بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: غریب کے حق کی رقم، نظام کی آزمائش۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

پاکستان میں غریب خاندانوں کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام محض ایک مالی امدادی منصوبہ نہیں بلکہ ریاست اور کمزور طبقے کے درمیان ایک اہم سماجی معاہدہ بن چکا ہے۔ 2008 میں تقریباً 22 لاکھ مستحق خاندانوں سے شروع ہونے والا یہ پروگرام اب ایک کروڑ سے زائد خاندانوں تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم جس پروگرام کا بنیادی مقصد غربت زدہ گھرانوں، خصوصاً خواتین کو مالی سہارا دینا ہے، وہ وقتاً فوقتاً سیاسی دباؤ، غیر مستحق افراد کی شمولیت، جعلی اندراجات اور ادائیگیوں میں بے ضابطگیوں کے باعث سوالات کی زد میں بھی رہا ہے۔ قومی اسمبلی کو حالیہ دی گئی معلومات نے اس بحث کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اکتوبر 2026 میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بی آئی ایس پی میں تقریباً 24 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا، جبکہ 2019-20 کے آڈٹ میں ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے پروگرام سے فائدہ اٹھانے کی نشاندہی ہوئی۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض معاملات سامنے آنے کے باوجود ادائیگیاں جاری رہیں۔ رپورٹ شدہ اعداد کے مطابق تقریباً 24 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف تقریباً 71 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے، جس سے نگرانی، بروقت کارروائی اور وصولی کے نظام پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے بڑے پیمانے پر چھان بین شروع کی ہے۔ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 کے دوران 22 لاکھ 59 ہزار 404 غیر مستحق افراد کو پروگرام سے نکالے جانے، جبکہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد کی ادائیگیاں روکنے کی اطلاع قومی اسمبلی میں دی گئی۔ 55 ہزار 579 شکایات بھی موصول ہوئیں جن میں غیر مجاز کٹوتیوں، رقوم کے غلط استعمال اور غیر قانونی ادائیگیوں کے معاملات شامل تھے۔لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے غیر مستحق افراد نکالے گئے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ داخل کیسے ہوئے؟ اگر ایک سرکاری ملازم یا ایسا شخص جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا، برسوں تک غریب کا حق وصول کرتا رہا تو ڈیٹا کی جانچ، مقامی تصدیق اور اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام کہاں کمزور تھا؟ اسی طرح دیہات اور دور دراز علاقوں میں ایسے حقیقی مستحق خاندان بھی موجود ہیں جو یا تو سروے سے باہر رہ گئے، ان کا ریکارڈ درست نہیں، شناختی دستاویزات مکمل نہیں یا انہیں پروگرام کے طریقۂ کار اور شکایتی نظام کا علم نہیں۔ چنانچہ صرف ڈیجیٹل فہرست سے نام نکال دینا کافی نہیں، زمینی سطح پر محروم خاندانوں تک پہنچنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔یہاں سیاسی دباؤ کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں عوامی فلاح کے بڑے منصوبے اکثر سیاسی بحث کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ کسی حکومت کے دور میں امداد میں اضافہ سیاسی کامیابی کے طور پر پیش ہوتا ہے تو مخالفین اسے سیاسی اثر و رسوخ کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اصل ضرورت یہ ہے کہ مستحق کا انتخاب سیاسی وابستگی، سفارش یا مقامی طاقت کے بجائے شفاف اور قابلِ تصدیق معیار پر ہو۔حکومت اب ادائیگی کے نظام کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ ذاتی بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹس اور سماجی تحفظ کے والٹ کے ذریعے رقم براہِ راست مستحق خواتین تک پہنچانے کا مقصد درمیانی کردار اور کٹوتیوں کو کم کرنا ہے۔ بی آئی ایس پی کے مطابق کفالت وظیفہ 13,500 روپے تک بڑھایا گیا ہے اور مستحق خواتین کے براہِ راست بینک اکاؤنٹس کھولنے کا عمل بھی جاری ہے۔اس پورے معاملے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ غریب کا حق صرف رقم جاری کرنے سے محفوظ نہیں ہوتا، بلکہ صحیح شخص تک صحیح وقت پر، پوری رقم اور عزت کے ساتھ پہنچانے سے محفوظ ہوتا ہے۔ حکومت اگر واقعی اصلاح چاہتی ہے تو دیہات کی سطح پر متحرک سروے، شفاف شکایتی نظام، مستقل آڈٹ، سیاسی مداخلت سے پاک انتخاب اور غیر مستحق افراد سے مؤثر ریکوری کو یقینی بنانا ہوگا۔ ورنہ اربوں روپے کا حساب تو کاغذ پر سامنے آ جائے گا، مگر وہ بیوہ، مزدور، معذور، بے روزگار اور غریب خاتون پھر بھی ریاست کے دروازے پر کھڑی رہ جائے گی جس کے نام پر یہ پروگرام بنایا گیا تھا۔اپنی اہلیت یا ادائیگی کے بارے میں صرف سرکاری 8171 ذرائع استعمال کریں؛ بی آئی ایس پی نے واضح کیا ہے کہ 8171 کے علاوہ نمبروں سے آنے والے پیغامات قابلِ اعتماد نہیں اور رجسٹریشن یا سروے کی کوئی فیس نہیں۔

جواب دیں

Back to top button