میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کا نام روشن کرنے والے افراد ہمارے اصل ہیروز ہیں اور ان کی خدمات کو سراہنا ہم سب کی ذمہ داری ہے جن شخصیات کو آج تمغہ کراچی سے نوازا گیا ہے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اور بطور شہری میں ان سب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے فن، ہنر اور کاوشوں سے کراچی، سندھ اور پاکستان کا نام روشن کیا،شہر کی خدمت کرنے والی نمایاں شخصیات ہمارے لیے قابلِ فخر اثاثہ ہیں جبکہ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی، ان افراد کو ”تمغہ کراچی“ دینا دراصل ان کی خدمات کے اعتراف اور خراجِ تحسین کا اظہار ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز خالق دینا ہال میں شہر کراچی کی معروف شخصیات کو ”تمغہ کراچی“ کا اعزاز عطا کئے جانے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، سٹی کونسل کے اراکین، سینئر ڈائریکٹر محکمہ کھیل و ثقافت کے ایم سی مہدی مالوف، ڈائریکٹر محکمہ کھیل و ثقافت شمس نور مسعودی،کے ایم سی کے محکمہ جاتی سربراہان اور افسران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں، منعقدہ تقریب میں ”تمغہ کراچی“ پانے والی نمایاں شخصیات میں سابق کرکٹر راشد لطیف، بلدیہ عظمیٰ کراچی محکمہ فائربریگیڈ کے فائرفائٹر شہید فرقان شوکت، انسٹیٹیوٹ لیبر اینڈ ریسرچ کرامات علی، شعبہ تحقیق و تصنیف،معروف نیوز کاسٹر اور میڈیا کنسلٹنٹ کے ایم سی علی حسن ساجد، شعبہ پینٹنگ غلام عباس کمانگر، شعبہ صحافت تصنیف و تالیف شاہ ولی اللہ جنیدی، شعبہ فائن آرٹس محترمہ معصومہ حالائی، شعبہ سمندری حیات و تحقیق ڈاکٹر عابد رضا، شعبہ خطاطی کاشف خان، شعبہ کلاسیکل موسیقی استاد مظہر عمراؤ بندو خان، شعبہ فنون لطیفہ امجد رانا اور شعبہ خدمات عامہ اسکاؤٹنگ طاہر شیخ اور دیگر شامل تھے،

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ معاشرے کے کئی ایسے ہیروز ہیں جنہیں بڑے قومی اعزازات نہیں مل پاتے، اسی لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی نے فیصلہ کیا کہ ایسے تمام افراد کو تمغہ کراچی دیا جائے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں شہر کی خدمت کی ہے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تمغہ کراچی کی پہلی تقریب منعقد کی گئی تھی اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ایک اچھی روایت کا آغاز ہوا جو اب تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ سابق کرکٹر راشد لطیف اور مزدور رہنما کرامت علی جیسے افراد کو قومی سطح پر وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے جس پر بہت افسوس ہے،میئر کراچی نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی سی کاوش ہے تاکہ شہر کے ان گمنام ہیروز کی کارکردگی کو اجاگر کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ کراچی کا شاندار ماضی رہا ہے اور ہم سب مل کر اسے ایک بار پھر شاندار حال اور روشن مستقبل کی جانب لے جا سکتے ہیں،ایک وقت تھا جب خالق دینا ہال بند پڑا تھا مگر اب اس تاریخی عمارت کی تزئین و آرائش کے بعد اسے دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جو کراچی کے روشن ماضی کی عکاسی کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اس شہر نے بہت کچھ دیا ہے، اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس کی خدمت کریں اور اس کے مسائل کے حل کے لیے آگے آئیں،میئر کراچی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ساتھ دیں تاکہ شہر کے مسائل حل کیے جا سکیں اور مستقبل کو روشن بنایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ہم سب کراچی سے محبت کرتے ہیں اور مل کر اسے مزید بہتر بنائیں گے،انہوں نے محکمہ فائر بریگیڈ کے عملے کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فائر فائٹرز کو ہیروز سمجھا جاتا ہے اور ہمیں بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے، انہوں نے تقریب میں موجود افراد سے اپیل کی کہ وہ فائر بریگیڈ کے عملے کو خراجِ تحسین پیش کریں،آخر میں انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین کو ہدایت کی کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ شہر کی خدمت جاری رکھیں اور اس روایت کو برقرار رکھیں تاکہ مستقبل میں بھی ریٹائرڈ ملازمین کو ”تمغہ کراچی“ جیسے اعزازات سے نوازا جاسکے۔






