گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گوادر میں پانی کے بحران اور اس کے حل سے متعلق میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے نے مشکل ترین حالات میں پانی کے بحران کو مؤثر انداز میں مینج کیا اور آج گوادر میں پانی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں نمایاں حد تک بہتر ہو چکی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران خاطر خواہ بارشیں نہ ہونے کے باعث سوڈ ڈیم اور انکڑا ڈیم خشک ہو گئے تھے، جس سے شہر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں صوبائی حکومت نے عوامی مفاد کے پیش نظر پانی کی فراہمی کی ذمہ داری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے واپس لے کر جی ڈی اے کے سپرد کی، جو کہ ایک بڑا چیلنج تھا تاہم جی ڈی اے نے اسے قبول کرتے ہوئے فوری اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی ڈی اے نے وفاقی حکومت کے فنڈز سے گوادر میں 11 ارب روپے کا واٹر سپلائی منصوبہ مکمل کیا ہے، جس میں تقریباً 150 کلومیٹر مین ٹرانسمیشن لائن، 150 کلومیٹر ڈسٹری بیوشن لائن، چار مختلف مقامات پر تقریباً ایک کروڑ گیلن صلاحیت کے واٹر ٹینکس، اور 11 پمپنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واٹر ٹینکس مکمل طور پر پمپنگ اسٹیشنز سے لیس ہیں۔چیف انجینئر کے مطابق شادی کور ڈیم سے سوڈ ڈیم اور سوڈ ڈیم سے گوادر تک قائم ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے شہر کو 2019 سے پانی فراہم کیا جا رہا تھا اور اس نظام کے تحت اب تک ستمبر 2025 تک مجموعی طور پر 4542 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بحران کے دوران جی ڈی اے نے ہنگامی بنیادوں پر مختلف ذرائع سے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا، جس میں میرانی ڈیم سے بذریعہ ٹینکرز 84 ملین گیلن، شادی کور ڈیم سے 173 ملین گیلن، جبکہ جی پی اے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے 78 ملین گیلن پانی فراہم کیا گیا، جو مجموعی طور پر تقریباً 335 ملین گیلن بنتا ہے۔چیف انجینئر نے کہا کہ میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی ایک بڑا انتظامی چیلنج تھا کیونکہ ماضی میں اس نظام پر بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے رہے تھے۔ تاہم جی ڈی اے نے ٹینکرز مالکان اور واٹر کمیٹی سے مسلسل مذاکرات کے بعد نہ صرف انہیں پانی سپلائی کے لیے آمادہ کیا بلکہ مارکیٹ ریٹ سے کم نرخوں پر پانی کی فراہمی ممکن بنائی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ٹینکرز آپریشن پر اب تک تقریباً 70 کروڑ روپے خرچ ہوئے، تاہم پورے عمل میں کرپشن یا بے قاعدگی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
چیف انجینئر نے مزید بتایا کہ جی ڈی اے نے شادی کور سے گوادر تک تقریباً 150 کلومیٹر پائپ لائن کی بحالی کا بڑا اقدام بھی کیا، جو گزشتہ ساڑھے تین سال سے غیر فعال تھی۔ لائن کی بحالی کے دوران بجلی کی عدم دستیابی، جنریٹرز پر انحصار، لائن کی جگہ جگہ خرابی، آلات کی چوری، موسمی اثرات اور سیکیورٹی چیلنجز جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے بھی وقتاً فوقتاً فیلڈ میں جا کر لائن کا معائنہ کیا اور ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی، جس سے کام کی رفتار میں اضافہ ہوا۔
چیف انجینئر کے مطابق شادی کور لائن سے پانی کی فراہمی 5 لاکھ گیلن یومیہ سے شروع کی گئی اور آج اس کے ذریعے گوادر کو 18 سے 19 لاکھ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس لائن سے پسنی، راستے میں موجود دیہات اور مختلف سرکاری ادارے بھی مستفید ہو رہے ہیں، یوں مجموعی فراہمی 25 لاکھ گیلن یومیہ سے زائد ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بحران کے دوران حکومت چین کے تعاون سے قائم 12 ایم جی ڈی چائنیز واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بحال کر کے اولڈ ٹاؤن میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ اس حوالے سے گوادر پورٹ اتھارٹی کی ٹیم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔چیف انجینئر نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے پرانے، بوسیدہ اور مسائل سے بھرپور انفراسٹرکچر کے باوجود جی ڈی اے نے بحران کو مؤثر انداز میں مینج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مستقل ذرائع بہتر ہونے کے بعد میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے کیونکہ یہ نظام حکومت کے لیے انتہائی مہنگا تھا، جبکہ اب گوادر کو پانی شادی کور پائپ لائن اور جی پی اے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے نے شہر میں نئی پائپ لائنز بچھا کر پانی کے نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کیا ہے اور اب تک 15 ہزار سے زائد ہاؤس کنکشنز نئے نظام پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی کو منظم بنانے کے لیے بلنگ سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے تحت گھریلو صارفین کے لیے 300 روپے ماہانہ فکس فیس تجویز کی گئی ہے جبکہ کمرشل صارفین کے لیے استعمال کے مطابق ریٹ مقرر کیا جائے گا۔آخر میں چیف انجینئر نے کہا کہ جی ڈی اے نے پانی کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے واٹر سیکشن قائم کیا ہے اور شہر کو نارتھ اور ساؤتھ زون میں تقسیم کر کے باقاعدہ مینجمنٹ شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کی مسلسل نگرانی میں ممکن ہوئے۔جی ڈی اے نے اس بحران میں تعاون کرنے والے اداروں، خصوصاً گوادر پورٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، پاکستان آرمی، منتخب عوامی نمائندگان، اور صحافی برادری سمیت سیاسی، سماجی و کاروباری حلقوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔






