پنجاب میں پانی کے وسائل کے پائیدار انتظام اور زیرزمین پانی کے ذخائر کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (PMDFC) کے زیر اہتمام، یونیسیف کے تعاون سے رین واٹر ہارویسٹنگ (RWH) اور مینیجڈ ایکویفر ریچارج (MAR) فزیبلٹی اسٹڈی کی لانچنگ اور تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پنجاب سٹیز پروگرام (PCP) اور پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام (PICP) کے پارٹنر میونسپل کمیٹیوں کے میونسپل افسران نے شرکت کی۔تربیتی سیشن کا مقصد میونسپل افسران کو رین واٹر ہارویسٹنگ اور ایکویفر ریچارج کے جدید تصورات، تکنیکی پہلوؤں اور عملی اطلاق سے آگاہ کرنا تھا تاکہ پنجاب کے شہروں میں پائیدار واٹر مینجمنٹ اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب میں چیئرمین PMDFC عماد افتخار ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے سینئر چیف یاسر مبین، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ بلدیات امجد علی اور ملیحہ سجادیونیسیف بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر ایم ڈی PMDFC سید زاہد عزیز سمیت ادارے کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ فزیبلٹی اسٹڈی میں بارشی پانی کے مؤثر استعمال، شہری علاقوں میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور زیرزمین آبی ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر تحقیق شامل کی گئی ہے۔ تقریب کے دوران ماہر ہائیڈروجیولوجسٹ اور ریسرچرز عارف بٹ اور طارق بٹ نے تحقیق کے اہم نتائج اور سفارشات پیش کرتے ہوئے پنجاب کے مختلف علاقوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ اور ایکویفر ریچارج کے ممکنہ ماڈلز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین PMDFC عماد افتخار ملک نے کہا کہ بارشی پانی کو محفوظ بنانے سے نہ صرف آبی وسائل کی بچت ممکن ہوگی بلکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے مسائل میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحقیق پنجاب میں رین واٹر ہارویسٹنگ کے جدید اور مؤثر حل متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور امید ظاہر کی کہ اس کی سفارشات پر عملی طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رین واٹر ہارویسٹنگ مستقبل میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر اور دیرپا حل ثابت ہو سکتی ہے۔ ایم ڈی PMDFC سید زاہد عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ فزیبلٹی اسٹڈی کے نتائج مستقبل کی واٹر مینجمنٹ پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مینیجڈ ایکویفر ریچارج زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم کھارے پانی کے علاقوں میں غیر محتاط ریچارج سے قریبی میٹھے آبی ذخائر متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے پیش نظر سائنسی اور ہائیڈرو جیولوجیکل جائزہ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافہ اور تربیت کے ذریعے پانی کے وسائل کے تحفظ کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جا سکتا ہے۔




