وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میرا کراچی، اتحاد کا مرکز نمائش کا افتتاح کردیا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی ایکسپو سینٹر میں 21ویں ’’میرا کراچی – اتحاد کا مرکز‘‘ بین الاقوامی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی، جن میں 2017 سے صنعتی اسٹیٹس کے لیے فنڈنگ، 13 ارب روپے سے زائد کے نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری کے بڑے منصوبے اور ہر ٹاؤن میں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے کئی شہری منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے ای چالان نظام کے نفاذ سے ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری کا ذکر کیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹریفک کے حفاظتی اصولوں کی پابندی کریں۔ ایکسپو سینٹر آمد پر وزیراعلیٰ سندھ کا وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ، عارف حبیب، زبیر موتی والا، محمد ادریس اور دیگر منتظمین نے پرتپاک استقبال کیا۔مراد علی شاہ نے منتظمین اور سفارتکاروں کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر نمائش کا باضابطہ افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش کاروباری اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی علامت ہے اور ’’میرا کراچی – اتحاد کا مرکز‘‘ شہر اور ملک دونوں کے لیے کاروباری اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی اور اجتماعی ترقی کی علامت ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے نمایاں خدمات انجام دینے والوں اور نمائش کنندگان میں ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔نمائش سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تاجر برادری کے سابق رہنما مرحوم سراج قاسم تیلی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مائی کراچی‘‘ کاروبار، ثقافت اور کمیونٹی کو جوڑنے والا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے اور ہر سال قومی و بین الاقوامی توجہ حاصل کرتا ہے۔مراد علی شاہ نے پاکستان کی معیشت میں کراچی کے مرکزی کردار کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر قومی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اور سندھ کی معیشت میں تقریباً 90 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم شہر کی تجارتی اہمیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں سے کراچی زیادہ محفوظ اور مستحکم ہوا ہے جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ایک مسلسل عمل ہے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہر شہری اور سرمایہ کار خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس نہ کرے۔مستقبل کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد قومی برآمدات میں کراچی کا حصہ بڑھانا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانا اور چھوٹے و بڑے کاروباروں کے لیے ویلیو چین کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے مستقبل کی تشکیل میں کاروباری برادری مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔توانائی کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پاکستان کی توانائی کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ملک کی تقریباً 65 فیصد قدرتی گیس پیدا کرتا ہے، تاہم صنعتوں کو اب بھی قلت کا سامنا ہے جو پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ کی صنعتوں کے لیے منصفانہ اور قابل اعتماد توانائی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔گُل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 10 کروڑ روپے معاوضہ ادا کر رہی ہے، جبکہ دکانداروں کو فوری ریلیف کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دو ماہ کے اندر کاروبار بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور گُل پلازہ کی عمارت کو زیادہ محفوظ اور بہتر انداز میں دو سال کے اندر اسی تعداد میں دکانوں کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں جاری ترقیاتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں 2017 سے صنعتی اسٹیٹس کے لیے فنڈنگ، 13 ارب روپے سے زائد مالیت کے نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری کے بڑے منصوبے اور ہر ٹاؤن میں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے شہری منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے ای چالان نظام کے نفاذ سے ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے شہریوں کو ایک بار پھر ٹریفک حفاظتی اصولوں کی پابندی کی تلقین کی۔ہنگامی اور ریسکیو خدمات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے آگ بجھانے اور ریسکیو اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق انتظامی چیلنجز کا اعتراف کیا، تاہم کہا کہ سندھ ریسکیو 1122 شہر میں فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہنگامی حالات میں ضائع ہونے والے وسائل کا نصف بھی فائر اور ریسکیو خدمات پر خرچ کیا جائے تو ردعمل کا نظام نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے۔پانی کی فراہمی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت عالمی بینک کے تعاون سے کے فور پانی منصوبے پر کام کر رہی ہے اور کراچی کو یومیہ مزید 260 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدتی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈی سیلینیشن منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر زور دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں نے سندھ کے پی پی پی فریم ورک کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اور ادارے فنڈز فراہم کر سکتے ہیں، مگر پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کی فعال شرکت ضروری ہے، جبکہ مقامی سرمایہ کار اعتماد ظاہر کریں گے تو غیر ملکی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی ترقی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور شہریوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے نمائش کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، تاجروں اور شرکاء کو مبارکباد دی۔

جواب دیں

Back to top button