خیبر پختونخوا حکومت کا تاریخی اقدام،14 ہزار ایڈہاک اساتذہ کی مستقلی کیلئے وزارتی کمیٹی کا اصولی فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ایڈہاک اساتذہ کیلئے ایک بڑا اور تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے 14 ہزار اساتذہ کی مستقلی پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارتی کمیٹی کا اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، مشیر خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد خان، ایڈیشنل سیکرٹری فوزیہ، ڈائریکٹر ابتدائی و ثانوی تعلیم نغمانہ سردار سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد خان نے اجلاس کو ایڈہاک اساتذہ کی مستقلی سے متعلق کیس، قانونی و انتظامی پہلوؤں اور اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں سال 2022 میں بھرتی ہونے والے اُن اساتذہ کی مستقلی کی منظوری دی گئی جو مختلف انتظامی وجوہات کی بنا پر ریگولرائزیشن کے عمل سے رہ گئے تھے۔ وزارتی کمیٹی نے ان اساتذہ کو مستقل بنیادوں پر ریگولر کرنے پر اصولی اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس کی باقاعدہ منظوری صوبائی کابینہ اور پھر صوبائی اسمبلی سے حاصل کی جائے گی۔اجلاس کے دوران مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ ریگولرائزیشن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے فوری بعد ایک میہنے کے اندر اپنے سی پی فنڈ اکاؤنٹس کھولیں تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 12 فیصد شیئر سے بروقت استفادہ حاصل کیا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیم دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈہاک اساتذہ کی مستقلی ان کا جائز حق تھا اور حکومت نے اس حق کی فراہمی کیلئے عملی پیش رفت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے صوبے کے مختلف اضلاع کے تقریباً 14 ہزار میل و فی میل اساتذہ مستفید ہوں گے، جس سے نہ صرف اساتذہ کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ تعلیمی نظام مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button