*سندھ کابینہ اجلاس میں بڑے اصلاحاتی اقدامات، ترقیاتی منصوبے اور گندم خریداری کی پالیسی کی منظوری دے دی*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم پالیسی فیصلوں اور ترقیاتی اقدامات کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد مستحکم حکمرانی، بنیادی انفرااسٹیکچر کو بہتر کرنا، غذائی تحفظ یقینی بنانا اور سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین اور اعلیٰ افسران بشمول چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ اور پرنسپل سیکریٹری ٹو سی ایم آغا واصف عباس نے شرکت کی۔

کچے کے علاقوں کا سروے:

سندھ کابینہ نے اصولی طور پر کچا کے علاقوں یعنی دریائی علاقوں کا جامع سروے کرنے کی منظوری دی تاکہ امن امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے، اراضی کی حکمرانی کو مضبوط کیا جا سکے اور حکومت کی جاری سریندر پالیسی کی حمایت کی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقوں کا سروے زمین کے ریکارڈ میں طویل عرصے سے موجود اختلافات کو حل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو ریونیو دفاتر، محکمہ جنگلات اور مختلف وفاقی اداروں میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس سروے سے اراضی کی ملکیت اور استعمال کا ڈیجیٹل اور درست ریکارڈ مرتب ہوگا، جس سے اہل حکام قانونی رہائشیوں کی شناخت اور غیر قانونی قبضوں کو کنٹرول کر سکیں گے۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 705 ملین روپے ہے اور یہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) بنیادوں پر سروے آف پاکستان کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ کابینہ نے سندھ پبلک پروکیورمنٹ قانون کے تحت چھوٹ کی منظوری دے کر فوری کام شروع کرنے کی اجازت دی۔ لاڑکانو ڈویژن اور سکھر ڈویژن میں امن امان کی صورتحال کے پیش نظر منصوبے کی مدت 25 ماہ سے کم کر کے 15.5 ماہ کی گئی ہے، اور متعدد ڈائریکٹرٹ بیک وقت کام کریں گے تاکہ منصوبہ جلد مکمل ہو سکے۔ کچے کے علاقوں کا سروے جدید جغرافیائی ٹیکنالوجیز جیسے سیٹلائٹ امیجری، جی آئی ایس میپنگ اور جدید جغرافیائی آلات استعمال کرے گا۔ یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کچےکے علاقوں کی زمین کی حدود کی شناخت اور جی آئی ایس میپنگ کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں 624 دیہوں کا تفصیلی کیڈسٹرل میپنگ، زمین کی اراضی کی حد بندی اور ملکیت کے ڈیٹا کی جمع آوری شامل ہوگی۔ سندھ کابینہ نے شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے لیے ہدایت دی کہ یہ منصوبہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے ذریعے گرانٹ ان ایڈ کے بجائے نان اے ڈی پی اسکیم کے طور پر عمل میں لایا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس اقدام کو کچے کے علاقوں میں ریاستی عملداری کو بحال کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اراضی کی واضح شناخت قانونی آبادکاروں اور مجرمانہ عناصر کے درمیان فرق قائم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ سریندر پالیسی اور طویل مدتی امن کامیاب ہو۔کے فور پاور پروجیکٹ کے لیے مالی معاونت کی پالیسی:

سندھ کابینہ نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے فور)کے پاور حصے کے لیے جامع مالی اور عملدرآمدی منصوبہ بھی منظور کیا، تاکہ اہم پانی کے منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کابینہ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) لیے قرض کی بنیاد پر ماڈل کو گرانٹ-ان-ایڈ میکانزم میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔ 13.9 ارب روپے کی گرانٹ پاور انفراسٹرکچر کے لیے منظور کی گئی، جس میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن، 26 کلومیٹر کی ٹرانسمیشن لائن، 11 کے وی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور 50 میگاواٹ بجلی کی لوڈ کے لیے عملہ کالونی شامل ہے۔ موجودہ مالی سال (26-2025ء) میں 3.47 ارب روپے فیز ون کے لیے جاری کیے جائیں گے، جبکہ آئندہ مالی سال 27-2026ء کے بجٹ میں فیز ٹو کے لیے 10.43 ارب روپے مختص ہوں گے۔ سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) پاور انفراسٹرکچر کی ملکیت، آپریشن اور دیکھ بھال کرے گی، جبکہ کے ڈبلیو ایس سی کو فوری فنڈ ٹرانسفر کی ہدایت دی گئی ہے۔ سندھ حکومت ابتدائی طور پر حیسکو کے لیے ماہانہ تقریباً ایک ارب روپے اور ایس ٹی ڈی سی کے لیے 74 ملین روپے آپریشنل اخراجات کے طور پر برداشت کرے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کے ڈبلیو ایس سی کو ہدایت دی کہ وہ اپنا ریونیو سسٹم بہتر کرے تاکہ یہ مالی ذمہ داریاں آہستہ آہستہ خود سنبھال سکے۔ یہ فیصلہ کے فور پروجیکٹ کی پیشرفت کو تیز کرنے اور کراچی میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے اہم ہے۔

