کراچی( بلدیات ٹائمز)چیئرمین واٹر کارپوریشن و میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر میں پانی کی ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا گیا ہے جس کا براہِ راست فائدہ شہریوں کو ہوگا، ماضی میں ان پمپنگ اسٹیشنز کو نظر انداز کیا گیا جس کے باعث پانی شہریوں تک نہیں پہنچ پا رہا تھا حالانکہ شہر میں پانی موجود تھا لیکن پمپنگ کی کمی اور خراب نظام کے باعث ترسیل متاثر ہوتی تھی۔ نئے پمپس کی تنصیب سے گارڈن، میٹھا در اور کھارادر کے علاقوں میں پمپنگ میں واضح اضافہ ہوا ہے اور بعض مقامات پر پانی بارہ فٹ تک پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ضلع شرقی جناح ٹاؤن میں ایل ایس آر اور سی آئی 60 واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اور نئے نظام کے افتتاح کے موقع پر کیا،

اس مو قع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، پاکستان پیپلزپارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری رؤف ناگوری،کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی اور سی او او انجینئر اسداللہ خان، منتخب نمائندوں سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کا تعلق براہِ راست عام آدمی کی زندگی سے ہے، اس لیے پانی کے مسئلے پر سیاست نہیں بلکہ اجتماعی کام ہونا چاہیے، انہوں نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ متحرک انداز میں شہر کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ ایل ایس آر اور سی آئی 60 پمپنگ اسٹیشنز پر 18 سے 20 سال پرانے کم استعداد پمپس کی جگہ جدید ہائی کیپیسٹی پمپس نصب کیے گئے ہیں، ایل ایس آر پر دو نئے 220 ہارس پاور جبکہ سی آئی 60 پر تین جدید 215 ہارس پاور موٹرز لگائی گئی ہیں، اس کے علاوہ ایل ایس آر پر 500 کے وی اے اسٹینڈ بائی جنریٹر کی تنصیب سے نظام مزید مستحکم ہوا ہے، ان اقدامات سے روزانہ 40 سے 50 لاکھ گیلن اضافی پانی کی فراہمی ممکن ہوگی جبکہ دونوں منصوبوں سے مجموعی طور پر 4 سے 5 ایم جی ڈی پانی شہر کو فراہم کیا جا سکے گا، انہوں نے کہا کہ سی آئی 60 پمپنگ اسٹیشن کی گنجائش 6.3 ایم جی ڈی سے بڑھا کر 8.5 ایم جی ڈی اور ایل ایس آر کی گنجائش 7.8 ایم جی ڈی سے بڑھا کر 9.3 ایم جی ڈی کر دی گئی ہے، جس سے صدر، جناح، چنیسر، کیماڑی، میٹھا در، کھارادر، گارڈن ایسٹ اور سولجر بازار سمیت اولڈ سٹی ایریا کے مکینوں کو براہِ راست ریلیف ملے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ رمضان المبارک سے پہلے عوام کو ریلیف دینا ہماری ترجیح تھی اور وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہوئے یہ کام بروقت مکمل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل ایس آر پمپنگ اسٹیشن 1942 میں انگریز دور میں تعمیر کیا گیا تھا جس کا مقصد 33 انچ لائن سے آنے والے پانی کو شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچانا تھا تاہم طویل عرصے تک اس پر توجہ نہ دی گئی، انہوں نے کہا کہ نئے نظام سے جناح ٹاؤن، گلشن ٹاؤن، چنیسر، ماڑی پور، کیماڑی اور اولڈ سٹی ایریا کے شہریوں کو فائدہ ہوگا جبکہ روزانہ لاکھوں گیلن اضافی پانی پمپ کیا جا سکے گا۔ سی آئی 60 سے ماڑی پور اور اولڈ سٹی ایریا تک پانی کی فراہمی بہتر ہوگی جبکہ ایل ایس آر سے مختلف ٹاؤنز میں پانی کی ترسیل مزید مستحکم ہوگی، میئر کراچی نے کہا کہ کے تھری (K-III) منصوبے پر بھی کام جاری ہے اور 31 مئی تک اسے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ لیاری کے عوام کو اس کا ثمر مل سکے، اسی طرح مومن آباد، منگھوپیر، ملیر اور اسٹیل ٹاؤن کے علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور رمضان کے دوران مزید منصوبے مکمل کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ اگر پانی اور سیوریج کے مسائل حل ہو جائیں تو یہ براہِ راست عوام کے دلوں کو چھوتے ہیں، اسی لیے شہر میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ رواں سال ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال ہے اور تقریباً 46 ارب روپے شہر کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ سڑکوں اور انفراسٹرکچر پر بھی بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے وژن کے مطابق کراچی کے بلدیاتی ادارے عوامی خدمت کے لیے کام کررہے ہیں اور بلا تفریق ہر علاقے میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بھی اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہی ہے اور شہر میں طویل عرصے سے رکے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں، انہوں نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے کیونکہ بجلی کے بریک ڈاؤن سے پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور پمپنگ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ پمپنگ اسٹیشنز کو سولرائز کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں جس کے لیے بڑے فنڈز درکار ہیں، انہوں نے کہا کہ شہر میں تنقید کی سیاست کے بجائے ترقیاتی کاموں پر توجہ دینی چاہیے، انہوں نے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی شہر کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں، احتجاج اور تنقید کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں اور پانی سمیت شہری مسائل کے حل میں تعاون کیا جائے، میئر کراچی نے کہا کہ منفی سیاست نے شہر کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ ہماری کوشش ہے کہ تمام ادارے اور سیاسی قوتیں ایک صفحے پر آ کر شہری مسائل کا حل نکالیں، انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے متحرک ہیں، ترقیاتی کام جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں کراچی کے عوام کو پانی، سیوریج اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے مزید بہتری نظر آئے گی۔






