کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ماسٹر پلان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔جس میں شہر کی مستقبل کی ترقی، توسیع اور بنیادی مسائل کے حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج عابد علی، کنسلٹنٹ فرم کے نمائندوں اور دیگر کیو ڈی اے کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کنسلٹنٹ فرم کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو کوئٹہ ماسٹر پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی
لینڈ سروے رپورٹ اور ڈیجیٹل میپنگ انفارمیشن سسٹم،فیلڈ سروے کے نتائج
شہری حدود بندی اور لینڈ یوٹیلائزیشن،سڑکوں، سیوریج اور ڈرینیج نظام کی بہتری کے حوالے سے بتایا گیا۔اس موقع کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے متعلقہ فرم کو ہدایت دی کہ تمام اقدامات جلد مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ماسٹر پلان پر بروقت عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر زور دیا کہ شہر کی منصوبہ بندی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کی جائے اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور عوامی آگاہی اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کو مرکزی شہر سے باہر منتقل کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ اجلاس میں کمشنر کویٹہ ڈویژن نے کہا کہ پانی کی قلت اور ارضی کے استعمال سمیت دیگر شہری مسائل کوئٹہ کے بڑے چیلنجز ہیں، لہٰذا ماسٹر پلان میں ان کے پائیدار حل کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شارٹ ٹرم منصوبوں کو حتمی شکل دیں تاکہ ان پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے جبکہ مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبوں میں مستقبل کی ضرورت ،وسائل اور مسائل کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے۔مرکزی شہر میں رش اور کاروباری دباؤ کم کرنے کے لیے شہر سے باہر متبادل مراکز قائم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کیا جائے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک جامع ماسٹر پلان کے ذریعے کوئٹہ شہر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جس سے شہری سہولیات میں بہتری، منظم توسیع، اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف شہر کی موجودہ ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ مستقبل میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری دباؤ سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔





