*مجوزہ آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام

جدید جمہوری مملکتوں میں مضبوط اور با اختیار مقامی حکومتیں انتہائی اہم قرار دی جاتی ہیں کیونکہ عوام کے روز مرہ رہائشی اور بنیادی ضروریات زندگی کا انظام و انصرام مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں اہم ترین فریضہ تصور کیا جاتا ہے۔حال میں نیو یارک کے میئر کے انتخابات نے دنیا بھر کی توجہ ایک بار پھر مقامی حکومتوں کی طرف مبذول کر لی ہے۔اس سے قبل لندن کی مقامی حکومتی انتخابات سے بھی نمایاں حیثیت مل گئی تھی۔اس سے قطع نظر ہمارے ملک میں مقامی حکومتوں کو سیاسی انرولمینٹ اور تربیت کی نرسری بھی سمجھا جاتا ہے جو درست بھی ہے۔اور پھر ہمارے ملک میں پالیسی کے بنیادی اصولوں میں بھی مقامی حکومتوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔پھر آئین کے آرٹیکل7 میں اسے ایک ابتدائی سطح کی حکمرانی بھی تسلیم کیا گیا ہے اور صوبوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے قانون کی رو سے مقامی حکومتوں کو تشکیل دیں اور انہیں مالی سیاسی اور انتظامی لحاظ سے با اختیار کریں،مگر عملی طور پر ملک کے چاروں وحدتوں اور وفاقی دارالخلافہ میں مختلف شکلوں میں مقامی حکومتیں ہیں۔ان کے مابین مماثلت کے پہلو کم ہیں اور ایک اہم مسئلہ صوبائی حکومت اور مقامی حکومتوں کے دورانیہ میں فرق ہے۔صوبائی حکومتیں آئینی طور پر پانچ سال کے لئے برسر اقتدار آتی ہیں،جبکہ مقامی حکومتوں کا دورانیہ یا تو چار سال ہوتا ہے اور پھر صوبہ اور مقامی حکومت کے دورانیہ میں یکسانیت نہیں ہوتی۔جب بھی نئی صوبائی حکومت آتی ہے توصوبہ اور مقامی حکومتوں میں آغاز اور اختتام میں فرق ہوتا ہے یا تو مقامی حکومتیں پہلے سے تشکیل پا چکی ہوتی ہیں یا ان کا دورانیہ اختتام پزیر ہو رہا ہوتا ہے۔نتیجتا سیاسی بالادستی بر قرار رکھنے کی خواہش میں جاری مقامی حکومتوں کی سرپرستی ختم ہو جاتی ہے۔ماسوائے فوجی حکومتوں کے دور میں ایسا ہوتا آ رہا ہے۔سال2013ء سے دیکھیں ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر نئی حکومتیں آئیں تو منتخب مقامی حکومتیں 2010 کے بعد سے نہیں تھیں،مگر نئی حکومتوں نے قانون بنانے اور انتخابات میں تین سال لگا دئیے،کہ ان کے انتخابات سال2015 میں مکمل ہوئے۔دیکھا گیا کہ مکمل فعالیت کے ساتھ مقامی حکومتیں ملک بھر میں 2017 ء میں موجود تھیں۔تو2018ء میں نئے انتخابات اور پھر نئی حکومتیں بر سر اقتدار آ گئیں،تو2013 ء کے قوانین کے تحت مقامی حکومتوں سے سوتیلا پن والا سلوک شروع ہو گیا۔کیونکہ صوبائی اور مقامی حکومتیں مختلف پارٹی وابستگیوں کے ساتھ تھیں اور پھر جاری مقامی حکومتوں کا دورانیہ 2021 ء میں اختتام پزیر ہو،ا تو 2024ء میں نئی حکومتیں صوبوں میں آ گئیں۔تو پھر مقامی حکومتوں کی صوبائی سرپرستی ختم ہو گئی۔بنیادی بات یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کو صوبائی فریم ورک میں ہی متحرک ہونا ہوتا ہے۔اس لئے مقامی حکومتوں کا دورانیہ اور صوبائی حکومتوں کا دورانیہ یکساں ہونا چاہیے۔