خیبر پختونخوا میں بلدیاتی حکومتوں کی مدت 15 مارچ 2026 کو مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد صوبے بھر میں تحصیل میئرز اور چیئرمینوں کے اختیارات ختم ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو فراہم کی گئی سرکاری سیکیورٹی اور سرکاری گاڑیاں بھی فوری طور پر واپس لے لی جائیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام کی مدت ختم ہونے کے بعد مقامی حکومتوں کے بیشتر انتظامی اختیارات عارضی طور پر ضلعی انتظامیہ کو منتقل کیے جائیں گے، جس کے تحت مختلف امور کی نگرانی ڈپٹی کمشنرز کریں گے۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو ابتدائی ہدایات بھی جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ انتظامی امور میں خلل پیدا نہ ہو۔
دوسری جانب بلدیاتی نمائندوں کی مدت میں ممکنہ توسیع کے معاملے پر صوبائی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں اس اہم معاملے پر مشاورت کی جائے گی۔ اگر حکومت کی جانب سے مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا تو بلدیاتی ادارے بدستور کام جاری رکھ سکیں گے، بصورت دیگر 15 مارچ کے بعد صوبے میں بلدیاتی نمائندوں کا آئینی کردار ختم ہو جائے گا۔بلدیاتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران انہیں نہ مکمل اختیارات دیے گئے اور نہ ہی ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے، جس کے باعث مقامی سطح پر ترقیاتی کام متاثر رہے۔ نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر مدت میں توسیع کے ساتھ فنڈز بھی جاری کیے جائیں تو وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے لیے مختص بجٹ میں اربوں روپے کے فنڈز اب تک جاری نہیں کیے گئے، جس پر بلدیاتی نمائندوں اور مقامی سطح پر منتخب قیادت کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے کنوینر و رکن صوبائی اسمبلی نذیر احمد عباسی نے کی۔ اجلاس میں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی شرکت کی۔یاد رہے کہ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بلدیاتی نمائندوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے 6 مارچ 2026 کو اس پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکینِ اسمبلی محمد سجاد، اکبر ایوب خان، طارق سعید، میاں شرافت علی، احتشام علی، محمد انعام اللہ خان، آصف خان، احمد کنڈی، سجاد اللہ، ملک طارق اعوان، ارباب محمد وسیم اور محمد نثار نے شرکت کی۔اجلاس میں مقامی حکومتوں سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے جن میں صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا و میئر ضلع مردان حمایت اللہ خان مایار، چیئرمین تحصیل کونسل سرائے نورنگ و ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا عزیز اللہ خان مروت، چیئرمین تحصیل لوکل گورنمنٹ حسن خیل پشاور حافظ الرحمن اور کوآرڈینیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا انتظار علی خلیل شامل تھے۔کمیٹی نے معاملے پر تفصیلی بحث کے بعد متفقہ طور پر سفارشات مرتب کیں۔ کمیٹی نے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارش کی کہ چونکہ آئین اور مذکورہ ایکٹ میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد ان کی مدت میں توسیع یا تسلسل کے حوالے سے کوئی واضح قانونی گنجائش موجود نہیں، اس لیے ان کی مدت میں توسیع قانونی طور پر ممکن نہیں۔کمیٹی نے مزید واضح کیا کہ چونکہ بلدیاتی نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے حکومت کی جانب سے کسی ترمیم کے ذریعے ان کی مدت میں توسیع بھی قانونی طور پر قابلِ عمل نہیں۔کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ ضلع کونسلوں کی بحالی کے حوالے سے موجودہ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 پر نظرثانی کی جائے تاکہ قانون کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی نے تجویز دی کہ یا تو اس ایکٹ میں مناسب ترامیم کی جائیں یا ضرورت کے مطابق نئی قانون سازی کی جائے۔کمیٹی نے یہ بھی قرار دیا کہ مذکورہ سفارشات کے باوجود صوبائی حکومت مناسب سمجھے تو اس حوالے سے اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی۔





