ریاست کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا معاشرے میں انتشار، عدم استحکام اور تشدد کو جنم دیتا ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا معاشرے میں انتشار، عدم استحکام اور تشدد کو جنم دیتا ہے جس کا مؤثر تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے معاشرے کے تمام طبقات خصوصاً نوجوانوں کو درست سمت دکھانا اور انہیں حقائق سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریزم کے بورڈ آف گورننس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا ، ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سینٹر آف ایکسیلینس تحقیق، آگاہی اور انسدادِ تشدد کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو انتہاپسندانہ رجحانات کے سدباب اور مثبت بیانیے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا انہوں نے زور دیا کہ انتہاپسندی کے تدارک کے لیے ادارہ جاتی تعاون، مربوط حکمتِ عملی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات ناگزیر ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت، تعمیری اور حقیقت پر مبنی بیانیے کو فروغ دیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ کن عناصر کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے انہوں نے کہا کہ پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے نوجوانوں کی شمولیت اور شعور بیداری ناگزیر ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے جامع اقدامات کر رہی ہے اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، انتہاپسندی کے خلاف جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اقدامات کی ہدایت کی گئی دریں اثناء سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پورے بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے، جس سے صوبے میں یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق ایک دیرینہ انتظامی ابہام ختم ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ریاستی ذمہ داری مزید واضح ہوئی ہے اور عوام کے تحفظ کا دائرہ مضبوط سے مضبوط تر ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button