سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے بتایا ہے کہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب نے رمضان سے قبل اشیاء ضروریہ کی سستے داموں فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب کے تمام اضلاع میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اغاز کیا گیا ہے جس کے تحت گزشتہ 3 دنوں کے دوران پرائیس کنٹرول مجسٹریٹس نے پنجاب بھر میں 3 لاکھ 63 ہزار سے زائد مقامات پر چھاپے مارے ہیں جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی اوور چارجنگ میں ملوث 21 ہزار سے زائد افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا اورناجائز منافع خوری کے جرم میں 38 مقدمات درج کر کے 437 گراں فروشوں کو گرفتار کیا گیااور انھیں 1 کروڑ 9 لاکھ 2 ہزار سے زائد جرمانہ کیاگیا-سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ پروٹیکشن نے بتایا کہ رمضان المبارک میں اٹا کی نوٹیفائیڈ قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے 20 ہزار 300سو 86 مقامات کی چیکنگ کی گئی چیکنگ کے دوران1100 سے زائد اٹا گراں فروشوں کے خلاف ایکشن لیا گیا اور 31 ناجائز منافع خور گرفتار کر کے انہیں 6 لاکھ 20 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا اسی طرح 
برائلر گوشت کی اوور چارجنگ میں ملوث 1480 قصابوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی اور 5 مقدمات درج کرکے 31 برائلر فروش گرفتار کر لیے گئے اور 7 لاکھ 72 ہزار سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا -ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ رمضان سے قبل
صوبہ میں مقرر کردہ نرخوں پر روٹی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 61 ہزار 600 سے زائد ہوٹلوں اور تندوروں پر ریڈ کیے گئے اورمہنگی روٹی فروخت کرنے پر 5 ہزار 450 نان بائیوں اور ہوٹلوں کے خلاف ایکشن لیا گیا جس کے نتیجے میں6 مقدمات درج کر کے 118 کو گرفتار کرلیا گیا 14 لاکھ 77 ہزار سے زائد جرمانہ کیا گیا تھا-انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب چینی گراں فروشوں کے خلاف بھی گھیرا مزید تنگ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں 863 چینی گراں فروشوں کے خلاف ایکشن لیا گیا اور چینی کی ناجائز منافع خوری میں ملوث افراد کے خلاف 2مقدمات درج کر کے 23 کو گرفتار کیا گیا آور انھیں 40 لاکھ 8 ہزار 500سو سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا-ڈاکٹر نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی انہوں نے کہا کہ میں رمضان کے مقدس مہینے میں اشیاء خور و نوش کی مقرر کردہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو اشیاء خورونوش کی مقرر کردہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنائیں گے۔





