*لاہور اور سر چھوٹو رام* اشرف شریف

اس جگہ میں کوئی چالیس سال بعد آیا تھا ۔ایسا احساس پہلے کبھی نہیں ہوا۔ شائد آپ کو بھی نہ ہوا ہو۔ اس کہانی کا میں حصہ رہا‘ اتنے برس ہو گئے‘ اچانک سے پتہ چلا کہ میں جو کچھ پڑھ رہا ہوں‘ جن کو پڑھ رہا ہوں‘ ان کی کہانی کا ایک ریشمی گوشہ تو میری ننھی منی مٹھی میں تھا۔ اس عمارت کی چھت پر ہمارا کوارٹر تھا، سادہ سا۔ باہر پیلے رنگ کی قلعی پورے عمارت کا ملبوس تھی۔کوارٹر کے آگے کشادہ صحن‘ صحن سے آگے سیڑھیاں نیچے اترتی تھیں۔ ان پر کوئی پتھر یا آرائشی ریلنگ نہیں تھی۔سیمنٹ کا پلستر تھا بس ۔ عمارت بنانے والوں نے ایسا ہی رکھ دیا‘ میری یادداشت اچھی ہے‘بڑے بھائی سکول جاتے تو انہیں ان سیڑھیوں پر بیٹھ کر آوازیں دیتا‘ یہ الفاظ نہیں صرف آوازیں تھیں‘ کیفیات سے بھری‘ جو ماں باپ اور بہن بھائی ہی سمجھ سکتے ہیں۔ دوسروں سے بات کرنے کے لئے تو الفاظ سیکھنا پڑتے ہیں۔

ایک بار میں بڑا سا پھاٹک کھول کر باہر سڑک پر آ گیا۔ وہاں ارجن کا بلند قامت درخت تھا۔ اس پر کوﺅں کا ٹھکانہ تھا۔ شائد کوے کا کوئی بچہ نیچے گر گیا تھا۔ درخت پر ان کی پوری فوج بیٹھی تھی۔ میں جونہی درخت کے سامنے سے گزرنے لگا۔ دو تین کوے حملہ آور ہو گئے‘ ٹھونگے لگے تو میں روتا ہوا واپس گھر کے اندر آ گیا۔ کوئی چار کنال پر مشتمل یہ عمارت میرا گھر تھا یا پھر ان کا ،جن لوگوں نے 1930ءکے لگ بھگ اسے تعمیر کیا۔ باقی وقت یہ عمارت سرکاری دفاتر میں بدلتی رہی۔کبھی تعلیمی ادارہ ، کبھی شناختی کارڈ کا دفتر اور کبھی کوئی کاروباری دفتر۔ کچھ بڑے ہوئے تو پتہ چلا یہ تحریک پاکستان کی ممتاز کارکن بیگم سلمیٰ تصدق کا گھر ہے۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے یہ الاٹ کرا لیا ہوگا یا الاٹ کرانے والے سے خرید لیا ہو گا۔کچھ روز ہوئے اباجی سے ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی تھیں‘ انہوں نے کسی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم چھوٹو رام والی کوٹھی میں رہتے تھے۔ اس انکشاف کے ساتھ یہ احساس بڑا عجیب سا تھا کہ میں اس گھر‘ اس گھر کے ان گوشوں میں پھرتا رہا جہاں پنجاب کے کسانوں کی تاریخی طور پر سب سے مضبوط آواز رہتی تھی‘ جہاں یونینسٹ پارٹی کے اہم اجلاس ہوتے رہے‘ جہاں مسلم لیگ اور کانگرس کے قائدین آتے رہے۔

