حکومتِ پاکستان نے مردان سے تعلق رکھنے والے نامور سائنسدان اور ماہرِ مائیکرو بایولوجی، پروفیسر ڈاکٹر حاضر رحمان کو یونیسکو کے معتبر “کارلوس جے فنلے بین الاقوامی ایوارڈ” کے لیے نامزد کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ یہ اعزاز مائیکرو بایولوجی کے میدان میں دنیا کے اہم ترین عالمی انعامات میں شمار ہوتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر حاضر رحمان کا تعلق تحصیل کاٹلنگ کے علاقہ کہوئی برمول سے ہے وہ اس وقت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں شعبۂ مائیکرو بایولوجی و طبی لیبارٹری ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں، جہاں وہ علم، تحقیق اور تربیت کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کی شہرۂ آفاق جارج آگسٹ یونیورسٹی گوٹنگن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ ان کے تحقیقی مقالات دنیا کے معتبر ترین سائنسی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جو ان کی علمی گہرائی اور تحقیقی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔اپنے شاندار کیریئر کے دوران ڈاکٹر حاضر رحمان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال، پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن، کوہاٹ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور جرمنی کی میڈیسن گوٹنگن یونیورسٹی جیسے ممتاز اداروں میں خدمات انجام دیں۔ ان کی تدریسی و تحقیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بہترین یونیورسٹی استاد کے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
یونیسکو کے اس باوقار ایوارڈ کے لیے ان کی نامزدگی، مائیکرو بایولوجی میں ان کی گراں قدر تحقیق، تدریسی کامیابیوں، عوامی صحت کے شعبے میں سائنسی خدمات اور بالخصوص کووڈ۔19 کی عالمی وبا کے دوران ان کی مثالی و مؤثر کارکردگی کا اعتراف ہے۔ یہ ایوارڈ اُن سائنسدانوں کو دیا جاتا ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے مائیکرو بایولوجی کے میدان میں غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر حاضر رحمان کی نامزدگی ان کی سائنسی لیاقت، قومی و بین الاقوامی سطح پر تحقیق کے فروغ اور علم دوستی کی روشن روایت کو خراجِ تحسین ہے۔ یونیسکو کا یہ اعزاز مائیکرو بایولوجی کے عظیم معمار ڈاکٹر کارلوس جے فنلے کی یاد میں دیا جاتا ہے، جو انسانی صحت کے تحفظ کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ڈاکٹر حاضر رحمان کی یہ شاندار کامیابی نہ صرف عبدالولی خان یونیورسٹی مردان بلکہ پوری پاکستانی قوم، بالخصوص پشتون خطے کے لیے باعثِ فخر اور مسرت ہے—یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع میسر ہوں تو اس دھرتی کے سپوت عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔






