ایس بی سی اے نے تعمیراتی اجازت ناموں کی چاروں کیٹیگریز کی آٹومیشن کے لیے ایک ماہ کی مدت مقرر کردی

سندھ کے وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بیک اینڈ آٹومیشن، ڈیجیٹل انٹیگریشن اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ایک جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ریگولیٹری نظام کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اپنے بیان میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں سنگل ونڈو فیسیلٹی کے کامیاب آغاز کے بعد ایس بی سی اے نے تعمیراتی اجازت ناموں کی تمام اقسام کے لیے بیک اینڈ پراسیسز کو آٹومیٹ کر کے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا، سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا، غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا اور شہریوں، بلڈرز، آرکیٹیکٹس، انجینئرز اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کو سہولت فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی قیادت اور ہدایات کے تحت حکومتِ سندھ ایسے اصلاحاتی اقدامات کر رہی ہے جن کے ذریعے سرکاری اداروں کو زیادہ مؤثر، جوابدہ، قابلِ رسائی اور عوامی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن حکومتِ سندھ کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے، جس کا محور کاروبار میں آسانی، منظوریوں کے عمل میں شفافیت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایس بی سی اے نے کابینہ کے فیصلے کے مطابق مقررہ مدت کے اندر اپنا سافٹ ویئر سسٹم سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ، ایس بوس، کے ساتھ کامیابی سے منسلک کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے اور ایس بوس کے درمیان یوزر ایکسیپٹنس ٹیسٹ، یو اے ٹی، کی باضابطہ دستخطی تکمیل انٹیگریٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو آپریشنل کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے نے ڈیجیٹل نظام کے مؤثر نفاذ اور بلا رکاوٹ آپریشن کے لیے درکار ہارڈ ویئر کی خریداری کا عمل بھی ایس پی پی آر اے قواعد کے مطابق شروع کر دیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اپ گریڈڈ نظام کے تحت درخواستوں کی آن لائن جمع کرانے، چالان کی ای پیمنٹ، ریئل ٹائم ٹریکنگ، ایس ایم ایس الرٹس، پروفیشنلز اور محکموں کے لیے منظم ڈیش بورڈز، ای سرٹیفکیشن اور ڈیجیٹل منظوریوں جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیک اینڈ آٹومیشن اور ایس بوس کے ساتھ انٹیگریشن سے تعمیراتی اجازت ناموں کا عمل زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹریک ایبل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ منفرد ٹریکنگ نمبرز، تصدیق شدہ منظوریوں، لائسنسز اور عوام کو تصدیق شدہ ریکارڈ تک رسائی سے تاخیر کم ہوگی، دستی مداخلت کی حوصلہ شکنی ہوگی، بین المحکمہ جاتی رابطہ مضبوط ہوگا اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ ایس بی سی اے اسی طرز پر سندھ بھر کے تمام ریجنل دفاتر کو آٹومیٹ کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد صوبے بھر میں ایک یکساں، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ سندھ کے تمام اضلاع میں شہری اور اسٹیک ہولڈرز بہتر خدمات سے مستفید ہو سکیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ایس بی سی اے سندھ بھر میں گرین بلڈنگ کوڈز کے نفاذ اور اختیار کرنے کے لیے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، آئی ایف سی، کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام توانائی کی بچت، ماحولیاتی پائیداری اور جدید تعمیراتی طریقوں کو فروغ دے گا، جبکہ گرین بلڈنگز کو تعمیراتی شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک فائدہ مند اور پائیدار انتخاب کے طور پر سامنے لائے گا۔سید ناصر حسین شاہ نے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو، ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سنگل ونڈو فیسیلٹی عاصمہ غیور اور دیگر متعلقہ افسران کی کاوشوں کو سراہا، جنہوں نے مقررہ مدت کے اندر تعمیراتی اجازت ناموں کی باقی کیٹیگریز کی ڈیجیٹائزیشن کا کام مکمل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس بی سی اے کی ڈیجیٹل اصلاحات غیر ضروری تاخیر کو کم کرنے، عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے اور تعمیرات سے متعلق منظوریوں کو ایک واضح، شفاف اور ٹریک ایبل ڈیجیٹل نظام کے تحت پراسیس کرنے میں مدد دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ ایسی تمام اصلاحات کی مکمل حمایت جاری رکھے گا جو بہتر طرزِ حکمرانی، پائیدار شہری ترقی اور سندھ کے عوام کے لیے بہتر سروس ڈیلیوری کو فروغ دیتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button