گندم خریداری کی پالیسی:

سندھ کابینہ نے ربیع 26-2025ء کے سیزن کے لیے گندم خریداری کی پالیسی کی منظوری دی، جس کے تحت ایک ملین میٹرک ٹن گندم کے ہدف کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ غذائی تحفظ اور قیمتوں کی استحکام قائم رہے۔ کابینہ نے گندم کی اشارتی قیمت 3,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی۔ خریداری صرف سندھ گندم آبادگار سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ 332,000 سے زائد ہاریوں سے کی جائے گی۔ ہر ایک ایکڑ سے پانچ 100 کلوگرام کے تھیلے خریدے جائیں گے اور ہاری اپنے معیار تصدیق شدہ تھیلے استعمال کر سکیں گے، جن کے لیے 60 اور 100 روپے فی تھیلا معاوضہ دیا جائے گا۔ بیچوانوں (مڈل مین) کو ختم کرنے کے لیے ادائیگیاں براہ راست ہاریوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی۔ کابینہ نے اپریل تا جون 2026ء کے لیے کموڈٹی فنانسنگ کے لیے کیش کریڈٹ کی حد 221 ارب روپے کرنے کی منظوری بھی دی۔ گندم خریداری کے مراکز یکم اپریل 2026ء سے فعال ہوں گے۔انفراسٹرکچر اورترقیاتی منصوبے:

سندھ کابینہ نے اربوں روپے کے بنیادی انفرااسٹیکچر اور ترقیاتی اقدامات کی توثیق کی جن میں متعدد منصوبے شامل ہیں۔ ملیر ہالٹ تا گھگھر پھاٹک سڑک کی مرمت کے لیے 2.55 بلین روپے، سیلاب سے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے 888 ملین روپے اور 1.96 بلین روپے سڑک کو چوڑا کرنے کے کلیدی منصوبوں کے لیےجس میں این فائیو لنک روڈ کو مکمل کرنے کے لیے ایم نائن انٹرچینج کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ لیاری کی سڑکوں اور نکاسی آب کی بحالی کے لیے 1.45 بلین روپے کی منظوری دی گئی۔

تعلیم، نوجوان اور سماجی اقدامات:

سندھ کابینہ نے سینٹ پیٹرک اسکول کراچی میں جدید اسٹیڈیم کے لیے 100 ملین روپے اور تھر انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این ای ڈی کیمپس) فیز ٹو منصوبے کے لیے 6.63 ارب روپے کی منظوری دیدی اور طلباء کی فیسوں کی واپسی کی مد میں 3.4 بلین روپے اور ایس ڈی جی سے متعلق 98 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 4.33 بلین روپے منظور کیے گئے۔

مذہبی مقامات کی ترقی:

سندھ کابینہ نے صوبے بھر کے اہم مذہبی مقامات پر سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اہم ترقیاتی اقدامات کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے درازہ شریف، خیرپور میں حضرت سچل سرمستؒ کے مزار پر لائبریری کے قیام کے لیے 51.52 ملین روپے کی منظوری دی ۔ اس کے علاوہ، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے درگاہ پر انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے 33.68 ملین روپے کی منظوری دی گئی جس میں بھٹ شاہ میں سڑکوں کی بحالی اور 200 کے وی اے ٹرانسفارمر کی تنصیب بھی شامل ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے 25 فیصد فنڈز فوری جاری کرنے کی منظوری دی۔

سیاحتی انفراسٹرکچراور جدید میوزیم :

سیاحت کے بنیادی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور سندھ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اقدام کے سلسلے میں سندھ کابینہ نے کئی اہم اقدامات کی منظوری دی۔صوبائی کابینہ نے محکمہ ثقافت سندھ، کراچی میونسپل کارپوریشن اور سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان کے درمیان تعاون کی منظوری دی تاکہ بیچ ویو کے قریب ایک جدید ترین کراچی میوزیم قائم کیا جائے گا جس کی لاگت 10000 روپے ہے۔ اس کی ترقی کے لیے 655.9 ملین مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی میوزیم میں سندھ کی 5000 سالہ تاریخ اور پاکستان کی آزادی کی داستان کو دکھایا جائے گا۔ سندھ کابینہ نے ہاکس بے ریزورٹ کو جدید کیپسول ریزورٹ میں اپ گریڈ کرنے کی بھی منظوری دی اور سندھ میوزیم حیدرآباد کی جدید کاری اور اپگریڈیشن کی منظوری دیتے ہوئے نئے مالی سال 27-2026ء میں 305.667 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔ کراچی میوزیم کے انتظامات پانچ سال کے لیے سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان (سی اے پی) سنبھالے گا، جس کے لیے سندھ کابینہ نے انتظامی اخراجات کے طور پر 341.414 ملین روپے کی منظوری دی۔ منصوبے کے نفاذ کے لیے اسپیشل پرپز وہیکل قائم کیا جائے گا، اور اس کی نگرانی گرانی سندھ حکومت اور سی اے پی کے نمائندوں پر مشتمل بورڈ آف ڈائریکٹرز کرے گا، جس کے بارے میں کابینہ کو بریفنگ بھی دی گئی۔

