وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا سی ای اوز اور ایم ایس کانفرنس سے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سی ای اوز اور ایم ایس کانفرنس سے خطاب کیا اورنوکرپشن اورخدمت کا عہد لیا۔سی ای اوز اورایم ایس کی کارکردگی جاننے کیلئے کے پی آئیزمقررکردیئے۔ہسپتالوں میں مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن اسسٹنٹ مقرر کرنے اورہیلتھ فسیلیٹیشن آپریشن کی ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کیاگیا۔ہسپتالوں میں ایڈمنسٹریٹراورپرکیورمنٹ آفیسر تعینات کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا۔آن کال ڈاکٹرز کیلئے 20منٹ میں ڈیوٹی پر پہنچے کی ہدایت کی گئی۔دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح میں کمی پر منسٹر ز،سیکرٹریز اورپوری ٹیم کو شاباش دی۔ پنجاب کے تحصیل اورڈسٹرکٹ ہسپتال پیپر لیس رجیم میں داخل ہوگئے۔ڈاکٹروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے نئی پرفارمنس،ایولیشن رپورٹ (PER)سسٹم نافذ کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب کے کسی فرد کو علا ج کیلئے دوسرے شہر نہ جانا پڑے،یہی ہمارا ویژن ہے۔جس نے کسی ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا،یہی ہمارا موٹوہے۔سی ای اوز اورایم ایس میرے لئے منسٹر اورسیکرٹری سے بھی اہم ہے۔ہماری بنائی پالیسیوں کا نفاذ سی ای اوز اور ایم ایس کی توجہ اورتعاون کے بغیر ممکن نہیں۔تمام مسائل حل کرنا آسان کام نہیں مجھے توقع ہے کہ کھلے دل سے میری باتیں سن کر ایم ایس ان پر عمل کریں گے۔تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں کمی بیشی سے کسی کی جان نہیں جاتی،ہیلتھ میں غفلت سے کسی کی جان جاسکتی ہے۔لوگ صحت اورسلامتی کیلئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں،کسی کو ایک کو سسکنا یا ایڑھیاں رگڑنا پڑی تو ہم سب کی ناکامی ہے۔اللہ تعالی نے وسائل اور اختیار ہمیں دیئے توغفلت پر پوچھ گچھ بھی ہوگی،زندگیاں بہت قیمتی ہیں۔ہسپتال میں پڑ ی دوائیاں بیچ دی جاتی ہے،ساز باز کر کے سٹوروں سے دوائیاں منگوائی جاتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب اوروسائل سے محروم لوگ ہی آتے ہیں،ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ساہیوال ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ پر گئے توپتہ چلا کہ گارڈ انٹری کیلئے ساڑھے چار سو روپے لیتا ہے۔غضب خدا کا،دوڈھائی کروڑ روپے کی انسولین بیچ کھائی،ذیابیطس کے مریضوں کا کیسے گزارا ہوا ہوگا۔کرپشن کرنے والے کا پیسہ بیماریوں،تکالیف اورآزمائشوں پر نکلتا ہے۔آج کی میٹنگ روایتی نہیں ٹرینڈ سیٹنگ میٹنگ ہے،ایم ایس کو جوش و جذبے اورایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ نئے ایم ایس ذمہ داری سے کام نہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔اللہ تعالی نے آپ کو مقدس ذمہ داری دی،لوگوں نے زندگی بچانے کیلئے علاج آپ کے سپرد کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا علاج امانت ہے،امانت میں خیانت کریں گے تو اللہ معاف نہیں کرے گا۔میں پھر کہتی ہوں کہ پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنے کی بجائے سرکاری ہسپتال میں آنے والا ہر مریض بے وسیلہ ہوتا ہے۔ہیلتھ کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا،پہلے 399ارب روپے تھا،اسے 630ارب پر لے گئے۔ہیلتھ کا بجٹ اگر 1200ارب بھی ہوجائے،ایم ایس اوردیگر ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے تو سب رائیگاں ہے۔لوگوں کو میڈیس،ٹیسٹ کیلئے باہر بھیج دیا جاتا ہے،کوئی بوڑھا لاچار باہر کیسے جائے گا۔