ ذخیرہ کرتے ہیں۔عالمی معیار کے مطابق جنگلات کا رقبہ 25 فیصد ہونا چاہیے، تاہم اس وقت سندھ کا صرف 10 فیصد رقبہ محفوظ یا مختص جنگلات قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے انڈس ڈیلٹا میں پہلے سے محفوظ 566,298 ہیکٹر رقبے میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات محصولات کی وصولی کے نظام کو بہتر بنانے اوورسیز شہریوں کے لیے کاروباری سہولتیں بڑھانے اور صوبے کے ماحولیاتی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہیں۔
*نئے پولیس تھانے اور چوکیاں*
جرائم کی بڑھتی شرح اور آبادی میں تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ نے درج ذیل انتظامی تبدیلیوں کی منظوری دی۔ گرھوڑ شریف (میرپورخاص) میں موجود پولیس چوکی کو مکمل پولیس تھانے کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ چوکی پھلندیوں تھانے سے 22 کلومیٹر دور واقع ہے اور علاقے کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب پولیس اسٹیشن ملک کو پولیس چوکی میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ اب پولیس اسٹیشن کورائی (سب ڈویژن مورو، نوشہرو فیروز) کے انتظامی کنٹرول میں کام کرے گا۔ صالح پور کچو اور ملکانی سمیت پانچ دیہات کو پولیس اسٹیشن کورائی کی حدود میں منتقل کیا جائے گا تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
*لاڑکانہ فروٹ و سبزی منڈی*
سندھ حکومت نے زرعی تجارت کو مضبوط بنانے اور مارکیٹنگ سہولیات بہتر بنانے کے لیے لاڑکانہ میں 4 ارب 80 کروڑ روپے لاگت سے فروٹ و سبزی منڈی قائم کرنے کی منظوری دی۔ منصوبے کے تحت منڈی کے گرد محفوظ چار دیواری تعمیر کی جائے گی جبکہ برساتی نالے سمیت نکاسی آب کا جامع نظام بھی بنایا جائے گا تاکہ تحفظ اور پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں انتظامی بلاک، طبی سہولت، واش رومز، بینکنگ سروسز اور گرین بیلٹ کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ جدید، منظم اور تاجروں کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد فصل کی برداشت کے بعد بہتر انتظام، کسانوں اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنا، نقصانات کم کرنا اور لاڑکانہ سمیت ملحقہ اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
*عدالتی تقرریاں*
کابینہ نے دو سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی خصوصی غیر کیڈر عہدوں پر تعیناتی کی باضابطہ توثیق کر دی جن کی منظوری پہلے وزیراعلیٰ کی جانب سے سمری کے ذریعے دی جا چکی تھی۔ جناب نوشاد علی مغل کو حیدرآباد میں اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل کا پریزائیڈنگ آفیسر تعینات کیا گیا ہے جبکہ جناب رحمت اللہ مورو کو سندھ ریونیو بورڈ کے اپیلیٹ ٹریبونل کا جوڈیشل رکن مقرر کیا گیا ہے۔






