الیکشن کمیشن آف پاکستان نے19 جنوری2026ء کو پاکستان بھر میں 42 کنٹونمنٹ بورڈوں میں پہلے سے موجود 201وارڈوں پر نظر ثانی کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔نوٹیفیکیشن کی اطلاع کے مطابق پنجاب کے20خیبر پختونخواہ کے11،سندھ کے8 اور بلوچستان میں 3،کنٹونمنٹ بورڈوں میں وارڈوں کا جائزہ لیکر 26 اپریل2026 ء کو حتمی اکلان ہو گا۔واضح رہے کہ پاکستان کے کنٹونمنٹ بورڈرز1924 کے قانون جس میں گاہے بگاہے ترامیم ہوتی آئی ہیں۔جبکہ کنٹونمنٹ بورڈوں کی کمپوزیشن میں معمولی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔یہ بورڈز انگریز کے دور میں تشکیل دئے گئے تھے۔ان کے سربراہ تو آرمی آفیسرز ہی چلے آئے ہیں۔مگر اس دور میں چھاؤنیاں شہروں سے دور الگ تھلگ قائم ہوتی تھیں۔ اور ان چھاؤنیوں میں سویلین آبادیاں بھی ہوتی تھیں۔جو زیادہ تر پروفیشنل ہوتے یا کاروباری افراد گھرانے ہوتے تھے۔ملٹری اسٹیٹ کا سول انتظام توملٹری انجینرنگ سروسز کے پاس ہی ہوتا تھا۔مگر سویلین رہائشی علاقوں کی ایڈمنسٹریشن ان بورڈوں کے ذریعہ ہوتی۔جن کے ایگزیکٹو پبلک سروس سے آتے رہے ہیں۔مگر اب صورتحال بدل گئی ہے اب کنٹونمنٹ کے علاقوں میں وسعت آ گئی ہے۔سویلین کی رہائشی آبادیاں بڑھ گئی ہیں۔حجم میں بھی اور جغرافیائی وسعت بھی ہو گئی ہے اب ایڈمنسٹریشن زیادہ پچبدہ ہو گئی ہے۔ٹیکنیکل تجربہ اور شراکتی تقاضہ ہے۔کہ مقامی حکومتی نظام کو چھاؤنیوں میں بھی متعارف کرایا جائے۔ذرا اندازہ لگائیں، کل42کنٹونمنٹ بورڈز نوٹیفائڈ ہیں اور ان میں نصف یعنی 20 صرف پنجاب میں ہیں۔پھر خیبر پختونخواہ میں 11 ہیں۔پھر سندھ میں 8 ہیں جبکہ بلوچستان میں صرف3 ہیں وہ بھی ژوب،لورائی اور کوئٹہ میں اس طرح پورے سندھ میں 8 ہیں۔ مگر صرف کراچی میں 5ہیں جبکہ اندرون سندھ صرف بنو عاقل میں ہے اور حیدرآباد میں ہے مگر خیبر پختونخواہ میں اور پنجاب میں سارے اہم شہروں میں موجود ہیں۔اور اب موجودہ چھاؤنیوں میں ملک کی مہنگی ترین رہائشی کالونیاں آباد ہیں۔جہاں بہترین ایڈمنسٹریشن اور مثالی شہری نظم وضبط دیکھا جاتا ہے۔ان کی مجلہ ایڈمنسٹریشن کالونیوں کی اپنی ہوتی ہے۔مگر یہ کنٹونمنٹ بورڈوں کے فریم ورک میں ہی کام کرتی ہیں۔چنانچہ یہاں کی مقامی حکومتیں محدود فنکشنز کے ساتھ محدود اختیارات کی حامل ہوتی ہیں۔سول اور ملٹری کے باہمی اشتراک کی شکل میں یہاں میونسپل ایڈمنسٹریشن جاری ہے۔گو کہ یہاں گاہے بگاہے انتخابات ہوتے آئے ہیں،مگر ہمارے ہاں معلومات کے فقدان یا بہ آسانی حصول نہ ہونے کے باعث کارکردگی کے جائزہ اور تجربات کا فقدان ہے۔الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات آئین پاکستان،الیکشن ایکٹ2017 ء اور کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن رولز2015ء کے تحت حاصل ہیں۔جس کے تحت وہ کام کرتا ہے۔اور انتخابات کا انعقاد ممکن ہوتا ہے۔بنیادی سوالات یہ ہیں کہ یہ سارا عمل نظر ثانی کا ہے۔نوٹیفیکیشن دیکھیں تو حلقہ بندی کمیٹیاں کون،کیسے اور کس قانون کے تحت تشکیل پائیں گے۔نقشہ جات آبادی کی تفصیلات اور دیگر جغرافیائی حد بندیوں لوکل ایریاز کی نشاندہی کون اور کیسے ہو گی۔یہ سب کچھ اس نوٹیفیکیشن میں واضح نہیں ہے۔اس میں اعلان ہے کہ نقشہ جات،متعلقہ سازو سامان،دوسرے لفظوں میں اسٹیشنری وغیرہ کی خرید و فروخت افسران کی تربیت وغیرہ۔19تا20 جنوری2026ء ہو گی۔یعنی تین چار دن میں چھٹی ملا کر تو یہ پروکیورمنٹ کے قواعد کی مطابقت میں بھی نہیں اگر شروع سے کرنا ہو۔مطلب ہے کہ پہلے سے طے شدہ ہو گا۔اور پھر ابتدائی فہرستوں کا اعلان ہو گا۔پبلک نوٹس ہے اعتراضات کی وصولی اور شنوائی اور حتمی اعلان یہ ہے۔ حلقہ بندیوں اور وارڈز پر نظر ثانی کا سارا عمل۔ہمیں کچھ زیادہ نہیں کہنا۔مگر گزارش ہے کہ اگر مقامی حکومتیں تشکیل ہی دینا ہیں اور رہائشی آبادی کو شریک کار بنانا ہے تو جملہ قوانین پر نظر ثانی کریں۔مقامی افواج اور ان کے اداروں کی لازمی مشاورت بھی شامل ہو مگر وہاں رہائشی مکینوں کے خیالات بھی تو معلوم کریں۔مقامی حکومتیں معنوی طور پر لوکل سیلف گورنمنٹ ہوتی ہیں۔حکومت خود اختیاری
Read Next
3 دن ago
*مجوزہ آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام
3 دن ago
*مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانے کی مہم* تحریر:زاہد اسلام
1 ہفتہ ago
*بڑے شہروں میں آگ لگنے کے واقعات اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام
2 ہفتے ago
*اسلام آباد میں اعلٰی سطحی اجلاس(سمٹ)* تحریر: زاہد اسلام
3 ہفتے ago






