*بسنت تہوار کی کامیابی کے بعد کیا کیا جائے* تحریر :زاہد اسلام*

بسنت کا تہوار تو پنجاب کے وسطی اور مشرقی اضلاع میں قدیم روایات کے طور پر منایا جاتا رہا ہے۔ بسنت سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی ہی آمد بہار ہے۔یہ پچاس ساٹھ کی دہائیوں میں لاہور اور قصور کے اضلاع میں عوامی سطح پر منایا جاتا تھا۔سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے اضلاع میں بھی اکا دکا جگہوں پر پتنگ بازی ہوتی تھی وجہ اس کی صاف تھی کہ سخت سردی کا خاتمہ ہو رہا ہوتا تھا۔بچے بوڑھے کہتے تھے کہ”آئی بسنت اور پالا ڈنٹ“ان ایام میں ہوائیں کافی چلتی تھیں۔اس لئے پتنگ اڑانے میں آسانیاں بھی ہوتی تھیں۔ہمارے دیکھتے دیکھتے لاہور میں جدید،لبرل خیال اور خوشحال اشرافیہ نے اس تہوار میں جان ڈال دی جب غیر ملکی سفارت کاروں کو بھی مدعو کرنا شروع کر دیا اور پھر دوست احباب رشتے داروں کی شمولیت سے مزید جدت آتی گئی۔تیز باجے اور ڈھول کی آمد نے اسے بہت پر کشش بنا دیا۔ایک خاتون سنگر کی آواز نے جادو بھر دیا”لگا پیچا تو دل ہو ا بو کاٹا“پاپولر گانا بن گیا۔یہ تہوار اپنی رنگینیوں کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد تقریبا نصف صدی تک بغیر سرکاری سرپرستی از خود مینجمنٹ کے ساتھ جاری تھا۔یہ تہوار صرف ایک تہوار نہیں تھا بلکہ جشن بہاراں اور ہارس اینڈ کیٹل شو ہوا کرتا تھا اور بات صرف لاہور کی نہیں تھی پورے پنجاب میں کھیلوں کے مقابلے مویشیوں کی منڈیاں بھی لگتی تھیں یوں جشن بہاراں پورے صوبہ میں منایا جاتا تھا۔اور یہ جشن بہاراں سیاسی شو نہیں ہوتا تھا۔اس کی مینجمنٹ میں مقامی حکومتیں بالخصوص ضلعی کونسلیں ہی کے زیر اہتمام کیا کرتی تھیں۔ہر تحصیل،ہر قصبہ اور ہر ضلع میں کھیلوں کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔آہستہ آہستہ یہ سب کچھ کمر شل ہوتا گیا۔سپانسر شپ کا تصور متعارف ہوا،تشہیری کاروبار نے ریونیو پیدا کیا تو مقامی حکومتوں کا یہ فنکشن صوبائی حکومتوں کو منتقل ہوتا گیا۔ضروری ہے کہ پورے پنجاب میں حسب ماضی دیگر تہواری تقریبات بھی سرکاری سرپرستی سے از سر نو شروع کی جائیں۔ان میں بعض روایتی کھیل بھی ہیں۔کار ریلی،سرائیکی علاقوں میں گھوڑ دوڑیں،نیزہ بازی کے مقابلے،ضلعی سطح پر فٹ بال،کبڈی،رسہ کشی کے مقابلے اور دیگر جدید کھیلوں کی سرگرمیاں اور ان کے انعقاد پر میلے لگانا ایک نئی ابتدا کا نکتہ آغاز ہو سکتا ہے۔اور یہ سب کچھ سرکاری سرپرستی میں مگر مقامی حکومتوں کے زیر اہتمام مقامی لوگوں کے اشتراک عمل سے کیا جائے۔تو عوام کو سستی تفریح بھی ملے گی جو مہذب شہریت کو مستحکم کرے گی اور عوام کی شراکت داری سے احساس ملکیت اونر شپ میں بھی درستگی ہو گی جو احساس محرومی کو کم کرے گی۔ہاں یہ ایک المیہ ہے کہ ہر تفریح،ہر کھیل میں سیاسی پہلو نکل آتا ہے۔ اور آزادی یا کھلا پن سے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔تو حالیہ تجربہ مثبت رہا ہے۔کہ SOP پر عمل درآمد سختی سے ہو تو امن و امن کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے۔مہنگائی اور دیگر ضروریات زندگی کے بوچھ نے بہت بڑی آبادی کو پتنگ بازی کے شوق سے باہر کر دیا ہے۔