وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی عوامی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) 26-2025 کے تحت جاری بڑے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور آئندہ پی ایس ڈی پی 27-2026 کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دی جس میں سڑکوں کے انفراسٹرکچر، علاقائی روابط اور معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر ورکس حاجی علی حسن زرداری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ورکس نواز سوہو، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیرو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پانچ بڑے سڑکوں کے منصوبے، جن کی مجموعی لاگت 140.9 ارب روپے سے زائد ہے، اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ مالی معاونت سے جاری ہیں۔ ان میں 36 کلومیٹر سندھ کوسٹل ہائی وے کی توسیع، 150 کلومیٹر روہڑی تا گڈو بیراج روڈ کی بہتری، 31.4 کلومیٹر ٹنڈو الہ یار تا ٹنڈو آدم روڈ کی ڈوئلائزیشن، 135 کلومیٹر مہران ہائی وے (نوابشاہ تا رانی پور) کی ڈوئلائزیشن، اور 221 کلومیٹر سانگھڑ تا روہڑی (این-5) روڈ کی بہتری شامل ہیں۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ متعدد منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ کچھ منصوبے ٹینڈرنگ یا ابتدائی مراحل میں ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک 17.94 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ مجموعی اخراجات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔مراد علی شاہ نے کام کی رفتار تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ فوری طور پر رکاوٹوں کو دور کیا جائے، جن میں یوٹیلیٹی لائنز کی منتقلی، بجلی کے کھمبوں کی منتقلی اور تجاوزات کا خاتمہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یا تکنیکی مسائل کی وجہ سے تاخیر قابل قبول نہیں اور تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے کے ذریعے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کریں۔انہوں نے بالخصوص سوئی گیس پائپ لائنز، بجلی کے انفراسٹرکچر اور آبی گزرگاہوں کی منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی جو منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑکوں کے منصوبے معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں پائیدار بنیادوں پر اور بروقت مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہتر سڑکوں کا نظام تجارت کو فروغ دے گا، سفر کا وقت کم کرے گا اور زراعت، صنعت اور علاقائی روابط کو مضبوط بنائے گا۔اجلاس میں پی ایس ڈی پی 27-2026 کے لیے مجوزہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان کی اصولی منظوری دی گئی، جن میں جیکب آباد بائی پاس تا کندھکوٹ (100 کلومیٹر) اضافی کیرج وے، ٹھٹھہ تا سجاول تا بدین روڈ (112 کلومیٹر) کی ڈوئلائزیشن، اور دادو تا ڈوکری بذریعہ اہم مقامات (84 کلومیٹر) ڈوئل کیرج وے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبے بالائی اور زیریں سندھ میں روابط کو بہتر بنائیں گے، اشیاء کی ترسیل میں سہولت فراہم کریں گے اور بالخصوص زراعت، ماہی گیری اور ساحلی تجارت میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی سندھ کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکزی جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سڑکیں بہتر روابط، مضبوط منڈیاں اور عوام کے لیے بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں اور یہ منصوبے پسماندہ علاقوں میں نئی معاشی سرگرمیوں کے دروازے کھولیں گے۔اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تمام پی ایس ڈی پی منصوبوں کی سخت نگرانی کی ہدایت دی اور محکموں کو فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر منصوبہ عوام کے لیے حقیقی معاشی اور سماجی فوائد کا باعث بننا چاہیے۔
Read Next
8 منٹس ago
*تاریخی روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا*
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری جائزہ اجلاس،رجسٹرڈ چھوٹے کاشت کاروں پر 5 بوری فی ایکڑ کی حد ختم*
1 دن ago
*سندھ میں فیول سبسڈی سکیم کے تحت 146.77 ملین روپے جاری*
2 دن ago
سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں 6 ایم جی ڈی ریپڈ گریویٹی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے لیے 22 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی
2 دن ago
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا 45 ارب روپے کے SDGs پروگرام کا جائزہ،1082 اسکیمیں شروع کر دی گئیں
Related Articles
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کے ہمراہ پنو عاقل میں نئی سڑک کا افتتاح
3 دن ago
سندھ کے بلدیاتی اداروں میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے،مقامی سطح پر بہتری لانے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل،نوٹیفکیشن
5 دن ago
سندھ حکومت نے معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے معاون آلات کی فراہمی کی خاطر 800 ملین روپے جاری کر دیئے
5 دن ago



