شہرِ باسمتی میں تعلیم کا نیا تجربہ، دو سکول اور مستقبل کے بڑے سوالات۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

شہرِ باسمتی کامونکے کی تعلیمی تاریخ میں نواز شریف سکولز آف ایمننس کے دو کیمپس کا قیام ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان اداروں کو رِلز سکولز (RILLS Schools) کے زیرِ انتظام شروع کرنے کا مقصد بظاہر سرکاری سرپرستی، نجی شعبے کے انتظامی تجربے اور جدید تعلیمی سہولیات کو یکجا کرنا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اشتراک کامونکے کے بچوں کو واقعی معیاری تعلیم دے سکے گا یا جدید عمارتوں، سمارٹ بورڈز اور خوب صورت تشہیری دعوؤں تک محدود رہ جائے گا؟نواز شریف سکولز آف ایمننس حکومتِ پنجاب اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا مشترکہ سرکاری و نجی شعبے پر مبنی منصوبہ ہے۔ اس کے تحت صوبے میں 300 جدید تعلیمی ادارے قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سرکاری منصوبے میں جدید جماعتوں، سائنسی تجربہ گاہوں، روبوٹکس، کمپیوٹر، لائبریریوں اور ابتدائی بچپن کی تعلیم کی سہولیات شامل ہیں۔ منصوبے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ نجی شعبے کے شراکت دار انتظامی ذمہ داریاں اور سرمایہ کاری فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت تعلیمی سہولت کی فراہمی اور نگرانی کا کردار ادا کرتی ہے۔دوسری طرف رِلز سکولز 2007ء سے تعلیمی شعبے میں سرگرم ہے اور اس کا بنیادی تعلیمی تصور کیمبرج نظام، جدید تدریسی طریقوں، کردار سازی اور عملی سرگرمیوں پر مبنی ہے۔ ادارے کے مطابق اس کا مقصد بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی بین الاقوامی معیار کی تعلیم تک رسائی ممکن بنانا ہے۔ اس اعتبار سے کامونکے میں ان کیمپس کی ذمہ داری ملنا ایک ایسا تجربہ ہے جس میں ادارے کے سابقہ تعلیمی تجربے کو سرکاری تعلیمی منصوبے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔اس اشتراک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ کامونکے کے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو ایسی تعلیمی سہولیات میسر آئیں جن کے لیے انہیں پہلے مہنگے نجی اسکولوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ اگر حکومتی پالیسی کے مطابق تعلیم بلا معاوضہ فراہم ہوتی ہے تو والدین پر فیسوں کا بوجھ کم ہوگا اور باصلاحیت بچوں کو مالی مشکلات کے باوجود بہتر تعلیمی مواقع مل سکیں گے۔ سرکاری منصوبے کے مطابق حکومت طلبہ کی ٹیوشن فیس براہِ راست شراکت دار اداروں کو ادا کرتی ہے، جب کہ داخلے میرٹ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔تاہم رِلز سکولز کے لیے یہ ذمہ داری محض سکول چلانے کا انتظامی معاملہ نہیں۔ بلکہ اپنی ساکھ اور تعلیمی قابلیت ثابت کرنے کا امتحان بھی ہے۔ کیمبرج نظامِ تعلیم کا تجربہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن نواز شریف سکولز آف ایمننس میں کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ نصاب، تدریسی زبان، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی تعداد اور تعلیمی ضروریات کے درمیان مناسب توازن قائم رکھا جائے۔ جدید تجربہ گاہیں اسی وقت فائدہ مند ہوں گی کہ جب بچوں کو ان میں عملی تجربات کرنے، سوالات اٹھانے اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں استعمال کرنے کے مواقع بھی ملیں۔کامونکے میں پہلے سے متعدد معروف نجی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ان نئے کیمپس کا مقابلہ صرف کم فیس یا مفت تعلیم کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ بلکہ تدریسی معیار، نظم و ضبط، اساتذہ کی قابلیت، امتحانی نتائج، انگریزی اور اردو زبان پر عبور اور بچوں کی شخصیت سازی بھی اہم پیمانے ہوں گے۔ یہ ادارے نجی سکولوں کے لیے ایک مثبت مسابقتی چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس مقابلے کا فائدہ بالآخر طلبہ کو پہنچنا چاہیے، نہ کہ تعلیمی ادارے ایک دوسرے کی مخالفت میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔اس منصوبے کی کامیابی میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔فاؤنڈیشن کے موجودہ نگرانی کے طریقۂ کار میں طلبہ کی حاضری، عمارت، ریکارڈ، اساتذہ کی اہلیت، تعلیمی نتائج اور معیارِ تعلیم کا جائزہ شامل ہے۔ سالانہ معیارِ تعلیم کے امتحانات کے ذریعے بھی اداروں کی کارکردگی جانچی جاتی ہے۔ لہٰذا کامونکے کے ان کیمپس میں بھی محض سہولیات کی موجودگی نہیں بلکہ بچوں کی حقیقی تعلیمی پیش رفت کو کامیابی کا معیار بنانا ہوگا۔شہر کے لیے اس منصوبے کے ممکنہ فوائد میں تعلیمی مواقع میں اضافہ، طالبات کی تعلیم کی حوصلہ افزائی، جدید سائنسی علوم تک رسائی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، والدین کے تعلیمی اخراجات میں کمی اور مجموعی تعلیمی ماحول میں بہتری شامل ہیں۔ مزید یہ کہ مقامی بچوں کو بڑے شہروں جیسے گوجرانوالہ اور لاہور کے تعلیمی اداروں پر انحصار کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔لیکن کامیابی کے لیے چند بنیادی سوالات کے جواب ضروری ہیں۔ کیا دونوں کیمپس میں مطلوبہ تعداد میں تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہوں گے؟ کیا تجربہ گاہیں مستقل فعال رہیں گی؟ کیا بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع ملیں گے؟ کیا والدین کو نتائج اور ادارے کی کارکردگی سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے گا؟ اور کیا حکومت شراکت دار ادارے کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ احتساب کرے گی؟

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سکول کی کامیابی کا فیصلہ اس کی عمارت، نام، سیاسی نسبت یا تشہیری مہم سے نہیں بلکہ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے بچوں کے علم، کردار، صلاحیت اور عملی کامیابی سے ہوتا ہے۔ رِلز سکولز کو بھی اپنی انتظامی مہارت کے ساتھ ان پیمانوں پر پورا اترنا ہوگا۔شہرِ باسمتی کامونکے کے لیے یہ منصوبہ ایک اچھا تعلیمی موقع ہے، مگر اسے تعلیمی انقلاب قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اگر حکومت پنجاب اپنی نگرانی، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اپنا احتساب اور رِلس اسکولز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کریں تو یہ دو کیمپس مستقبل میں کامونکے کے تعلیمی منظرنامے کو بدلنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر جدید سہولیات بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکیں گی۔ اصل کامیابی اس دن ہوگی جب کامونکے کا ایک عام محنت کش بھی فخر سے کہہ سکے گا کہ اس کے بچے کو بھی معیاری تعلیم کا وہی موقع ملا ہے جو کسی خوش حال خاندان کے بچے کو حاصل ہے۔

جواب دیں

Back to top button