تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابیں پڑھنا، امتحان دینا اور اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں بلکہ بچوں میں سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور عملی زندگی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ یہی تصور جدید تعلیم کی بنیاد ہے۔ دی ایجوکیٹرز سادھوکے کیمپس، تحصیل کامونکے نے اسی سوچ کو عملی شکل دیتے ہوئے اپنی منفرد تعلیمی سرگرمیوں کی روایت برقرار رکھی اور سٹیم پراجیکٹس ایکسپو کا اہتمام کیا، جس میں طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور سائنسی دلچسپی کا بھرپور اظہار کیا۔دی ایجوکیٹرز سادھوکے کیمپس علاقے میں معیاری تعلیم اور نئی نسل کی علمی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے۔ یہ ملک کے معروف تعلیمی نیٹ ورک دی ایجوکیٹرز سے وابستہ ہے، جو بیکن ہاؤس کا ایک تعلیمی منصوبہ ہے۔ ادارے کا بنیادی مقصد جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں، خود اعتمادی اور مثبت سوچ پروان چڑھیں۔ منظم نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ، تدریسی منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور اخلاقی تربیت اس کے تعلیمی نظام کے اہم اجزا ہیں۔
سٹیم پراجیکٹس ایکسپو کے موقع پر والدین کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر سکول محمد اسلام مغل، ڈپٹی ڈائریکٹر زین الاسلام اور پرنسپل اسما کاشف نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارے کے تعلیمی مقاصد اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش میں چہارم سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ و طالبات نے اپنے تیار کردہ منصوبے پیش کیے ہیں۔ اس سرگرمی کا مقصد بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، انہیں عملی تجربات کے مواقع فراہم کرنا اور مستقبل میں سائنسی و تخلیقی شعبوں کی طرف راغب کرنا ہے۔ مہمانوں اور والدین نے بچوں کی محنت اور دلچسپی کو سراہا اور اسے تعلیم کے جدید تقاضوں کے مطابق ایک مثبت قدم قرار دیا۔سٹیم پراجیکٹس ایکسپو دراصل جدید تعلیمی نظام کی ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں طلبہ کتابوں میں پڑھے گئے اسباق کو عملی شکل دیتے ہیں۔ سٹیم انگریزی کے پانچ الفاظ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹ اور ریاضی کا مخفف ہے۔ ان پانچوں شعبوں کو یکجا کرکے بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ علم کو حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایسی نمائشوں میں طلبہ سائنسی ماڈلز، بجلی سے چلنے والے آلات، روبوٹ، شمسی توانائی کے منصوبے، پانی صاف کرنے کے طریقے، ماحول دوست عمارتیں، آرٹ اور دیگر تخلیقی نمونے تیار کرتے ہیں۔ ان منصوبوں کی تیاری کے دوران بچے صرف نقل نہیں کرتے بلکہ معلومات جمع کرتے، مشاہدہ کرتے، سوالات اٹھاتے، تجربات کرتے اور اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ یوں ان میں تحقیق، مسئلہ حل کرنے اور نئی چیزیں تخلیق کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔مثلاً شمسی توانائی سے چلنے والا پنکھا تیار کرنے والا طالب علم یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ سورج کی روشنی بجلی میں کیسے تبدیل ہوتی ہے اور وہ بجلی موٹر کو کس طرح چلاتی ہے۔ اسی طرح پانی صاف کرنے کا ماڈل بنانے والا بچہ آلودگی اور صفائی کے مختلف مراحل سے واقف ہوتا ہے۔اس سرگرمی کا ایک اہم فائدہ ٹیم ورک، خود اعتمادی، قیادت، وقت کی پابندی اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت میں اضافہ ہے۔ اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی حوصلہ افزائی بچوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بناتی ہے۔آج دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، جدید انجینئرنگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو محض رٹے اور نمبروں کی دوڑ تک محدود نہ رکھیں۔ دی ایجوکیٹرز سادھوکے کیمپس کی یہ کاوش اسی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کے معماروں کو سوچنے، سمجھنے اور تخلیق کرنے کے مواقع دیے جائیں۔ بلاشبہ آج کا ایک چھوٹا سا سائنسی ماڈل کل کسی بڑے مسئلے کا حل بن سکتا ہے۔ یہی اس نمائش کا اصل پیغام ہے۔