اکٹھا شروع ہو اور اکٹھا اختتام پزیر ہو۔تا کہ نہ تو دورانیہ مختلف ہو اور نہ ہی سیاسی عدم موافقت پیدا ہو۔کیونکہ اگر صوبہ میں ایک حکومت بنے گی اور مقامی حکومت بھی اسی کے ساتھ بنے گی تو لا محالہ ایک ہی سیاسی پارٹی دونوں سطحوں پر ہو گی۔لہذہ ماضی کی طرح مسائل بار بار پیدا نہیں ہونگے۔اور پھر قانون یکسر تبدیل ہونے کا عمل بھی ماند پڑے گا۔ترامیم ہوں گی، مگر یکسر نئے نہیں ہونگے۔مثال کے طور پر صوبہ سندھ،،خیبر پختوخواہ اور بلوچستان میں ایک ہی پارٹی کی حکومت بار بار آتی ہے تو 2013ء کا قانون ہی ترامیم کے ساتھ موجود ہے گو کہ ترامیم ہوتی آ رہی ہیں برعکس پنجاب میں صورتحال مضحکہ خیز رہی ہیں۔2018ء کے بعد سے پانچ قوانین آ چکے ہیں۔ترامیم الگ ہیں۔یہ پانچوں قوانین ایک دوسرے کو منسوخ کر کے آئے ہیں۔ ما سوائے 2019 ء کے دو قوانین کے،2021 ء کا آیا تو2019 ء کو منسوخ کر کے پھر2022 ء کا آیا تو 2021 ء کو منسوخ کر کے پھر2025ء نے2022ء کے قانون کو منسوخ کیا اور انتخابات گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہو سکے،جبکہ چار صوبائی حکومتیں بھی تبدیل ہوئی ہیں۔میری تجویز یہ ہے کہ سیاسی حکومت کی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے اور بار بار قانون کی تبدیل اور سارے نظام میں تبدیلیوں کو دھیما کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اول تو مقامی حکومتوں کا دورانیہ اور صوبائی حکومت کا دورانیہ یکساں ہو اس کے لئے لازمی ہے کہ دونوں کے انتخابات ایک ہی وقت پر اکٹھے ہوں۔ووٹرز عام انتخابات میں تین ووٹ ڈالے،جنکے رنگ مختلف ہوں۔ اور الگ الگ ڈبوں میں ڈالیں جائیں یہ کوئی انوکھا یا مختلف تجربہ نہیں ہو گا۔ہر ووٹر پہلے بھی قومی اور صوبائی حلقہ میں اپنا امیدوار منتخب کرتا ہے تو وہ مقامی حلقہ میں بھی اپنے امیدوار کو اسی وقت منتخب کرے اور یہ سب پارٹی بنیادوں پر ہوں گے۔تو ایک ہی انتخابی نشان بھی سہولت کا سبب بنے گا۔

دوسرا مسئلہ صوبوں کے مقامی حکومتی نظام کی یکسانیت کا ہے کیا مضائقہ ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرح مقامی حکومتوں کا نظام بھی سارے صوبوں میں ملتا جلتا ہی رائج ہو۔ عوام کی انڈر سٹینڈنگ میں بھی بہتری آئے گی۔اور کوئی حرج بھی نہیں ہے۔مثال کے طور پر خیبر پختونخواہ کی نیبر ہڈ کونسل اور ویلج کونسل اور پنجاب سندھ کی یونین کونسل میں فرائض،دائرہ کار اختیار کمپوزیشن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔تو نام الگ الگ کیوں ہیں۔میونسپل کمیٹیاں،میونسپل کارپوریشن،میٹروپولیٹن کارپوریشن،ٹاؤن،ضلع،تحصیل کونسلیں،نام،فرائض،دائرہ کار اور اختیارات کے تناظر میں ایک جیسی ہیں۔تو ہر جگہ یہی نام کیوں نہیں دئیے جا سکتے۔یہ عام فہم ہیں اور کنفیوژن میں کمی کا سبب بنیں گے۔یہ خوش آئندہ ہے کہ اس سال گلگت بلتستان میں صوبائی اسمبلی اور لوکل گورنمنٹ کے انتخابات ایک ہی روز ہونے جا رہے ہیں۔میری گزارش ہوگی کہ مجوزہ آئینی ترامیم میں اس ایشو کو بھی ایڈریس کیا جائے،جو آسانی پیدا کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button