مشین خراب ہے تو وسائل میسر ہے،نہیں تو گاڑی بھیج کر باہر سے ٹھیک کرالیں۔انہوں نے کہاکہ ریسپیریٹر خراب ہونے پر والدین کو مریض بچوں کو ہاتھ سے پمپ کرتے دیکھ کر دکھ ہوا۔300 ریسپیریٹر مزید منگوائے ہیں،زندگی اورموت کے درمیان وینٹی لیٹر اورریسپیریٹر ایک لائن ہے۔اگر ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں ہوگا یا نرس کام نہیں کرے گی تو مریض جان سے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کوکیمرے میں قطار در قطار موبائل پر مصروف دیکھاتو دکھ ہوا۔بصد احترام عرض کرتی ہوں کہ ڈاکٹروں کے موبائل استعمال پر پابندی ہے۔8گھنٹے کی ڈیوٹی میں استعمال نہ کرنے سے قیامت نہیں آجائے گی۔ایمرجنسی وارڈز کو سیف سٹی کیمرے سے منسلک کیا،کیونکہ مریضوں کو دوسرے کے رحم و کرم پر بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا،بہتر بنایا لیکن عوام تک اثرات جانے چاہئیں۔جنا ح ہسپتال میں 6ماہ کا سٹاک پڑا ہوا تھا اورآکسیجن ماسک کٹ وغیرہ باہر سے منگوائی جارہی تھی۔ہر مریض کی صورتحال کے مطابق کیو مینجمنٹ کی جائے گی۔ مریض کو مرض کے مطابق ریڈ بے،یلو بے اورگرین بے علاج کیلئے بھیجا جائے گا۔ ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ ایک سے زیادہ تیمار دار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔فارماسوٹیکل کمپنیوں کے نمائندگان کو ہسپتال میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیریچر اوروہیل چیئرکا سٹاک موجود ہے،لیکن مریض کو کیوں نہیں دیا جاتا۔ہر ہسپتال میں ڈے کے مطابق کلر فل بیڈشیٹ تبدیل کی جائے۔ہسپتالوں کی ڈیپ کلینگ کا خیال رکھا جائے،واش روم کوڈمپنگ یارڈ نہیں ہونا چاہیے۔فائر سیفٹی،شارک سرکٹ اوردیگر امور کا خیال رکھا جائے۔ایم ایس اورسی ای اوز کو دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے مریضوں کے درمیان ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ آفس میں حقائق کا علم نہیں ہوسکتا،باہر آئیں گے تو صورتحال کا پتہ چلے گا،تبدیلی نظر آنی چاہیے۔پنجاب کے ہسپتالوں میں 1500ڈاکٹر آچکے ہیں،مزید آچکے ہیں۔ سی ای او ز اورایم ایس شپ ذمہ داری نہیں عوام کی امانت ہے۔ہسپتال میں ایم ایس کی غفلت کا ایک لمحہ کسی کی جان لے سکتا ہے۔ 22ارب روپے کے سابقہ واجبات ادا کیے تاکہ ادویات کی سپلائی چین میں تعطل نہ آئے۔مریض کو واجبات فائل یا پالیسی سے غرض نہیں اسے ادویات ملنی چاہیے۔مریض کو ہر اچھائی یا برائی میں سی ای اوز،ایم ایس اورہم سب نظر آتے ہیں۔سی ای اوز اورایم ایس کے لئے ضابطہ اخلاق مقرر کردیا اب پکڑ بہت سخت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ علاج ہوسکتا تھا لیکن کوتاہی سے جان جانے پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب کے اضلاع میں کیتھ لیب بننے سے لوگوں کے دل کے علاج کیلئے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔مزدور آدمی دل کے علاج کیلئے شہر سے باہر جائے تو اس کے بچے اورگھر کیسے چلے گا۔ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں کسی قسم کا مسئلہ نہیں لیکن لوگوں کے درد کو دل سے محسوس کرنا ضروری ہے۔100ارب روپے کی میڈیسن دے رہے ہیں مگر باہر سے ادویات لانے والی پرچیوں کا کیاکریں۔ساز بازکر کے باہر سے ادویات اور ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔مریض کی کیفیت کو خود پر نافذ کر کے دیکھے تو تکلیف کا احساس ہوگا۔ہر ضلع میں ویجیلنس ٹیمیں متحرک ہیں،خود ہسپتالوں میں جاتی ہوں،کمشنر،ڈی سی،اے سی جاتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button