دستگیر ہاؤس کی بجھی روشنی پھر جل اٹھی، گوجرانوالہ کی سیاست میں نئی صف بندی۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

سال 2024ء کے عام انتخابات نے گوجرانوالہ کی سیاست میں کئی پرانے سیاسی تصورات کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان اپنی آبائی نشست سے شکست کے بعد عملی سیاست میں ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے تھے کہ جہاں ان کی سیاسی سرگرمیوں اور مستقبل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں۔ وقت کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ شاید خرم دستگیر خان کو مسلم لیگ ن کی فیصلہ سازی میں پہلے جیسی مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ اسی دوران پیپلز پارٹی میں شمولیت کی افواہوں نے بھی سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی، تاہم خرم دستگیر خان نے عملاً مسلم لیگ ن سے اپنا سیاسی تعلق برقرار رکھا۔این اے 77 کی نشست پر ضمنی انتخاب نے اس صورت حال کو ایک نیا موڑ دے دیا۔ سابق ایم این اے محمود بشیر ورک کے انتقال کے بعد ٹکٹ کے حوالے سے مختلف نام زیرِ غور آئے اور بالآخر مسلم لیگ ن نے ان کے صاحبزادے چودھری راشد بشیر ورک کو امیدوار نامزد کیا۔ یوں ایک طرف ورک خاندان کی انتخابی ساکھ اور دوسری طرف مسلم لیگ ن کی تنظیمی طاقت کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس خرم دستگیر خان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے سوالات اٹھ رہے تھے، اب انہیں اسی حلقے کی انتخابی مہم کا مجموعی نگران مقرر کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والی اہم اجلاس میں این اے 77 کے ضمنی انتخاب کی تیاریوں، انتخابی حکمت عملی، ممکنہ نتائج، حلقے کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اسی اجلاس میں خرم دستگیر خان کو انتخابی مہم کا مجموعی انچارج بنانے کا فیصلہ سامنے آیا، جب کہ چودھری عابد رضا کوٹلہ اور شعیب الطاف چیمہ بھی انتخابی مہم میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ سابق ایم این اے مدثر قیوم ناہرا انتخابی مہم کے انچارج، صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق منسٹر انچارج اور ڈسکہ سے رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار خواتین کے امور کی ذمہ دار ہوں گی۔

اس فیصلے کا سب سے نمایاں سیاسی پہلو یہ ہے کہ خرم دستگیر خان کو محض ایک کارکن یا مہم کے رکن کے طور پر نہیں بلکہ مجموعی انتخابی حکمت عملی کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سے یہ سیاسی پیغام بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت گوجرانوالہ میں خرم دستگیر خان کے تجربے، سیاسی روابط اور انتخابی صلاحیت کو اب بھی اہم سمجھتی ہے۔

فیصلے کے فوری بعد دستگیر ہاؤس کی سیاسی رونقیں بحال ہونا بھی غیر معمولی علامت ہے۔ ضمنی انتخاب کے حوالے سے خرم دستگیر خان کی طلب کردہ پہلی میٹنگ میں بلال فاروق تارڑ، چودھری قیصر سندھو، مدثر قیوم ناہرا، عمر فاروق ڈار، چودھری ذوالفقار احمد بھنڈر، عدنان افضل چٹھہ، شعیب الطاف چیمہ، عرفان بشیر گجر، نواز چوہان، توفیق بٹ، معظم رؤف مغل اور وقار چیمہ سمیت متعدد لیگی راہنماؤں اور ارکان اسمبلی کی شرکت نے سیاسی منظرنامے کو مزید معنی خیز بنا دیا۔ امیدوار چودھری راشد بشیر ورک کی موجودگی میں خرم دستگیر خان نے مختلف رہنماؤں کو ذمہ داریاں سونپیں اور واضح کیا گیا کہ انتخابی نتائج کے بعد ہر ذمہ دار کی کارکردگی کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائے گی۔یہ محض ایک ضمنی انتخاب کی مہم نہیں بلکہ گوجرانوالہ کی مسلم لیگ ن کی اندرونی سیاست میں نئی صف بندی کا امتحان بھی دکھائی دیتی ہے۔ خرم دستگیر خان کے لیے یہ موقع اپنی سیاسی افادیت ثابت کرنے کا ہے، جب کہ مسلم لیگ ن کے لیے این اے 77 کا انتخاب یہ جانچنے کا مرحلہ ہے کہ تنظیم، شخصیات، برادریوں، ترقیاتی وعدوں اور حکومتی اثرات کو ایک انتخابی نتیجے میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اب نظریں این اے 77 کے ووٹرز پر ہیں، کیوں کہ اصل فیصلہ دستگیر ہاؤس، لاہور کے اجلاس یا انتخابی حکمت عملی نہیں بلکہ پولنگ ڈے پر عوام کے ہاتھ میں ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button