ڈور کا پنہ ہزاروں میں اور پتنگوں کی بھاری قیمتیں اب بہت بڑی آبادی کی برداشت سے باہر ہو چکی ہیں۔مگر ہمارے ہاں سیاسی دوکانداری کا تقاضا ہے کہ مصنوعی طور پر شور ڈالا جائے کہ سارا لاہور یہ تہوار منا رہا ہے۔گلبرگ لاہو ر اور لبرٹی چوک سرکاری خرچے پر سجایا گیا ہے گو کہ سپانسر شپ حاصل کی گئی ہے۔مگر وہاں سڑکوں پر گھومنے والے شہریوں کی بڑی تعداد محض تماشائی ہیں جو اپنے حسرت بھرے بچوں کے ہمراہ چھٹیاں انجوائے کر رہے تھے زیادہ سے زیادہ کھانا باہر کھائیں ہوں گے۔یہ مثبت تبدیلی ہے کہ سرکاری سرپرستی نے احتیاطی تدابیر اور ایس او پی پر عمل درآمد سختی سے کرایا ہے۔لیکن اگر سرکار جشن بہاراں کو صرف ایک شہر تک محدود رکھے گی۔جبکہ دیگر علاقوں میں لوگ مسائل کا شکار ہوں گے۔تو احساس محرومی میں اضافہ نئے تضادات کو نمودار کرے گا۔ہماری تفریح تعلیم،صحت،سہولیات چند شہروں تک محدود رکھنے سے یہ منفی اثرات ہونگے۔سرکاری کنٹرول میں جانے کی بدولت عوامی ملکیتی تصور ماند پڑتا گیا۔کائٹ ایسوسی ایشن غائب ہوئی۔ انجمن شہریاں لا پتہ ہو گئی،اب عوامی شراکت اور خود مختاری ختم ہوتی گئی اور کمرشل بنیادوں پر سپانسر شپ اور سرمایہ کاری نمودار ہوتی گئی۔ظاہر ہے منافع اور انکم جنریشن کا تصور بھی تقویت پا گیا۔ہمارے عوام میں سوک ایجوکیشن تو ویسے ہی کم ہے نہ ہمارے حکمران نہ پالیسی ساز اور نہ ہی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے سرکل عوامی شعور کا احساس کرتے ہیں۔بلکہ اسے کوئی بنیادی عوامل کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتے جو مہذب شہریت کو پروان چڑھانے کے لئے بنیادی شرط ہے لا محالہ ہمارے شہری خود بھی ثقافتی تہواروں کو اپنے لئے تفریح اور سکون کی بجائے دوسروں کے لئے اذیت کا ذریعہ بنانے پر تل گئے۔بسنت میں دھاتی ڈور کا استعمال یا نائلون والی ڈور اور مشینی چرخیاں لگا کر پیچ لڑانے کے آغاز نے حادثات میں اضافہ کر دیا۔سونے پہ سہاگہ ہمارا طبقاتی معاشرتی نظام کی بے رحمی کہ ایک چھوٹا طبقہ خوشحال اور صاحب استطاعت ہے جو ایسے تہواروں کو منانا جبکہ مستفید ہونے والوں میں غربا اور کم آمدن والے لوگ جو کٹی ہوئی پتنگوں اور ڈوریں اکٹھا کرنے کے چکر میں ڈھانگے لئے سڑکوں پر حادثات کا شکار ہوئے یا چھٹیوں سے گر کر زخمی ہونے اور منچلے موٹر سائیکل سوار جو بے گناہ چلتے چلتے ہوئے ان ڈوروں کا نشانہ بنے تو پھر عدالتی نوٹس پر بسنت کا تہوار ہی ختم کر دیا گیا اور یہ سلسلہ 25سالوں تک بر قرار رہا ہے۔صرف یہی تہوار نہیں ختم ہوا تھا بلکہ اس طرح کے دیگر تہوار اور جشن میلے بھی اسی سرد مہری کا شکار ہوئے۔اب چوتھائی صدی کے بعد سرکاری سرپرستی میں اس تہوار کا آغاز نو کیا گیا تو ایک پوری نسل اس سے لا علم ہے مگر نوجوانوں کی تعداد آبادی میں بڑھ چکی ہے موٹر سائیکلوں کی بھی تعداد میں بڑھ چکی ہیں اور بسنت کو سپانسر کرنے والے بھی اب زیادہ ہیں۔نتیجتا ھلہ گلہ زیادہ ہوا۔مگر بسنت منانے والوں کی تعداد میں اتنا اضافہ نہیں ہوا۔کیونکہ اب یہ تہوار بڑا مہنگا بن گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button