وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی بورڈ کے 52 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انفراسٹرکچر، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی سے متعلق مختلف اسٹریٹجک منصوبوں کی منظوری دی اور ان پر غور کیا، جن کا مقصد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سندھ کی سماجی و معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر شاہ، جام خان شورو، اسماعیل راہو اور ضیاء الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، اراکین سندھ اسمبلی غلام قادر چانڈیو اور قاسم سومرو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔
*پی پی پی منصوبوں کو عالمی سطح پر پذیرائی*
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کے چار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقدہ اقوام متحدہ اقتصادی کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) کے دسویں بین الاقوامی پی پی پی فورم میں عالمی کیس اسٹڈیز کے طور پر منتخب کیا گیا۔21 ممالک سے جمع کرائے گئے 139 پی پی پی منصوبوں میں سے صرف 69 منصوبوں کو عالمی سطح پر یو این ای سی ای پی پی پی فورم کمپینڈیم میں شامل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا جبکہ سندھ کے پی پی پی یونٹ کی جانب سے بھیجے گئے تمام چار منصوبے منتخب کر لیے گئے۔منتخب منصوبوں میں ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ (ٹی ٹی آئی)، شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے، ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز (ای ایم اوز) اور جنگلات کے ذریعے کاربن اخراج میں کمی کا منصوبہ شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کے ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اینڈ کالج (ٹی ٹی آئی سی) منصوبے کو “سب سے زیادہ مؤثر منصوبوں” میں شامل کرتے ہوئے ایک خصوصی اجلاس میں پیش کیا گیا، جس میں 60 سے زائد ممالک کے 600 سے زیادہ شرکاء، حکومتی نمائندے، سرمایہ کار اور ترقیاتی ماہرین شریک تھے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ عالمی سطح پر پذیرائی سندھ کے پی پی پی فریم ورک کی مضبوطی اور پائیدار ترقیاتی اہداف اور عالمی بہترین طرزِ عمل سے اس کی مطابقت کا مظہر ہے۔
*سائٹ منصوبہ، اساتذہ کی تعلیم کو مضبوط بنانے کی جانب قدم*
پی پی پی پالیسی بورڈ نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کے تحت پیش کیے گئے سندھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (سائٹ) منصوبے پر غور کیا۔بورڈ کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن ایکٹ 2025 کے تحت سائٹ کو ایک خودمختار ڈگری دینے والے ادارے کے طور پر قائم کیا ہے جو اساتذہ کی تعلیم، تعلیمی تحقیق اور قائدانہ صلاحیتوں کی ترقی کے لیے وقف ہوگا۔منصوبے کا مقصد سندھ کے ٹیچر ایجوکیشن سسٹم میں ہے خصوصاً صوبے بھر کے 30 ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹس میں جاری چار سالہ بی ایڈ پروگرامز کے لیے قابل اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا ہے۔بورڈ کو بتایا گیا کہ زندگی ٹرسٹ کے ذیلی ادارے اور غیر منافع بخش تنظیم میسرز دربین نے سائٹ کے قیام، انتظام اور آپریشن کے لیے غیر طلب شدہ تجویز جمع کرائی ہے۔بورڈ کو دربین اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے درمیان تعاون سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کے تحت پاکستان کے تناظر سے ہم آہنگ اساتذہ کی تربیت کے لیے ایم فل نصاب تیار کیا جا رہا ہے۔پی پی پی پالیسی بورڈ نے تصوراتی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے اس منصوبے کے لیے ڈیو ڈیلیجنس اور ٹرانزیکشن ایڈوائزری خدمات انجام دینے کی غرض سے سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے زیرِ استعمال موجود ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کے کنسورشیم کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
*این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک*
پی پی پی پالیسی بورڈ نے این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا، جو کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ذیلی ادارے انرٹیک ہولڈنگ کمپنی کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔بورڈ کو بتایا گیا کہ کنسیشن معاہدے پر پہلے ہی دستخط کیے جا چکے ہیں جبکہ سائٹ کلیئرنس اور ابتدائی کام جاری ہیں۔اجلاس میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون (ایس ٹی زیڈ) کا درجہ دینے میں تاخیر کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر بھی غور کیا گیا، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط سے متعلق وفاقی پابندیوں کے سبب سامنے آئی ہیں۔حکام نے ایس ٹی زیڈ کا درجہ نہ ملنے کی صورت میں متبادل اسٹرکچرنگ آپشنز بھی پیش کئے۔ بورڈ کو بتایا گیا کہ ایک مجوزہ ڈھانچے کے تحت حکومت پر غیر فروخت شدہ کمرشل اسپیس خریدنے کی ذمہ داری صرف اس صورت میں عائد ہوگی جب کمرشل آپریشنز شروع ہونے کے تین سال بعد بھی آکوپینسی 60 فیصد سے کم رہے۔بورڈ نے ایس ٹی زیڈ کی منظوری کے حصول کے لیے وفاقی حکام کے ساتھ رابطے جاری رکھنے اور ساتھ ہی متبادل منصوبہ جاتی اسٹرکچرنگ میکانزم کو مزید بہتر بنانے کی اجازت دے دی۔
*کراچی پورٹ تا قیوم آباد کاریڈور منصوبہ*
بورڈ نے کراچی پورٹ تا قیوم آباد کاریڈور منصوبے سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی، جو کراچی پورٹ کو جام صادق انٹرچینج سے ملانے والا ایک بڑا ایلیویٹڈ کاریڈور ہے۔16.5 کلومیٹر طویل اس منصوبے میں 10.4 کلومیٹر ایلیویٹڈ اسٹرکچر اور 6.1 کلومیٹر ایمبینکمنٹ سیکشنز شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بولی کا عمل سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ایس پی پی آر اے) ای پی اے ڈی ایس کے تحت الیکٹرانک طریقے سے بین الاقوامی مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیا گیا۔تکنیکی اور مالیاتی جائزے کے بعد ایک کمپنی/فرم سب سے کم بولی دینے والی قرار پائی۔پی پی پی پالیسی بورڈ نے مذکورہ کنسورشیم کو کامیاب بولی دہندہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ ادارے کو کنسیشن معاہدوں اور مالیاتی دستاویزات پر دستخط کرنے کی اجازت دے دی۔






