سینیٹ کمیٹی کی پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے انضمام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت، اہم ہاؤسنگ منصوبوں اور تجاوزات سے متعلق امور کا جائزہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تحلیل شدہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کے دوسرے محکموں میں انضمام اور تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق پیش رفت سمیت عوامی انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ اسکیموں اور تجاوزات سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

 

اجلاس میں سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر خالدہ عتیب، سینیٹر حسنہ بانو اور سینیٹر نسیمہ احسان نے شرکت کی۔کمیٹی نے تحلیل شدہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کی مختلف محکموں میں ضم اور تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے پر غور کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام مسائل کا منصفانہ اور بروقت حل یقینی بنایا جائے گا۔ چیئرمین نے کہا کہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقداروں کو حق دلوانا اس کمیٹی کا منشور رہے گا۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 3,227 ملازمین میں سے 3,001 کو مختلف محکموں میں ضم کر کے تنخواہیں جاری کی جا چکی ہیں، 193 ملازمین کو ایڈجسٹ کیا جا چکا ہے اور ان کی تنخواہیں جلد شروع ہوں گی، جبکہ صرف 33 ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ اور انضمام پر عملدرآمد نہیں ہوا۔کمیٹی کی ہدایات پر وزارت منصوبہ بندی نے 17 ملازمین کو 10 روز کے اندر جذب کرنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ وزارت داخلہ نے 7 ملازمین کو جلد ایڈجسٹ کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم وزارت مذہبی امور نے حج ڈائریکٹوریٹ کراچی میں آسامیوں کی کمی کا جواز پیش کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا اور تجویز دی کہ صرف دو ملازمین کو ضم کیا جاسکتا ہے، جس پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام 9 کے 9 ملازمین کو ضم کر کے 10 دن میں عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹ نے واضح کیا کہ یہ وفاقی کابینہ کا کیا گیا فیصلہ ہے اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد تمام محکموں پر لازم ہے۔کمیٹی نے سی ڈی اے میں جذب ملازمین کے مسائل کا بھی جائزہ لیا اور اتھارٹی کو ہدایت دی کہ ان کے مسائل حل کر کے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ مزید برآں، بارڈر ہیلتھ سروسز میں ضم ہونے والے ملازمین میں سے پانچ ملازمین کے تاحال جوائن نہ کرنے پر نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی گئی۔انفراسٹرکچر کے امور کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کو شہید ملت سیکرٹریٹ کی لفٹس کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ دو لفٹس فعال ہیں جبکہ تین لفٹس کی تبدیلی کے لیے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں، جنہیں چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ موجودہ لفٹس کی بلا تعطل کارکردگی یقینی بنائی جائے اور نئی لفٹس کی تنصیب بروقت مکمل کی جائے۔قائمہ کمیٹی کو اسلام آباد میں ماڈل جیل منصوبے کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کے رواں مالی سال کے اختتام تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ چیئرمین نے آئندہ اجلاس سے قبل جیل منصوبے کے دورے کا عندیہ دیا۔مری کے کشمیر پوائنٹ پر واقع کانسٹینشیا لاج کے حوالے سے بتایا گیا کہ 38 کنال اراضی کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور باڑ بھی لگا دی گئی ہے۔ تاہم 6 تا 7 کنال اراضی بدستور ناجائز قبضہ کی زد میں ہے اور اس کے متعلق مقدمہ زیر سماعت ہے۔ کمیٹی نے قانونی کارروائی تیز کرنے اور عدالت سے سٹے آرڈرز خارج کروانے کی کاوشوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔اسکائی گارڈنز ہاؤسنگ اسکیم کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا، جو اس وقت زیر سماعت ہے اور 6 اپریل 2026 سے فیصلہ محفوظ ہے۔ چیئرمین نے متعلقہ حکام کو مسلسل پیروی کی ہدایت دی۔ایف جی ایچ اے کے گرین انکلیو-I منصوبے پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ 50 تا 55 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور معاہداتی تنازعات کے حل کے بعد جون 2026 میں تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ کمیٹی نے پیش رفت کو سراہتے ہوئے بروقت تکمیل پر زور دیا۔انسداد تجاوزات کارروائیوں کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ املاک کا معاوضہ شفاف طریقہ کار کے تحت ادا کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ اس عمل میں انصاف اور انسانی ہمدردی کو یقینی بنایا جائے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے ذاتی نگرانی کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایف-12 اور جی-12 سمیت نئے سیکٹرز میں لینڈ شیئرنگ میکانزم متعارف کرانے کے منصوبے سے آگاہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تمام منصوبوں میں شفافیت، انصاف اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ایف جی ای ایچ اے کے حکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی جلد از جلد ہاؤسنگ پراجیکٹ پورے کرکے اپنی کارکردگی کو ثابت کرے تاکہ عوام میں ادارے پر اعتماد کو بڑھوتری ملے۔

جواب دیں

Back to top button