وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس، صوبائی صدر جنید اکبر خان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان ہمراہ موجود تھے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کا طلب کردہ اہم اجلاس بغیر کسی وجہ کے منسوخ کر دیا گیا جو تشویشناک ہے، تین سال سے عمران خان، ان کے خاندان، قیادت اور کارکنوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شدید اختلافات کے باوجود پاکستان کے مفاد میں اجلاس میں شرکت کی حامی بھری،قومی اہمیت کے باوجود وزیراعظم نے ایران، اسرائیل اور امریکہ تنازع پر قوم کو اعتماد میں نہیں لیا۔اہم فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں، عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، قومی فیصلے کسی ایک خاندان یا ادارے تک محدود نہیں، بلکہ پورے ملک اور تمام اداروں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔عوامی مینڈیٹ کے باوجود عمران خان اور ان کی جماعت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، ہمیں کسی فیصلے میں شامل نہیں کیا گیا، وفاق خیبرپختونخوا کو اس کا مالی حصہ دینے میں ناکام رہا ہے۔صوبائی حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی کی،وفاق نے سات ماہ میں پانچ ارب ڈالر قرض لیا مگر عوامی فلاح پر خرچ نہیں کیا۔پنجاب میں 12 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدا گیا اور 70 ہزار ڈالر تنخواہ والے پائلٹس بھی رکھے، یہ غیر سنجیدگی کی عکاسی ہے، معیشت زوال کا شکار، صنعتی ترقی رک گئی، نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ٹیکسٹائل صنعت بند، تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، تین سال میں پٹرول کی قیمتوں میں 171 روپے اضافہ ہوا، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کا حصہ نہیں دیا جا رہا، یہ غیر آئینی عمل ہے، آٹھ سال میں 964 ارب روپے خیبرپختونخوا کے حصے سے دیگر صوبوں کو منتقل کیے گئے۔ اے آئی پی کے تحت ہر سال 100 ارب دینے کا وعدہ کیا تھا، سات سال میں صرف 168 ارب ملے، رواں سال قبائلی اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع کو فنڈز فراہم کر رہی ہے، این ایف سی کمیٹی کا اجلاس بھی مؤخر، وفاقی حکومت کی عدم سنجیدگی عیاں ہے، وفاقی حکومت عوام اور پارلیمنٹ کا سامنا کرے اور قومی معاملات پر اعتماد میں لے،






