*خیبرپختونخوا یوتھ پالیسی 2026ء کی اصولی منظوری دے دی گئی*

نوجوانوں کا خیبرپختونخوا، ترقی کا خیبرپختونخوا!،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ کھیل و امور نوجوانان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، صوبائی یوتھ پالیسی 2026 کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ حتمی منظوری صوبائی کابینہ سے لی جائے گی۔نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے وزیراعلیٰ نے باقاعدہ قانون سازی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے صوبے کے ہر ضلع میں "جوان مرکز” قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان مراکز کے مؤثر انتظام کے لیے مقامی سطح پر بااختیار گورننگ باڈیز بھی تشکیل دی جائیں گی۔وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ان پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ "نوجوانوں کا بجٹ” ہوگا اور ڈیجیٹل اسکلز کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔

یوتھ پالیسی 2026 کے تحت آئندہ دو برسوں میں نوجوانوں کی ترقی پر 7 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔پالیسی چار بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے:🔸 تعلیم🔸 روزگا🔸 ماحولیات🔸 سماجی و معاشرتی شمولیت،پالیسی کے اہم نکات: اس طرح ہیں🔹 نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے سیکنڈری تعلیم تک رسائی کو یونیورسل بنانا اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانا۔🔹 نوجوان خواتین کے لیے اسکالرشپس، تربیتی پروگرامز، دیہی اور ضم شدہ اضلاع میں موبائل آؤٹ ریچ سروسز اور جوان مراکز کا قیام۔🔹 خصوصی افراد کے لیے معاون سہولیات، خواجہ سرا نوجوانوں کے لیے روزگار معاونت اور اقلیتی نوجوانوں کے لیے خصوصی کوٹہ۔🔹 تکنیکی و فنی تعلیم کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا اور نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا۔🔹 سرکاری و نجی شعبوں میں یوتھ انٹرن شپ پروگرامز، روزگار کے نئے مواقع اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے انٹرپرینیورشپ سپورٹ۔🔹 صوبائی اور ضلعی سطح پر یوتھ کونسلز کا قیام اور کمیونٹی سروس کے لیے نوجوان رضاکار گروپس کی تشکیل۔🔹 ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، یوتھ فرینڈلی گورننس، نوجوانوں کی صحت و فلاح کے اقدامات۔🔹 خیبرپختونخوا یوتھ ڈویلپمنٹ کمیشن کو فعال بنانا اور یوتھ ڈویلپمنٹ فنڈ کا قیام۔یہ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار، قیادت، مہارت اور بااختیاری کا ایک جامع روڈ میپ ہے جو انہیں صوبے اور ملک کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔

جواب دیں

Back to top button