گجرات میں ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سےوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا خطاب

”ہر خواب ہے ممکن”۔یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ نے سی ایم کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔”سی ایم تے بوہتا احسان کر چھڈیا،پریشان لوکاں نوں حیران کر چھڈیا”۔”اینیاں کرائیاں صفایاں پنجاب وچ، پنڈاں نوں ملتان تے لاہور کر چھڈیا۔” وزیراعلی مریم نواز شریف کی یونیورسٹی آف گجرات آمد پر طلبہ نے پرتپاک استقبال کیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے تقریب میں وزراء اور ارکان اسمبلی سے نشستوں پر جا کر سلام کیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف طا لبات کے درمیان بیٹھ گئیں اور طلبہ کی درخواست پر سٹیج پر جاکران کے ساتھ قومی ترانہ پڑھا۔

وزیراعلی مریم نواز شریف نے طلبہ کے ساتھ” اے راہ حق کے شہیدو ”” سوہنی دھرتی ”ملی نغمہ گایا اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سے پر جوش معانقہ کیا۔ طلبہ نے پر اثر ملی نغمہ پیش کیا۔طلبہ کے اعزاز میں لیڈیز پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ پولیس بینڈ نے مدھر سر بکھیرے۔ تقریب میں ”جرنی آف لیپ ٹاپ ” پر ڈاکومینٹری پیش کی گئی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ کے چیک تقسیم کیے۔طلبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو پینٹنگز اور سکیچ پیش کیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے شفقت کا اظہار کیا۔ طالبات نے اصرار کرکے وزیراعلی مریم نواز شریف کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوجرانولہ ڈویژن کے 2904 طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ اور 843 ہونہار سکالرشپ دی گئیں۔ یونیورسٹی آف گجرات کے 846 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 268 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے۔ نواز شریف میڈیکل کالج گجرات کے 47 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 9 کیلئے ہونہار سکالرشپ دی گئیں۔گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کیلئے 512 طالبات کو لیپ ٹاپ ا ور 160 ہونہار سکالرشپ دیں۔ یونیورسٹی آف ناروال کے 281 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 90 کیلئے ہونہار سکالرشپ دی گئیں۔ پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاؤالدین کے 12 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 6 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے۔گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے 83 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 28 طلبہ کیلئے ہونہار سکالرشپ دی گئیں۔خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کے 98 طلبہ کیلئے 98 لیپ ٹاپ اور 66 ہونہار سکالرشپ دی گئیں۔سرکاری کالجز کے 1025 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 216 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے۔ہونہار سکالرشپ کے پہلے مرحلے میں 30 ہزار طلبہ اور فیز ٹو میں آٹھ ویں سمسٹر تک کے طلبہ کو 20 ہزار ہونہار سکالرشپ مل رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ آج کی تقریب کے سپر ہیرو اور چیف گیسٹ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ بچوں کے چہرے خوشی سے چمک دمک رہے ہیں، پنجاب لیڈ کررہا ہے، پنجاب آگے بڑھ رہا ہے۔ کتنے بچوں کو پنجاب لیپ ٹاپ مل رہے ہیں۔ ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب محض روایتی تقریب نہیں بلکہ ایک جشن ہے جو ایک ماں بچے کی کامیابی پر مناتی ہے۔ گجرات میں ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ میں یہاں اپنے بچوں کی فتح منانے آئی ہوں۔ بچے جس جوش وجذبے کے ساتھ ترانے پڑھ رہے تھے جھنڈے ہلارہے تھے مجھے یہ سب دیکھ کربہت حوصلہ ملا۔مجھے یقین ہے کہ بچے سبزہلالی پرچم کو گرنے نہیں دیں گے۔ بچوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر ساری تھکاوٹ اترجاتی ہے۔ بہت دور سے بچوں کو ملنے آتی ہوں، لیپ ٹاپ گھروں یا کلاس روم میں بھی پہنچ سکتے ہیں، لیکن ملاقات نہ ہوپاتی۔پنجاب کے پاس جتنے وسائل ہیں، دل چاہتا سب اپنے پچوں پرنچھواڑ کر دوں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بچوں سے کہتی ہوں خواب دیکھو،میں آپ کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑی ہوں۔اب کوئی بچہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔100فیصد میرٹ پر سکالر شپ مل رہے ہیں، یونیورسٹی کالجز اور سب ٹیچرز کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ کے سامنے سروخرو ہوں، کسی کو میرٹ کے علاوہ لیپ ٹاپ یا سکالر شپ نہیں ملا۔ لیپ ٹاپ یا سکالر شپ دیتے ہوئے کسی سے سیاسی وابستگی کا نہیں پوچھا گیا۔اگر آپ نے محنت کی ہے تو آپ انعام کے حقدار ہیں، مجھے اپنے سب بچوں پر فخر ہے۔مظفر گڑھ سے آنے والے بچے کی تکالیف سن کر دل بھر آیا۔ ایک بچی نے بتایا کہ چار بہنوں کے پاس ایک ہی لیپ ٹاپ تھا،باری باری کام کرنا پڑتا تھا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بچوں کی آؤٹ سٹینڈنگ پرفارمنس پر جتنے وہ خوش ہیں اس سے زیادہ میں خوش ہوں۔ گارڈ آف آنر ہیڈ آف سٹیٹ کو دیا جاتا ہے،آج میرے بچوں کو بھی گارڈ آف آنر دیا گیا۔

