خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت جوائنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس!

اجلاس میں قبائلی اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں پر غور، اجلاس میں وفاقی کابینہ اراکین احسن اقبال ، امیر مقام اور مبارک زیب سہیٹ وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں کے لیے 30.3 ارب روپے کی برج فنانسنگ فراہم کی گئی، وفاق کی جانب سے رواں سال اے آئی پی کے تحت ایک روپے کی بھی ریلیز نہیں ہوئی، وفاق کا 20 ارب روپے جاری کرنے کا عندیہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے اہم قدم ہے۔فنڈز ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر اور تکمیل کے قریب ہائی پرایارٹی منصوبوں پر خرچ ہوں گے، ہائی امپیکٹ منصوبوں کے لیے 9.3 ارب روپے جلد جاری کرنے کی وفاقی یقین دہانی بھی خوش آئند ہے، ضم اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ترقی اور سرمایہ کاری نا گزیر ہے۔ضم اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن منصوبے میں زیادہ آبادی کو فائدہ دینے کے لیے صوبہ بھی حصہ ڈالنے کو تیار ہے، خیبرپختونخوا پولیس کی استعداد بڑھانے اور جدید اسلحہ و سازوسامان کے لیے 28 ارب روپے فراہم کیے ہیں، قبائلی اضلاع کو پہلے دن سے پسماندہ رکھا گیا، انضمام کے بعد بھی ان کا حق دوسرے صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، گزشتہ ساتھ سال میں قبائلی اضلاع کے 1375 ارب روپے دیگر صوبوں میں تقسیم ہوئے۔ہم قبائلی اضلاع کے این ایف سی شیئر کے بارے میں پہلے ہی وزیر اعظم کو خط لکھ چکے ہیں، قبائلی اضلاع کا حصہ نہ دینا نا انصافی ہے، خیبرپختونخوا کو اپنے پورے مالی وسائل ملنے چاہئیں، خیبر پختونخوا میں ضم اضلاع کی آبادی شامل ہو چکی ہے، مالی وسائل بھی ملنے چاہئیں۔ اجلاس کو حکام کی طرف سےبریفنگ میں بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن کے لیے نئی اے ڈی پی اسکیم کی سمری منظور، پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں پی سی ون پیش کیا جائے گا۔فاٹا یونیورسٹی کی اسٹرینتننگ کے لیے پی سی ون منظور ، 2.5 ارب روپے جاری ہو چکے ہیں۔ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے جاری 7 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں،ضم اضلاع میں ایک ہزار نوجوانوں کو ٹیکنکل اسکلز اور انٹرنشپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ترقیاتی اسکیم پر بھی غور کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button