لاہور پر کام کرنے والے ماجد شیخ نے اس مکان کا ذکر صرف نیو گارڈن ٹاﺅن کی حد تک کیا ہے۔ وہ اس کا نمبر اور اردگرد کی نشاندہی نہیں کر سکے۔میں آپ کو بتا دیتا ہوں یہ ون نیو گارڈن ٹاون ہے۔اس کے ساتھ 2 نیوگارڈن ٹاون بھی اسی مالک کا تھا ۔ فیروز پور روڈ پر اگر آپ کلمہ چوک سے نہر کی طرف آئیں تو نکر پر احد ملک کا ادھورا پلازہ ہے‘ اس سے آگے مسعود ہسپتال ہے‘ اس کے بعد نامور مصور عبدالرحمن چغتائی کا سرخ رنگ کی دیوار والا میوزیم ہے۔ میوزیم کی دیوار جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے ایک سڑک بائیں ہاتھ مڑتی ہے۔ میوزیم کے سامنے دوسری نکر پر جو خالی پلاٹ پڑا ہے یہ کبھی ایک خوبصورت گھر تھا۔ 5نیو گارڈن ٹاﺅن،یہاں امرود اور جامن کے پیڑ تھے ۔ آپ میوزیم والی گلی میں آگے آئیں تو پلاٹ نمبر پانچ کے عقب میں رولدو محمد دین ایند سنز والوں کا گھر تھا،یہاں پپیتے اور جامن کے اونچے اونچے پیڑ تھے۔میں گلی میں آگے بڑھا تو بائیں ہاتھ کھیل کا چھوٹا سا میدان غائب تھا، وہاں کوئی دفتر سا معلام ہوا جہاں ایک ملازم سڑک پر پانی کا چھڑکاو کر رہا تھا۔اس سے آگے بائیں جانب بیکن ہاﺅس سکول کا ایک بہت بڑا کیمپس ہے۔ یہ کیمپس بھی چھوٹورام کی اراضی پر ہے۔ یہاں پہلے انسداد میلیریا کا دفتر تھا۔ بہت پرانی گاڑیاں ناکارہ حالت میں کھڑی ہوتیں۔ شائد عالمی اداروں کی فراہم کردہ تھیں۔ کوﺅں والا ارجن اسی ملیریا آفس کے سامنے تھا۔ آگے بڑھیں تو نکر پر وہ کشادہ عمارت تھی جس میں گورنمنٹ فزیکل ایجوکیشن کالج فار ویمن منتقل ہوا اور اس کے ایک حصے میں ہمیں رہائش ملی۔ مسعود ہسپتال کے عقب اور ملیریا دفتر کی مشرقی طرف سر چھوٹو رام کے ملازمین کے دو منزلہ رہائشی کوارٹر تھے۔ یہاں بہاری خاندان رہتے تھے۔ میرا کلاس فیلو ابوالحسن یہیں رہتا۔اس کے گھر کی ایک کھڑکی مسعود ہسپتال والی جگہ کی طرف کھلتی۔جس میں لوہے کی سلاخوں کے پیچھے اس کا چھوٹا بھائی ہمیں پکارتا ،ہسپتال کی جگہ ایک کھلا میدان ہوتا تھا۔ ہم کئی بار فیروز پور روڈ کی طرف سے آنے والی گلی والے دوسرے چھوٹے سے میدان میں کھیلا کرتے جس کے سامنے جنتر کے درخت تھے۔ تب سنا کرتے کہ ان کوارٹروں کو خالی کرانے کے لئے کوئی مقدمہ بازی چل رہی ہے۔ ابوالحسن کئی بار فکر مند سا ہو جاتا کہ یہاں سے نکل کر کہاں جائیں گے۔ 5نمبر پلاٹ کے عقب میں لاہور کے قدیمی اور تاریخی رولدو محمد دین اینڈ سنز والوں کی ٹینٹ سروس کمپنی بھاٹی چوک میں تھی۔ بھاٹی چوک میں مچھلی منڈی سے پہلے ان کا لوہے سے بنا ایک گول سا جنگلہ بہت عرصہ تک نصب رہا۔ یہ کمپنی 1940ءسے پہلے سے کام کر رہی تھی۔ کئی پرانی فلموں میں ان کا تذکرہ، فرنیچر اور تختیاں نظر آتی ہیں۔

ایک بار کالج میں چھٹیاں تھیں۔ اباجی بتاتے ہیں کہ اس وقت کالج کی پرنسپل مسز صابرہ اعظم تھیں۔ مجھے ساڑھی میں ملبوس نری انگریز نظر آنے والی مسز صابرہ اعظم تھوڑی تھوڑی یاد ہیں۔ مسز صابرہ اعظم جے بلاک ماڈل ٹاﺅن میں رہتی تھیں۔ وہ سینئر اداکارہ بیگم خورشید شاہد کی بڑی بہن تھیں۔ خورشید شاہد 1926ءمیں دہلی میں پیدا ہوئیں تو ظاہر ہے صابرہ اعظم ان سے سال دو سال تو ضرور بڑی ہوں گی۔ بات ہو رہی تھی چھٹیوں کی‘ کالج میں کل 40طالبات تھیں جو پورے ملک سے صوبائی کوٹے پر داخل ہوتیں۔ چھٹیوں کے باعث وہ سب گھروں کو جا چکی تھیں‘ شائد جمعہ کی شام تھی،بھٹو اقتدار کے آخری ایام ۔ لاہور میں محنت مزدوری کرنے والے کئی عزیز اس شام ہماری طرف آ گئے۔ اباجی نے گول کارنر والے برآمدے میں کالج کا بڑا سا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی رکھ دیا۔ اس شام پنجابی فلم ”جمہ جمہ جنج نال“ دیکھی گئی۔ مجھے اس فلم کا ایک گیت اور کچھ مزاحیہ سین مبہم سے یاد ہیں۔ برآمدے کے فرش پر کچھ ڈیزائن بنے ہوئے تھے۔ چُھٹی کے بعد یہ میرے بیٹھنے کی پسندیدہ جگہ ہوتی۔ اس وقت کیا خبر تھی کہ کسی زمانے میں یہ برآمدہ انتظار گاہ رہا ہو گا۔ جہاں پورے پنجاب سے سیاسی رہنما سر چھوٹو رام سے ملاقات سے پہلے انتظار کرتے ہوں گے۔

سرچھوٹو رام 1881ءمیں روہتک میں پیدا ہوئے‘ ان کا 9 جنوری 1945 کو لاہور میں انتقال ہوا۔ان کی اہلیہ کا نام گیانو دیوی تھا۔ آریہ سماجی فکر والے رائے بہادر سر چھوٹو رام کی سمادھی ان کے آبائی شہر میں ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے میں بنائی گئی‘ وہاں ان کا ایک یادگاری مجسمہ بھی ایستادہ ہے۔ ماجد شیخ اور انڈین ایکسپریس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سکھ بیر سواچ نے سر چھوٹو رام کی پڑپوتی قدرت برجندر سنگھ سے ملاقاتوں کا احوال الگ الگ لکھا ہے۔

جواب دیں

Back to top button