مجھے خوشی ہے کہ میرے ملک کا مستقبل /جین زی صحیح راستے پر ہیں۔ انہی بچوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ 2026کو یوتھ کا سال قرار دیا، ملک کا مستقبل اب بچوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہی بچوں نے پڑھ لکھ کر ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان بننا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بچوں سے کچھ نہیں چاہیے،بس وطن سے محبت کا تقاضا کرتی ہوں۔ وطن کی محبت کو محسوس کر کے دیکھیں تو جذبات سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہمیں اس پاک دھرتی پر اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اٹک کے پار کے پی کے ہے، جہاں بچوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ہتھیار تھما دیئے جاتے ہیں۔کے پی کے کے معصوم بچوں کے ذہنوں میں تشدد بھر دیا جاتا ہے، جو روزگار بند کرکے ٹائر جلاتے پھرتے ہیں۔ پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اور کے پی کے کے بچوں کے ہاتھ میں پٹرول بم اور ہتھیار تھمانے جاتے ہیں۔ڈنڈا پکڑو، روزگار بند کردو، سکول بند کردو، نتیجے میں صوبہ بند قید خانہ آباد ہوجاتا ہے۔ پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں ہونہار سکالر شپ، لیپ ٹاپ اور پرواز کارڈ ہے۔بچوں کے سکول،کالج آنے جانے کے لئے گرین بس بالکل فری ہے۔ ٹیکنیکل ٹریننگ کے بعد ملک سے باہر جانے کے لئے پرواز کارڈدیا جاتا ہے۔ کاروبار اور کھیتی باڑی کے لئے نوجوان نسل کی معاونت کی جاتی ہے۔ادھر ہونہار ہے اُدھر انتشار ہے، کے پی کے میں انتشار ہونا میرے لیے قطعاً خوشی کی بات نہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ میں پنجابی بعد میں ہوں پاکستانی پہلے ہوں۔ معصوم لوگ پتھر کے زمانے میں ہیں، انہیں پتہ نہیں ترقی کیا ہے، 13سال سے کے پی کے میں ایک ہی حکومت ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ترقی کس چڑیا کا نام ہے، بس کہتے ہیں شعور دے رہے ہیں۔کے پی کے کے راستے بند کرنے سے پنجاب اور سندھ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ معلوم ہوا راستے بند ہونے کی وجہ سے کے پی کے میں متعدد لوگ ایمبولینس میں جان سے چلے گئے۔ ہڑتال کا اعلان چند ارب پتیوں نے کیا، ڈنڈے پکڑا کر دکانیں بند کرنے کو کہا۔ پنجاب کے ہونہار بچوں کی طرف دیکھیں، یہ اکیلے نہیں ان کے پیچھے سی ایم چٹان بن کر کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں بد تمیزی، شرپسندی کے پی کے کے بچوں کانصیب نہیں ہوسکتی۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کے پی کے کے بچوں کا مقدر نہیں ہوسکتیں۔کل ہم جیل میں تھے آج اللہ تعالیٰ نے اقتدار دے دیا۔اقتدار مٹھی میں ریت کی طرح پھسلتا ہے، آج اس کے پاس، کل اُس کے پاس ہوگا، اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ72 سالہ والد جیل میں بیمار ہوگئے، ہارٹ اٹیک ہوا، ان کااور ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ میں والد کے ساتھ جیل میں تھی، والدہ مرحومہ کو کینسر ہوگیا۔میری والدہ کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، کہتے تھے وہ بیمار ہی نہیں ہیں۔ میری والدہ لندن کے ہسپتال کے آئی سی یو میں تھیں، کچھ لوگ ڈاکٹر کی یونیفارم پہن کر اندر داخل ہوگئے۔ یہاں انسان کو بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔ والدہ کا انتقال ہوا تو والد نے سیل میں آکر بتایا کہ آپ کی والدہ ا للہ کے پاس چلی گئیں ہیں۔ حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ نواز شریف صاحب،شہباز شریف صاحب اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ جیل میں اس کا کھانا یا ٹی وی بند کریں۔نواز شریف صاحب نے کہا کہ ایک اے سی ہے تو اسے دو اے سے دے دو۔سیاست میں نہ ہونے کے باوجود پہلی خاتون کے طور نیب جیل میں بند کیا گیا۔ان کے پاس لیڈیز جیل نہیں تھی، وہ کہتا تھا کہ نواز شریف کی بیماریوں کو دیکھا تو لمبی لسٹ تھی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگربیماریوں کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ سیاست کو دشمنی میں بدلنا غلط ہے، میں بچوں سے کہتی ہوں کہ کبھی ایسے نہیں کرنا، سیاست کو دشمنی میں نہیں بدلنا۔وقت گھوم کر واپس آتا ہے، سیاسی دشمن کو بھی بد دعا نہ دینا۔والدہ کی وفات پر میرے والد کا مغموم چہرے کامذاق اڑاتے رہے۔جو یہ کرتے ہیں بچوں آپ نے نہیں کرنا، کسی کا برا نہیں چاہنا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جو بیمار ہے اس کی صحت یابی کیلئے دعا کرتے ہیں۔ذاتیات کو اٹھا کر سیاست سے باہر کردیں، جھوٹ، انتشار اور فتنے کو باہر پھینک دیں۔ کے پی کے کے لوگ بھی اب سوال کرتے ہیں کہ پنجاب کہاں جارہاہے اور ہم پتھر کے زمانے میں ہیں۔ مجھے اکثر وہ آیت یاد آتی ہے کہ”’تمہارارب بھولنے والا نہیں“۔ پاک دھرتی کے ذرے ذرے کو سنبھال کررکھنا ہے دنگا فساد نہیں کرنا۔املاک اور گرین بیلٹوں کو آگ نہیں لگانی بلکہ وطن کی حفاظت کرنی ہے۔

جواب دیں

Back to top button