پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کا آن لائن سسٹم ناکام ہو چکا ہے،سینکڑوں مزدوروں کی پےمنٹ آن لائن نہ ہو سکی جبکہ کوئی افسر بات سننے کو تیار نہیں اِن خیالات کا اظہار متحدہ لیبر فیڈریشن پنجاب کے صدر چوھدری محمد اشرف نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔اُنھوں نے کہا کہ دو دو تین تین سال بعد مزدوروں کی میرج گرانٹ کے کیس منظور ہوئے جبکہ اُن کو چیک دینے کی بجائے آن لائن پےمنٹ کی گئی مگر بورڈ اور بنکوں کی ملی بھگت سے سینکڑوں مزدور اپنی رقم لینے سے محروم ہیں ۔اِس عید کے موقع پر مزدور بورڈ کی انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور بد دعائیں دینے پر مجبور ہیں۔ چوہدری محمد اشرف نے کہا کہ بورڈ میں کالج مافیا کا راج ہے وہ بورڈ کے اعلیٰ آفیسرز کے ساتھ ملکر اپنے کیس منظور کروا کر پےمنٹ بھی لے جاتے ہیں اور عام مزدور دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔چوہدری محمد اشرف نے مذید کہا کہ کالج مافیا ورکرز کے نام پر جعلی کیس منظور کروانے میں مصروف ہے اور اِس میں بورڈ کے لوگ بھی شامل ہیں جبکہ بورڈ کا سارا فنڈ ورکرز کا ہے مگر بورڈ کے آفیسرز اِس فنڈ سے گاڑیاں خریدتے اور دفاتر کی تعمیر و مرمت پر فضول اخراجات کرتے ہیں اور انھیں کوئی پوچھینے والا کوئی نہیں ہے۔
چوہدری محمد اشرف نے کہا کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں تین ماہ قبل فلیٹس کی قرعہ اندازی کی گئی اِس موقع پروزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر فلیٹس کی چابیاں ورکرز کو تقسیم کردی جائیں گی مگر ابھی تک کسی بھی ایک الاٹی کو چابی نہیں دی گئی۔انھوں نے خدشہ ظاہر کیاہےکہ زیادہ عرصہ فلیٹس بند رہے تو ایک تو قبضہ مافیا بورڈ کے لوگوں کے ساتھ مل کر فلیٹس پر قبضے کرئے گا اور فلیٹس بند رھنے کی وجہ سے خراب بھی ہوں گے۔مزدور رہنما چوہدری محمد اشرف نے مزدور تنظیموں سے اپیل کی کہ پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ کے خلاف مشترکہ طورپر احتجاجی پروگرام ترتیب دیا جائے تا کہ مزدوروں کے مسائل کو حل کروایا جا سکے۔اِس سلسلہ میں انھوں نے بہت جلد مزدور تنظیموں کی مشترکہ اجلاس بلائے جانے کا عندیہ بھی دیا۔






