وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا پنجاب میں 1000بیڈ کا نیا چلڈرن ہسپتال بنانے کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا پنجاب میں 1000بیڈ کا نیا چلڈرن ہسپتال بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف میڈیکل سٹی میں مارچ سے تعمیر کا آغاز ہوگا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے واضح کیا ہے کہ غریب عوام کی پیسہ کرپشن کی مد میں نہیں کھانے دوں گی۔پنجاب میں شعبہ صحت کا بجٹ 630ارب روپے ہے۔بچوں کی کامیاب سرجری پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔10ہزار بچوں کی ہارٹ سرجری ہونے پر دلی خوشی ہوئی۔بچوں کی بیماری والدین کے لئے بری آزمائش ہے۔ماؤں کی خوشی دیکھ کر مجھے دلی سکون ملا۔بیمار بچوں کی زندگیاں بچانا میرا مشن ہے،کسی بچے کی جان اب ویٹنگ لسٹ پر ہونے کی وجہ سے نہیں جائے گی۔انسانی غفلت کے باعث کوئی جان نہیں چاہئیں۔آئندہ ماہ لاہور میں 1000بستروں پر مشتمل نئے چلڈرن ہسپتال کی تعمیر شروع ہوجائیگی۔پنجاب میں پہلی مرتبہ ٹرانسپلانٹ کارڈ کے ذریعے 800کاک لیئر،200بون میروٹرانسپلانٹ کیے گئے۔1000ہزار پیڈز ہارٹ سرجری کرنے پر جتنا شکر ادا کروں کا،دل اللہ کے حضورسجدہ ریز ہے۔چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر اورسٹاک اوردیگر کا بھی شکریہ اداکرتی ہوں۔ماں کو بچے کی چھوٹی سی تکلیف چین سے نہیں بیٹھنے دیتی،جو بچہ دل کا مریض ہو ماں پر کیا گزر تی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بچے کیلئے دل کا مرض وسائل رکھنے و الوں کیلئے بھی آزمائش ہے،غریب آدمی کیلئے کا کیا حال ہوگا۔ امراض قلب کا علاج سستا نہیں اوربچوں کے دل کے علاج کیلئے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ہیلتھ پر فوکس ہے،جب آئی تو مجھے 15ہزار بچوں کی ویٹنگ لسٹ تھما دی گئی۔باری کا انتظار کرتے کرتے شاید بہت سے بچے جان سے بھی گزرگئے،تہیہ کرلیا کہ اب ویٹنگ لسٹ کی وجہ سے کسی بچے کی جان نہیں جائیگی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بچوں کی10ہزار400اوپن ہارٹ سرجری اورانٹروینشن پروسیجر ہوئے،پہلے سال میں 300ہوتے تھے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ میانوالی میں کیتھ لیب بننے سے اب لوگوں کو دل کے علاج کیلئے شہر سے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ جو ذمہ داری اللہ تعالی نے دی ہے اس کو فرض کی طرح نبھایا۔ایجوکیشن حساس شعبہ ہے لیکن ہیلتھ میں غفلت سے کسی کی جان جاسکتی ہے،اگر غفلت سے کسی کی جان چلی جاتی ہے تو ہم جواب نہیں دے سکتے۔مزدور کا بیٹا دل کا مریض تھا،آج وہ ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہے۔کینسر ہسپتال سمیت تمام ہسپتالوں کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں،انکار کرنے کا حوصلہ کہاں سے لاؤ۔جو پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں سے آتا ہے ہم میں علاج کیلئے انکار کرنے کا حوصلہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ علاج معالجے کی سہولت صوبوں کی ذمہ داری ہے بلکہ لوگوں کو شہروں کے اندرعلاج کی سہولت دینی چاہیے۔سب سے زیادہ وقت ہیلتھ پر صرف کرتے ہیں اس کے باوجود شکایات آجاتی ہیں۔100بلین روپے فری میڈیسن دینے کے باوجود شکایات کا خاتمہ نہیں ہوا۔ہسپتالوں میں مجبوراً کیمرے لگوائے تو دن دیہاڑے اغواء ہونے والا بچہ دو گھنٹے میں بازیاب ہوگیا۔نقصان سے بچنے کیلئے بعض اوقات سخت اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ڈاکٹروں کی دل سے قدر کرتی ہوں جو خود کو خدمت کیلئے وقف کرتے ہیں۔ہاتھ جوڑ کرکہتی ہوں کہ ڈیوٹی پر موبائل فون کا سوائے کام کے استعمال نہ کریں،ڈاکٹر قوم کے مسیحا ہی نہیں میرے لئے قابل احترام ہے۔کیمرے میں دیکھا مریض کھڑے ہیں اورڈاکٹر قطار در قطار موبائل پر مصروف ہیں۔انہوں بتایا کہ رات آٹھ بجے سے دس بجے تک ڈسٹرکٹ اور تحصیل کے ہسپتالوں کو صاف کرایا جاتا ہے۔لوگ ہسپتالوں میں شفاء کیلئے جاتے ہیں،انفیکشن لینے کیلئے مجھے سب کی پروا ہ ہے۔ہر ایم ایس سے خود بات کررہی ہوں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔چلڈرن ہارٹ سرجری کیلئے اب 12کارڈیک سرجن اور38انٹروینشنسٹ کام کررہے ہیں۔ملتان،پنڈی،فیصل آبا د اورلاہور میں پیڈز ہارٹ سرجری ہورہی ہیں۔ڈاکٹروں کی کپیسٹی بلڈنگ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔بچوں کی صورتحال کے مطابق پیڈز سرجری کیلئے لسٹ تیار کی جاتی ہے،ہر بچے کی جان قیمتی ہے۔انگلینڈ سے ٹیم منگواکر بچوں کی ہارٹ سرجری کرائی۔فالج سٹروک کیلئے تین،چار لاکھ روپے کا مہنگا انجکشن مفت لگایا جارہا ہے۔بچوں کیلئے پیڈز نیورالوجسٹ کی کمی ہے لیکن ہم کوشش کررہے ہیں۔ریاست ماں ہے،ماں اگر پیسہ لوگوں پر خرچ نہیں کرے گی تو کہاں لے کر جائے گی۔مجھے یقین ہے عوام پر خرچ کریں گے تو پیسہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔کینسرکوابلیشن کیلئے 3ارب دیئے،مزید دے رہے ہیں،علاج روکنے نہیں دیں گے۔بچوں کی ہارٹ سرجری،سرجری نہیں بلکہ صحت میں انقلاب ہے،ایک روپیہ خرچ کیے بغیر سہولت مل رہی ہے۔محمد نوازشریف اورمیری طرف سے چلڈرن ہارٹ سرجری پر مبارکباد دیتی ہوں۔بچوں کی خوشیاں اورسکون میرے لئے سکھ کا باعث ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے دل سے عوام کی مزیدخدمت کرنے کی توفیق دے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے صوبائی وزراء،خواجہ سلمان رفیق،خواجہ عمران نذیر،سیکرٹریزعظمت محمود،نادیہ ثاقب،ڈاکٹر فرقد عالمگیر،سی ای اوپی ایچ آئی ایم سی ڈاکٹر علی رزاق،ہیلتھ اکانومسٹ ڈاکٹر عدنان خان،مشیر صحت ڈاکٹر اظہر محمود کیانی،ڈاکٹرز،نرسوں اورسٹاف کا کارخیر میں حصہ ڈالنے پر شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

Back to top button