پاکستان میں جس طرح کے مسائل ہیں ان میں معاشی،سیاسی اور انتظامی مسائل سر فہرست ہیں۔اور ہمارے معاشرے میں ہر کوئی غیر مطمین ہے اور کسی نہ کسی شکل میں اجتماع کرتا نظر آتا ہے۔ملک میں صنعت کاری کی رفتار دھیمی ہوتی جا رہی ہے،جبکہ خدمات کی فراہمی میں اضافہ کا رجحان ہے۔ملک کے صنعتی اور سرمایہ کار کہتے ہیں۔کہ ٹیکسوں کا بوجھ،ریگولیشن میں شدت اور انرجی، دیگر سہولیات کا فقدان ہے کا سٹ آف پروڈیکشن میں اضافہ کا گراف تیزی سے اوپر جاتا نظر آتا ہے۔مگر بروزگاری کی شرح کم نہیں ہو رہی،اربن شہری خصوصیات غالب رجحان ہے۔ملک کے اندر دیہات سے شہروں کی طرف منتقلی کا بھی رجحان ہے۔مگر مقامی حکمرانی کی صورتحال بہت تسلی بخش نہیں ہے۔پارلیمنٹ میں اب دو سالوں پر حزب اختلاف کے لیڈر کا تصور ہوا ہے۔جبکہ گزشتہ دو سالوں میں ملکی آئین میں بنیادی تبدیلیاں بھی ہو چکی ہیں۔اپوزیشن کا اختلاف بھی سڑکوں پر ہو رہا تھا۔اگر عام شہری اطمینان انگیز زندگی نہ گزار رہا ہو تو مجموعی یکجہتی سے کاوبار حکومت نہیں چلتا۔اور اگر کوئی واضح موقف نہ ہو تو بھی یکجہتی کا عمل دھیما رہتا ہے۔یہی خصوصیات ہوتی ہیں کہ ہم اسے بحران سے تشبیہ دیتے ہیں۔یہ کیفیت کسی واضح متفقہ بیانیہ کے فقدان کا مظہر بنتی ہے اور پھر بحران نئے وسائل کو پروان چڑھاتے ہیں۔یہی ہم دنیا بھر میں دیکھتے آئے ہیں۔پاکستان کا وفاقی نوعیت کا حکومتی نظام حکومت ہی مناسب ہے۔اسی کے اندر رہتے ہوئے تین سطحی حکومتی نظام وضح کیا جانا چاہیے،جو ہے اور آئینی وضاحت بھی ہے مگر اختیارات کے حوالہ سے قدرے نا انصافیاں ہیں۔ پنجاب کے جنوبی اضلاع کو تحفظات ہیں۔شکایات بجا بھی ہیں کہ حکمرانوں کا زیادہ ترجیحی سلوک بڑے شہروں میں نمایاں ہوتا ہے۔تو پس ماندہ علاقوں کے رہائشی سوالات اٹھاتے ہیں۔جو خاصہ وزن رکھتے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں سرائیکی وسیب کے عوام کے مسائل زیادہ شدت اور تکلیف دہ ہیں یہ بہت بڑے شہروں کے حالانکہ بڑے شہروں میں بھی مسائل کم نہیں ہیں مگر ترجیحات تو دیکھیں۔کیا وجہ ہے کہ اب بھی دیہی علاقوں کے عوام،روزگار،تعلیم،صحت اور کاروبار کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔اور مائیگریشن کا یہ رجحان دن بدن بڑھ رہا ہے۔آخر ایسا کیوں ہے۔اور اس اندرونی مائیگریشن کے اثرات سماجی،معاشی،معاشرتی کیا ہیں۔نتائج کیا برآمد ہو رہے ہیں اس مسئلہ پر کبھی کوئی تحقیق یا بحث نظر آئی ہے۔آپ اس کیفیات کے تناظر میں مقامی حکومتوں کا سکوپ فرائض/ اختیارات اور وسائل اور پھر پالیسی سازی اور فیصلے کرنے کا اختیار کسے۔کس سطح پر دینا چاہیں گے۔یہ ہے اصل سوال جس پر غور کریں۔






