موبائل کی روشن اسکرین، اندھیرے کھیل کا دروازہ—بچوں کو کون بچائے گا۔۔۔؟ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

ایک موبائل اسکرین بظاہر بچے کے ہاتھ میں موجود چند انچ کی دنیا ہے، مگر اسی دنیا کے پیچھے کبھی ایسا جال بھی بچھا ہوتا ہے جس میں پھنسنے والا بچہ بظاہر گھر میں محفوظ بیٹھا ہوتا ہے اور اندر ہی اندر خوف، دباؤ اور ذہنی غلامی کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ کراچی میں ایک کم عمر بچی کو مبینہ طور پر خطرناک آن لائن نیٹ ورک سے بروقت بچائے جانے کا حالیہ واقعہ اسی تلخ حقیقت کی سنگین یاد دہانی ہے۔ حکام کے مطابق بچی سے پہلے جانور کو نقصان پہنچانے اور پھر خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہدایات منوائی جا رہی تھیں۔ اس واقعے کی سب سے تشویشناک بات یہ نہیں کہ ایک بچی ایسے گروہ تک کیسے پہنچی، بلکہ یہ ہے کہ وہ کئی ماہ تک اس رابطے میں رہی اور گھر والے اس تبدیلی کی اصل وجہ سے بے خبر رہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق والدین نے بچی کے رویے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران تبدیلی، پریشانی اور خاموشی محسوس کی تھی، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کے پیچھے آن لائن سرگرمی ہوسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجتی ہے۔ آن لائن شکاری عموماً اجنبی بن کر فوراً خطرناک مطالبہ نہیں کرتے۔ پہلے دوستی، پھر مشترکہ کھیل، پسندیدہ موضوع، تعریف، ہمدردی یا جذباتی وابستگی کے ذریعے اعتماد حاصل کیا جاتا ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی بھی خبردار کرچکا ہے کہ ایسے نیٹ ورک بچوں تک موبائل پیغام رسانی، سماجی رابطوں اور کھیلوں کے پلیٹ فارم کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں اور اعتماد قائم کرنے کے بعد انہیں بلیک میل یا خطرناک سرگرمیوں پر مجبور کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔خطرہ صرف ڈارک ویب تک محدود سمجھنا بھی بڑی غلطی ہوگی۔ عام سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، آن لائن کھیل اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز وہ دروازے بن سکتے ہیں جہاں سے بچے نامعلوم افراد سے رابطے میں آتے ہیں۔ بعض صورتوں میں گفتگو کو عام پلیٹ فارم سے نجی پیغام رسانی کی طرف منتقل کیا جاتا ہے، جہاں والدین کی نظر مزید کم ہوجاتی ہے۔ کراچی کے واقعے میں بھی حکام نے بتایا کہ بچی کا رابطہ سماجی رابطوں اور پیغام رسانی کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ محض ایک پاکستانی واقعہ بھی نہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی ستمبر 2026 کی تحقیق میں 21 ممالک کے جائزے کے دوران اندازہ لگایا گیا کہ ایک سال میں تقریباً دو کروڑ 12 سے 17 سالہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوئے۔ تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ایسے تجربات بچوں میں خود کو نقصان پہنچانے اور خودکشی کے خیالات کے خطرے سے گہرے تعلق رکھتے ہیں۔ اصل مسئلہ موبائل فون نہیں، بے نگرانی موبائل دنیا ہے۔ بچے کو فون دے دینا آسان ہے، مگر اسے ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سمجھانا والدین، اسکول، معاشرے اور ریاست سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو بچے کے موبائل کی جاسوسی سے زیادہ اس کے ساتھ ایسا اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ وہ خوف، بلیک میلنگ، عجیب مطالبے یا کسی مشکوک آن لائن دوستی کو چھپانے کے بجائے فوراً بتا سکے۔اگر بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی، غیر معمولی خوف، تنہائی، نیند میں خرابی، موبائل چھپانا، نامعلوم آن لائن دوستوں کا ذکر یا کسی شخص کے پیغامات سے شدید پریشانی دکھائی دے تو اسے محض ضد یا عمر کا تقاضا سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مشکوک رابطے کو محفوظ رکھنا، ثبوت ضائع نہ کرنا اور فوری طور پر قابلِ اعتماد بالغ یا متعلقہ ادارے سے مدد لینا ضروری ہے۔ ایف بی آئی بھی بچوں کو ہدایت کرتا ہے کہ مشکوک پیغامات اور رابطوں کو محفوظ رکھا جائے اور مدد طلب کی جائے۔کراچی کی بچی خوش قسمت تھی کہ ڈیجیٹل سراغ ایک خطرے تک پہنچ گئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کتنے بچے ایسے ہیں جن کے رویے بدل رہے ہیں، مگر گھروں میں کوئی سوال نہیں پوچھ رہا؟ موبائل کی اسکرین بند کرنے سے خطرہ ختم نہیں ہوگا؛ خطرہ اس وقت ختم ہوگا جب بچے اور والدین کے درمیان اعتماد کی اسکرین اٹھے گی۔

جواب دیں

Back to top button