*سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی زیر صدارت اجلاس، پانی کے جاری منصوبوں کا جامع جائزہ، پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت*

مضر صحت پانی کے منفی اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتِ پنجاب کی جانب سے پہلے سے جاری صاف پانی کے منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صاف پانی کے منصوبوں کے حوالے سے سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،

جس میں سی ای او پنجاب صاف پانی اتھارٹی کیپٹن علی اصغر نے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں صاف پانی کے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ آرسینک زدہ اور آلودہ زمینی پانی والے علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا عمل جاری ہے، جبکہ دھارابی، میروال اور پھالینہ ڈیم پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ خوشاب، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں جدید واٹر بوٹلنگ پلانٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ترجمان کے مطابق منصوبوں کے پہلے مرحلے کو 30 جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ بھر میں 2 کروڑ 90 لاکھ سے زائد آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا سکے گا۔ شہریوں کو 19 لیٹر پانی کی بوتلوں کے ذریعے صاف پانی مہیا کیا جائے گا۔ واٹر فلٹریشن پلانٹس سرکاری عمارتوں میں نصب کیے جا رہے ہیں، جن میں اسکولوں، دینی مدارس، مساجد اور تھانوں کی عمارتیں شامل ہیں۔ترجمان کے مطابق سرکاری عمارتوں میں فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب سے چوری کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ منصوبوں کی مؤثر اور خودکار نگرانی کے لیے جدید اسکاڈا (SCADA) سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق صوبہ بھر میں صاف پانی کے منصوبوں کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مؤثر عملدرآمد کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button