سموگ کا بڑھتا ہوا خطرہ، انسانی صحت اور ماحول کے لیے خاموش زہر۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

فضا میں پھیلی ہوئی آلودگی جب دھند کی شکل اختیار کرکے انسانی زندگی، صحت اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو اسے سموگ کہا جاتا ہے۔ سموگ دراصل دھوئیں (Smoke) اور دھند (Fog) کے امتزاج سے بننے والی فضائی آلودگی ہے۔ یہ محض موسم کی تبدیلی یا سردیوں کی ایک قدرتی کیفیت نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں، صنعتی ترقی، گاڑیوں کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور ماحولیاتی بے احتیاطیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان خصوصاً پنجاب میں سموگ ایک سنگین ماحولیاتی اور صحت عامہ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، شیخوپورہ، قصور، ملتان اور گردونواح کے علاقے ہر سال اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔سموگ کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں، فیکٹریوں اور بھٹوں سے نکلنے والی زہریلی گیسیں، کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک جلانا، تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا شامل ہیں۔ بالخصوص چاول کی فصل کی کٹائی کے بعد دھان کے مڈھوں کو جلانے سے فضا میں بڑی مقدار میں باریک آلودہ ذرات شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناقص ایندھن، پرانی گاڑیاں، غیر معیاری صنعتی بھٹیاں اور درختوں کی مسلسل کٹائی بھی مسئلے کو سنگین بناتی ہے۔موسمی حالات بھی سموگ کی شدت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں عموماً اکتوبر سے فروری تک سموگ کا خطرہ رہتا ہے، تاہم نومبر، دسمبر اور جنوری میں اس کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے، ہواؤں کی رفتار گھٹنے اور بارشیں نہ ہونے کے باعث آلودگی زمین کے قریب جمع رہتی ہے۔ درجہ حرارت کی الٹ پھیر (Temperature Inversion) کے دوران فضائی آلودگی اوپر پھیلنے کے بجائے نچلی سطح پر محصور ہو جاتی ہے۔ یوں دھند، دھوئیں اور زہریلے ذرات کا امتزاج صحت کے لیے خطرناک ماحول پیدا کرتا ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق یہ مسئلہ اکتوبر سے فروری تک خصوصی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔سموگ کا سب سے خطرناک جزو باریک فضائی ذرات پی ایم 2.5 ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور خون میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سے کھانسی، نزلہ، گلے میں خراش، آنکھوں میں جلن، سانس لینے میں دشواری، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ طویل عرصے تک آلودہ فضا میں رہنے سے دل کی بیماریوں، فالج اور پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا دل کے مریضوں کو خصوصی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی فضائی آلودگی کو صحت عامہ کے بڑے خطرات میں شمار کرتا ہے۔سموگ سے بچاؤ کے لیے انفرادی احتیاط کے ساتھ اجتماعی اور حکومتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گاڑیوں کا دھواں چیک کروائیں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں اور کوڑا کرکٹ، پلاسٹک یا فصلوں کی باقیات جلانے سے اجتناب کریں۔ فضائی آلودگی زیادہ ہونے پر باہر نکلتے وقت معیاری این 95 ماسک استعمال کریں۔ گھروں اور دفاتر کی کھڑکیاں بند رکھیں اور بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ جانے دیں۔ آنکھوں میں جلن یا سانس کی تکلیف کی صورت میں طبی مشورہ حاصل کریں۔ عام کپڑے کا ماسک باریک آلودہ ذرات سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔حکومت پنجاب نے سموگ کے تدارک کے لیے مختلف محکموں کے اشتراک سے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ پنجاب کلین ایئر پروگرام اس سلسلے کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس کے لیے عالمی بینک نے 30 کروڑ ڈالر کی معاونت منظور کی ہے۔ اس پروگرام کا ہدف فضائی آلودگی میں کمی، فضائی معیار کی نگرانی اور صاف توانائی و ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ منصوبے میں پانچ ہزار سپر سیڈرز کے ذریعے فصلوں کی باقیات تلف کرنے اور 600 الیکٹرک بسیں متعارف کرانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔محکمہ تحفظ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے، محکمہ زراعت، محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ صنعت، بلدیاتی ادارے، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت اس مہم میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی ادارے صنعتی یونٹوں، اینٹوں کے بھٹوں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نگرانی، خلاف ورزیوں پر جرمانے، مقدمات اور غیر قانونی یونٹوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ حکومت نے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز، گاڑیوں کے دھوئیں کی جانچ، ایندھن کے معیار کی پڑتال اور جدید نگرانی کے نظام کو بھی وسعت دینے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔حالیہ سرکاری اقدامات میں سموگ سے پہلے کارروائی، فصلوں کی باقیات اور کوڑا جلانے پر پابندی، تعمیراتی گردوغبار کی روک تھام، بھٹوں اور فیکٹریوں کی نگرانی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف مہم شامل ہیں۔ ستمبر 2026 میں پنجاب حکومت نے موسم سرما سے پہلے آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف پیشگی کارروائی کا اعلان بھی کیا۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات کے نتائج مستقل بنیادوں پر کیوں نظر نہیں آتے؟ صرف سموگ کے موسم میں چھاپے مارنا، جرمانے کرنا اور تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ گوجرانوالہ اور کامونکے جیسے صنعتی و شہری علاقوں میں بھی فضائی معیار کی مسلسل نگرانی، فیکٹریوں کے اخراج پر قابو، ٹریفک کی بہتری، شجرکاری اور زرعی فضلے کو جلانے کے بجائے قابل استعمال بنانے کے منصوبوں پر عمل ضروری ہے۔سموگ کسی ایک محکمے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ حکومت کو قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد، محکموں کی جواب دہی اور عوام کو مستند معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ صاف ہوا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر آج ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو صحت مند زندگی فراہم کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔مزید متعلقہ معلومات: پنجاب میں فضائی معیار اور سرکاری اقدامات کی تفصیلات محکمہ تحفظ ماحولیات کی ویب سائٹ [محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب](https://epd.punjab.gov.pk/?utm_source=chatgpt.com) اور فضائی معیار کے آن لائن نظام [پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس](https://aqi.punjab.gov.pk/?utm_source=chatgpt.com) سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button