وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت مثالی گاؤں پروگرام کا جائزہ اجلاس،ابتدائی مرحلے میں 60 ارب کے فنڈز کی منظوری

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ مثالی گاؤں وزیراعلی مریم نواز حکومت کا اہم پروگرام ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں 485 دیہات میں ترقیاتی سکیموں پر کام شروع ہوگیا ہے۔ صوبائی وزیر سول سیکرٹریٹ میں مثالی گاؤں پروگرام کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ نے بھی شرکت کی جبکہ پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی (پی آر ایم ایس سی) کے سی ای او خرم پرویز نے بریفنگ دی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پہلے مرحلے میں مثالی گاؤں پروگرام کے تحت واٹر سپلائی، سیوریج اور گلیوں کی تعمیر سے 40 لاکھ آبادی کو فائدہ ہوگا۔ پنجاب حکومت نے ابتدائی مرحلے کیلئے 60 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ دیہات میں پہلی بار چلڈرن پارکس بنائے جائیں گے اور سٹریٹ لائٹس بھی نصب ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ دیہات کے روایتی چھپڑوں کی بحالی مثالی گاؤں پروگرام کا خاص جزو ہے۔ صوبائی وزیر نے اس حوالے سے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ضروری مشینری کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی آر ایم ایس سی کنٹریکٹرز کے کاموں کی مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ متعلقہ اضلاع کے انتظامی افسران بھی پی آر ایم ایس سی سے بھرپور تعاون کریں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ مثالی گاؤں پروگرام کا دائرہ کار بتدریج بڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب کے مزید 7500 دیہات کو مثالی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر نے سپیشل سیکرٹری کو اس پروگرام کیلئے ہیومن ریسورس کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جواب دیں

Back to top button