جدید جمہوری معاشروں میں موثر اور فعال حکمرانی کی بہترین شکل ہے۔ کہ عوام کو ہر ممکن سطح پر شریک کار بنایا جائے۔ قانون سازی کے عمل سے لے کر عمل درآمد کے سبھی مراحل میں شراکت داری۔ کم وسائل کے ساتھ بہترین نتائج کے لیے اہم شرط ہے۔ انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں ماورائے پارلیمنٹ مشاورتی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ بلکہ ہر سطح پر تھنک ٹینک ہوتے ہیں۔ جو تحقیق اور تعلیم کے ذریعے عوامی مشاورت میں ایک قیادتی رول ادا کرتے ہیں۔ مگر وہاں انصاف کی فراہمی میں بھی جیوری کا رول متعین ہوتا ہے۔ اور یہ تو صاف بات ہے کہ تمام تر اور ہر سطح کے حکومتی ادارے منتخب ہوتے ہیں۔ عوام ہی انہیں اپنے میں سے منتخب کرتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے فرائض کی ادائیگی میں مقامی رہائشی آبادی کو ضروریات کی نشاندہی سے لے کر خدمات کی فراہمی تک سارے عمل میں بتدریج شریک بنایا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میں بھی منتخب حکومتوں کی شکل میں عوام سے رائے لی جاتی ہے۔ مگر رموز حکمرانی میں عوام سے مشاورت ندارد ہے۔ بلکہ قانون سازی کے سبھی مراحل میں عوام کے منتخب نمائندوں کو بھی محدود سطح پر ہی شریک کار بنایا جاتا ہے۔ ماورا پارلیمنٹ تو قانونی امور یا بل وغیرہ پر عوامی مشاورت کا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا۔بلکہ محقق اور رائے عامہ کے تھنک ٹینک اول تو بہت کم ہیں اور پھر وہ انہیں بھی الگ تھلگ ہی رکھا جاتا ہے۔ کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا اپنا الگ تھنک ٹینک ہو یا کوئی ریسرچ ونگ ہو۔ یہ ایک بڑی کمی ہے جس کے منفی اثرات معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے۔عوام کے سیاسی شعور میں اضافہ محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور پھر حکومتی پالسیاں عوام کی وسیع البنیاد حمایت سے محروم ہوتی ہیں۔ملکی اور صوبائی سطح پر تو اس طرح کام ایک حد تک چل جاتا ہے۔ مگر مقامی حکومتوں کی سطح پر اس طرح کی مقامی شراکت نہ ہونے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ خدمات اور سہولیات کی فراہمی تو ہوتی ہے۔مگر عوامی حمایت سے عا رہی ہوتی ہیں۔ مقامی ضروریات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ مگر ترجیحات اور فوقیت کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ملک کے چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے قوانین اور قواعد میں رہائشی عوام کو شریک کار بنانے کی گنجائش تو رکھی جاتی ہے۔مگر نہ تو عوام کو مکمل آگاہی ہوتی ہے اور نہ کوئی سٹرکچرل انداز میں کوششیں ہوتی ہیں۔ لوکل ٹیکس یا خدمات کی فیس عوضانہ وغیرہ کے تعین کے لیے پبلک نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ مگر بہت کم ہوا ہے۔ کہ ان پر عوامی مشاورت کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہ محض رسمی کاروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح مقامی حکومتوں کے فیصلے اور اقدامات بارے قانون میں لکھا گیا ہے کہ یہ سب کچھ پبلک ہے۔ مشتہر کیا جائے۔ اجلاسوں کی کاروائی سے ٓاگاہ کیا جائے اور معلومات کی فراہمی کے قانون کے تحت بھی مقامی حکومتوں کے تمام تر اقدامات بارے سارے عوام کو ٓاگاہ رکھنا ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں سرکاری گزٹ تک رسائی بھی عام فہم نہیں ہوتی۔ وہاں چند محدود افراد جو دلچسپی رکھتے ہوں وہ ان معلومات کو حاصل کر پاتے ہیں۔عوامی آگاہی کی کوئی شکل عام نہیں ہوتی۔

میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ قانون اور قواعد میں یہ ممکن ہی نہیں ہوتا بلکہ واضح طور پر موجود ہوتا ہے مگر اتنی مشکل اور پیچیدگی کے ساتھ کہ بآسانی معلومات تک رسائی نہیں ہوتی۔ہمارے ملک میں مقامی حکومتوں کے دائرہ کار گلی، محلہ، دیہات کی سطح کی حکمرانی تو ضرور ہے مگر زیادہ رجحان بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی تک محدود ہے۔ گو کہ یونین کونسلوں یا دہی محلہ کونسلوں کے فنکشنز میں کم و بیش 35 تا50 ذمہ داریاں ہیں۔ مگر 10 تا 12 فنکشنز محض دفتری کاروائی تک محدود ہوتے ہیں۔10 تا 12 فنکشنز ترقیاتی نوعیت کے ہیں۔کوئی چار پانچ خدمات کی فراہمی بارے ہیں۔ اور چار پانچ کی نوعیت ایسی ہے جس میں رہائشی عوام کی صرف مشاورت ہی نہیں، بلکہ عملی شراکت داری ضروری ہے۔ مثال کے طور پر تعلیمی تربیتی سرگرمیاں جیسے لائبریری قائم کرنا، تربیتی نشستیں یا نشست گاہیں قائم کرنا اور چلانا،حفظان صحت کی مہمیں چلانا۔ سپورٹس اور تفریحی پروگرام، کلب وغیرہ بنانا اور متحرک کرنا،شجرکاری،کچن گارڈننگ،بہبو د آبادی وغیرہ ایسے فنکشن ہیں۔جو مقامی حکومتوں بالخصوص یونین کونسلوں کے فرائض میں بھی شامل ہیں۔ ان کے انجام دہی کے لیے اگر مقامی رہائشی آبادی میں سے اہل اورقابل افراد کو بطور رضاکار ہی شریک کیا جائے تو کم وسائل سے بہتر خدمات کی فراہمی ممکن ہے۔ ہماری سیاسی اور مقامی قیادت کو اس طرح توجہ دینی چاہیے۔ مقامی حکومتوں میں ایک دوسرا اہم کام مقامی سطح کے ترقیاتی کاموں کی انجام دہی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے لوکل گورنمنٹ قوانین میں زیادہ سٹرکچرل انداز میں درج ہے کہ مقامی رہائشی ترقیاتی سکیموں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے 2001 اور 2005 کے ماڈل میں سٹیزن کمیونٹی بورڈز ایک اچھا اور بہتر تجربہ تھا۔ جب علاقہ میں 10 افراد مل کر سی سی بی تشکیل دیتے،اس کے قواعد بناتے اور اسے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سے رجسٹرڈ کراتے اور کسی بھی لوکل ایریا میں رضا کرانہ طور پر کسی فنکشن کے حوالے سے منصوبہ بندی بناتے۔ اس اس کا تخمینہ لاگت کا 20 فیصد خود جمع کرتے۔ تو متعلقہ مقامی حکومت اس کی منظوری اور باقی 80 فیصد لاگت فراہم کرتی۔ اس حوالہ سے ملک بھر میں 6ہزار سی سی بیز نے کامیاب پروجیکٹ کیے تھے۔ قانون کے مطابق سی سی بی کے لیے مینجنگ گرانٹ 30 جون کو مالی سال کے خاتمے پر ختم نہ ہوتی تھی۔ بلکہ آئندہ سال کے بجٹ میں شامل کر دی جاتی تھی یہ تجربہ کامیاب تھا۔ مگر ایک واردات بھی ہوتی تھی کہ کئی ٹھیکے داروں نے بھی اپنی سی سی بیز بنا لیے تھے یہ تجربہ 2010 کے بعد ختم کر دیا گیا۔ 2013 کے دوران بنائے گئے قوانین میں اس حوالے سے کوئی واضح شکل موجود نہ تھی اس وقت صرف پنجاب کی حد تک اسے اختیار کیا گیا ہے۔ کمیونٹی کی بنیاد پر تنظیمیں سی بی اوز کا تصور دیا گیا ہے۔ مگر ان کی تشکیل کے لیے بلاوجہ تنظیمی فریم ورک بھی قانون میں فراہم کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔شہریوں کے تنظیم سازی کے حوالے سے بنیادی حق سے متصادم ہے اور پھر منصوبہ سازی کے لیے ٹیکنیکل شرائط بھی غیر ضروری ہیں جبکہ اسے صرف وہی منصوبے منظور کیے جائیں گے جن کی تیاری میں ٹیکنیکل مشاورت میونسپل انجینئرنگ سٹاف نے کی ہوگی یہ بھی مناسب نہیں، منصوبہ اور اس کی ڈیزائننگ دو الگ اقدامات ہیں پہلے کونسل منصوبہ کی منظوری کرے پھر ٹیکنیکل سٹاف اس کی ڈیزائننگ کرے اور پی سی ون کی تیاری کرے، تو مناسب ہوگا پنجاب کے علاوہ دیگر تین صوبوں میں ا س نوعیت کی شراکت داری کی کوئی شکل موجود نہیں ہے۔ عوامی شراکت داری کی ایک اور دوسری شکل جاری منصوبوں کی نگرانی مانیٹرنگ ہے۔جو علاقے کے رہائشی غیر منتخب شہریوں پر مشتمل کمیٹیوں کے ذریعے کی جاتی ہے یہ تصور بھی مشرف کے ماڈل میں موجود تھا۔اب حالیہ ماڈلوں میں اس کی ادھوری شکل موجود ہے مگر ان مانیٹرنگ کمیٹیوں میں منتخب کونسلرز ہی ہوں گے عام شہری نہیں ہیں۔ چنانچہ اب اس وقت ہم رہائشی شہری اپنے متعلقہ لوکل گورنمنٹ میں نہ تو تجاویز کسی واضح اور سٹرکچر انداز میں دے سکتے ہیں نہ تکمیل اور نہ ہی نگرانی کر سکتے ہیں۔ ایک اور شکل لوکل کونسلوں میں ماورائے عدالت کے طور پر معمولی نوعیت کے سول اور فوجداری جھگڑوں کو طے کرنا ہے ان میں فریقین کی طرف سے لائے گئے تنازعات کے ساتھ ساتھ عدالتوں کی طرف بھیجے گئے تنازعات کا پرامن حل ڈھونڈنا بھی ثالثی اور مصالحت کا ایک طریقہ ہے۔ جو مسلم فیملی قوانین کے تحت مثالتی کونسل تشکیل دے کر اور فوجداری، دیوانی نوعیت کے تنازعات کو بھی ممکنہ طور پر حل کرنا ہے۔ یہ شکل اس وقت ملک بھر کی حکومتوں کے قوانین میں موجود ہے۔ اس شکل پر فی الوقت بڑے پیمانے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ قانون میں آپشن ہے مگر عام لوگوں کو اس کا علم بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کے لیے قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ لوکل کونسلوں کے تمام اجلاس عوام کے لیے اوپن ہیں، مگر رہائشی عوام کو کیسے معلوم ہوگا کہ اجلاس کب ہو رہا ہے اس کا باقاعدہ اعلان کی شکل میں موجود نہیں۔جس کو دلچسپی ہے وہ خود معلوم کر ے۔اسی طرح ہر لوکل گورنمنٹ اور کونسل کے لیے قانونی پابند ہے کہ وہ اپنی دستاویزات تک رسائی کو یقینی بنائے۔ خواہش مند شہری کو معلومات فراہم کرے اور جاری منصوبوں کی بابت اشتہار کے ذریعے پبلک کو تفصیلات سے آگاہ کریے۔یہ سب کچھ ہوتا تو ہے مگر کھلے عام بڑے پیمانے پر نہیں ہوتا۔ محض رسمی کاروائی تک ہی محدود رکھا جاتا ہے یہ ساری بحث کا حاصل خلاصہ یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کی موثر اور بہترین شکل یہ ہے کہ منتخب کونسلیں فیصلہ سازی کے لیے اور فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے عوام کو براہ راست شریک کار بنایا جائے ضروریات کی نشاندہی بجٹ سازی منصوبہ سازی اور منصوبوں پر عمل درآمد کے دوان عوام بالخصوص غیر منتخب افراد پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کے کام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد بائی راز وضع کیے جائیں اور لوکل گورنمنٹ کی سالانہ کارگزاری کی رپورٹس میں ان کمیٹیوں کی پرفارمنس بھی نوٹ کی جائے۔ تو مقامی حکومتیں لوکل سیلف گورنمنٹ کا متبادل بن جائیں گی۔






