پی ایم ڈی ایف سی اورورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت سےجدید چینی ٹیکنالوجی پر مبنی 100 سالہ معیاد والے سیوریج پائپس کی تیاری شروع

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وژن اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی ہدایات کے مطابق صوبہ پنجاب میں جدید، پائیدار اور طویل المدتی سیوریج نظام کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (PMDFC) کی تکنیکی معاونت سے چین سے درآمد شدہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایچ ڈی پی ای لائنڈ آر سی سی سیوریج پائپس کی تیاری کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے جدید HDPE لائننگ پائپ فیکٹری کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں چیئرمین پی ایم ڈی ایف سی عماد افتخار ملک، سپیشل سیکرٹری محکمہ بلدیات شاہد زمان لک، مینجنگ ڈائریکٹر پی ایم ڈی ایف سی سید زاہد عزیز،بورڈ ممبر قمرالزمان، واسا کے اعلیٰ افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین پی ایم ڈی ایف سی عماد افتخار ملک نے کہا کہ

یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب کے اس وژن کا عملی مظہر ہے جس کے تحت شہری انفراسٹرکچر کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی ایف سی اور ورلڈ بینک نے نہ صرف اس منصوبے کی منصوبہ بندی کی بلکہ چین سے جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے حالیہ دورہ چین کے دوران اس جدید ٹیکنالوجی کے حصول کو ممکن بنایا گیا، جس کے تحت چینی ماہرین نے پاکستان آ کر مقامی سطح پر تکنیکی معاونت فراہم کی۔ اس اقدام کے نتیجے میں اب پنجاب میں ایسے سیوریج پائپس تیار کیے جائیں گے جن کی عمر روایتی 25 سال کے مقابلے میں بڑھ کر 100 سال تک ہو گی، جس سے نہ صرف لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ شہریوں کو دیرپا اور مؤثر نکاسی آب کا نظام میسر آئے گا۔جبکہ سیویریج پائپس کے بیٹھ جانے سے ہونے والے حادثات کے خاتمے سے قیمتی جانی اور مالی نقصان سے بھی بچاؤ ہو گا۔چیئرمین پی ایم ڈی ایف سی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف انفراسٹرکچر کی بہتری کا ضامن ہے بلکہ مقامی صنعت کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پی ایم ڈی ایف سی صوبے کے شہروں کو جدید، صاف اور مزید ترقی یافتہ بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔

سید زاہد عزیز، ایم ڈی پی ایم ڈی ایف سی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پی ایم ڈی ایف سی کی تکنیکی معاونت کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک کی کاؤنٹرپارٹ ٹیم، جس کی قیادت مسٹر کارلو البرٹونے کی، نے بھی اس منصوبے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں انجینئرز کے لیے سنگاپور واٹر سینٹر کا ایکسپوژر وزٹ بھی کروایا گیا، جس سے جدید آبی و نکاسی آب نظام کی بین الاقوامی بہترین عملی تجربات کو مقامی منصوبے کا حصہ بنایا گیا۔ ان تمام تکنیکی معاونت اور بین الاقوامی تجربات کے نتیجے میں اب پاکستان میں ایسے جدید سیوریج پائپس تیار کیے جا رہے ہیں جن کی عمر روایتی 25 سال کے مقابلے میں بڑھ کر 100 سال تک ہو گئی ہے، جو سیوریج انفراسٹرکچر کے معیار میں ایک انقلابی تبدیلی ہے۔ان پائپس کے استعمال سے نہ صرف سیوریج نظام میں بہتری آئے گی بلکہ سیوریج کی تعمیر پر بار بار اٹھنے والے حکومتی اخراجات میں بھی نمایاں کمی ہو گی۔فیکٹری میں تیار کیے جانے والے خصوصی HDPE لائنڈ RCC پائپس جدید معیار کے مطابق ہوں گے اور صوبہ بھر میں جاری و آئندہ سیوریج منصوبوں میں استعمال کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے این ایس اے پولیمر گروپ کے چیئرمین میاں سہیل نثار اور سی ای او میاں سعد سہیل نے مزید صنعتی یونٹس کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

جواب دیں

Back to top button