انکلوژ سٹی پروجیکٹ:

سندھ کابینہ نے کورنگی میں 75 ایکڑ پر قائم ہونے والے انکلوژ سٹی پروجیکٹ کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی خریداری فریم ورک کی منظوری دی، جس کا مقصد خصوصی افراد کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کابینہ نے لچکدار کنٹریکٹنگ کی اجازت دی، جبکہ سخت نگرانی کو لازمی قرار دیا گیا، جس میں تکنیکی جانچ، آزادانہ لاگت کی تصدیق اور مسلسل نگرانی شامل ہے۔ بھرتی اور خریداری کے عمل میں عوامی شعبے کے حکمرانی کے قواعد کی پیروی کی جائے گی۔

صحت کے شعبے میں بڑے اصلاحاتی اقدامات:

صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر کابینہ نے دو اہم قوانین کی منظوری دی تاکہ خودمختار ادارے قائم کیے جا سکیں، جن میں ایک نوابشاہ میں بینظیر انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (بی آئی یو ٹی) ، جو گردے اور یورولوجیکل بیماریوں کے لیے جدید علاج اور تربیت فراہم کرے گا۔ دوسرا کراچی میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف ری پروڈکٹیو ہیلتھ (ایس آئی آر ایچ) ، جو ماں اور تولیدی صحت کے مسائل کو حل کرے گا۔ دونوں ادارے آزاد بورڈز کے تحت کام کریں گے، اور تحقیق، پوسٹ گریجویٹ تربیت، اور اعلیٰ معیار کی صحت کی خدمات فراہم کرینگے۔

کراچی سیف سٹی پروجیکٹ :

سندھ کابینہ نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے C5ISR کمانڈ سینٹر کے لیے تیسرے فریق کے مشیر کے طور پر این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی تعیناتی کی منظوری دی۔ تعمیراتی کاموں کی نگرانی اور تصدیق کے لیے 130 ملین روپے کی کنسلٹنسی کی لاگت منظور کی گئی، جس سے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبے کو دوبارہ شروع کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا جا سکے گا۔

لائیو اسٹاک سیکٹر کی جدید کاری کا اقدام:

سندھ کابینہ نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے فریم ورک کے تحت گرین کارپوریٹ لائیو اسٹاک انیشیٹو کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری کی منظوری دی تاکہ جدید نسل افزائی کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے لائیو اسٹاک کو جدید بنایا جا سکے۔یہ پانچ سالہ پروگرام سیکسڈ سیمین اور ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی متعارف کرائے گا، دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرے گا اور کسانوں کی آمدنی بہتر بنائے گا۔ ابتدائی طور پر منصوبے کے لئے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اگلے سال کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے جائیں گے۔

ایم-9 انٹرچینج سے رابطوں میں بہتری:

اہم انفراسٹرکچر مسائل کو حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ نے ایم-نائن موٹروے پر انٹرچینج کی تعمیر کے لیے 1.235 ارب روپے کی منظوری دی، جس سے این-فائیو لنک روڈ مکمل ہو جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق یہ منصوبہ سفری وقت میں نمایاں کمی لائے گا اور بڑی شاہراہوں کے درمیان بھاری اور تجارتی ٹریفک کی روانی کو بہتر بنائے گا۔لیاری انفراسٹرکچر بحالی منصوبہ:

سندھ کابینہ نے لیاری میں سڑکوں اور زیرِ زمین سہولیات کی بحالی کے لیے 1.45 ارب روپے کی منظوری دی، جس کی فنڈنگ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ معاوضے سے کی جائے گی۔ یہ منصوبہ نیسپاک کی تکنیکی معاونت سے مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت لیاری ٹرانسفارمیشن پلان کے وسیع تر دائرہ کار میں نقل و حرکت، نکاسی آب اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔

قانونی اصلاحات اور عدالتی تقرریاں:

آئینی تبدیلیوں کے مطابق کابینہ نے سندھ کرمنل پراسیکیوشن سروس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی، جس کے تحت پراسیکیوٹر جنرل کے لیے کم از کم عمر کی حد 45 سال سے کم کر کے 40 سال کر دی گئی۔ کابینہ نے اہم تقرریوں کی بھی توثیق کی، جن میں جسٹس (ر) نعمت اللہ پھلپوٹو کو چیئرمین سندھ سروسز ٹریبونل اور حلیم احمد کو انسدادِ بدعنوانی عدالت، لاڑکانو کا اسپیشل جج مقرر کرنا شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ فیصلے سندھ حکومت کے جامع طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سماجی بہبود، ادارہ جاتی اصلاحات اور معاشی جدید کاری کو یکجا کر کے عوام کو عملی فوائد پہنچانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button