وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و سیٹلمنٹ کا اہم اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ریلیف، بحالی و سیٹلمنٹ کا اہم اجلاس بذریعہ وڈیو لنک منعقد ہوا جس میں ممکنہ کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کے پیش نظر آئندہ سمر سیزن کے لیے جامع کنٹنجینسی پلان مرتب کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حساس مقامات پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رمضان کے فوری بعد ریور بیڈز اور بڑے شہروں میں تجاوزات کے خلاف بھرپور مہم شروع کی جائے گی تاکہ ممکنہ سیلابی خطرات کو کم کیا جا سکے۔ سیلاب متاثرین اور ٹی ڈی پیز کو معاوضوں کی بروقت ادائیگی کے لیے درکار وسائل کی اصولی منظوری بھی دی گئی جبکہ مختلف اضلاع میں ادائیگیوں کے عمل کو تیز کرنے اور شارٹ فال دور کرنے کے لیے تفصیلات طلب کی گئیں۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ریسکیو 1122 کی 1326 آسامیوں پر بھرتی کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 1125 آسامیوں کی تخلیق سے بھی اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہیومن ریسورس اور اثاثہ جات کی مؤثر مینجمنٹ کے لیے جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے اور محکمانہ امور کو مرحلہ وار ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ویئر ہاؤسز کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا گیا تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں امدادی سامان کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید برآں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس طلب کرنے اور اس مقصد کے لیے تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ ریسکیو 1122 دفاتر تحصیل سطح تک توسیع کے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے اور 2027 تک صوبے کی تمام تحصیلوں میں دفاتر قائم کر دیے جائیں گے۔ اسی طرح پانچ سالہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر بھی کام جاری ہے اور خیبرپختونخوا اس نوعیت کا جامع پلان بنانے والا ملک کا پہلا صوبہ ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button