*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی قیادت میں کشمیر یکجہتی ریلی*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کے روز کراچی میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑی کشمیر یکجہتی ریلی کی قیادت کی اور بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔میڈیا سے گفتگو اور کشمیر یکجہتی دن کے موقع پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 5 فروری دنیا کو کشمیری عوام کی قربانیوں اور ان کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم دنیا کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ ہم کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سب سے بڑی نعمت ہے، اس کی قدر جاننے کے لیے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے پوچھا جائے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کشمیر آزادی کے بغیر نامکمل ہے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب سمجھ چکی ہے کہ خطے میں امن صرف کشمیر کی آزادی سے ہی ممکن ہے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ 79 برس سے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور انہیں شدید جبر، غیر قانونی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیری قیادت کو قید کرکے اور اختلاف رائے کو طاقت کے ذریعے دباکر مقبوضہ وادی کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی قوم ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے ضمیر پر قرض ہے اور کشمیریوں کے لیے انصاف کے بغیر بین الاقوامی قوانین نامکمل ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ میں جرات مندی سے مسئلہ کشمیر پیش کیا جس کے بعد یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمریت کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کاز کو دوبارہ زندہ کیا جبکہ صدر آصف علی زرداری عالمی سطح پر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے بطور وزیر خارجہ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور عالمی سفارتی سطح پر امن کے لیے کوششیں کیں۔تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1947 کی تقسیم کے بعد کشمیری عوام نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارت نے غیر قانونی طور پر اپنی افواج تعینات کیں اور بعد ازاں اقوام متحدہ میں تسلیم کیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو کرنا چاہیے جو وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کشمیر یکجہتی دن 1994 میں اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے سرکاری تعطیل کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا تاکہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کی اجتماعی حمایت کا اعادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ کشمیری عوام کا فیصلہ بالآخر پاکستان کے حق میں ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کشمیر اور فلسطین میں جاری مظالم کے درمیان مماثلت بھی بیان کی اور کہا کہ جب تک دنیا میں ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، کہیں بھی پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔قانون و انتظام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اہم شاہراہوں پر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن جمہوری احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن اس سے عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور عوامی سہولت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔وزیراعلیٰ کی قیادت میں پیپلز چورنگی سے مزار قائد تک نکالی گئی ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ سندھ کابینہ کے ارکان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید عالم اوڈھو، صوبائی سیکریٹریز، اعلیٰ حکام اور پارٹی رہنما بھی ریلی میں شریک ہوئے اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ اور پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اس وقت تک مضبوطی سے کھڑے رہیں گے جب تک وہ اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔

جواب دیں

Back to top button